جمہوری ’‘شیر اور’ ریشماں‘ جوان ہوگئے

جمہوری ’‘شیر اور’ ریشماں‘ جوان ہوگئے
جمہوری ’‘شیر اور’ ریشماں‘ جوان ہوگئے

  

پنجاب اسمبلی پریس گیلری( نوازطاہر /خبر نگار خصوصی ) پنجاب کی سولہویں اسمبلی نے حلف اٹھا لیا ہے اور جمہوریت جوانی کی ایک اور سیڑھی چڑھ گئی ہے ۔’ شیر آیا ، شیر آیا ‘ کے نعروں سے جب پنجاب اسمبلی کا افتتاحی اجلاس شروع ہوا تو اس وقت ایوان میںہر طرف شیر کے انتخابی نشان پر جیت کر آنے والے اراکین ہی کے سر دکھائی دے رہے تھے ۔ ایک کونے میں پی ٹی آئی ، ق لیگ اور پیپلز پارٹی کے اراکین بھی چند خواتین کے ساتھ موجود تھے جن کی مجموعی تعداد بھی لیگی اراکین کی مخصوص نشستوں پر نامزد خواتین سے کم تھی ۔ماضی کی اسمبلیوں کے افتتاحی سے اختتامی سیشن تک کی روایت کے مطابق خیال کیا جا رہا تھا کہ ایوان میں سیاسی مخالفین کیخلاف نعرہ بازی ہوگی لیکن پرانی روایات کے برعکس کسی بھی جماعت نے کسی کے خلاف نعرہ نہیں لگایا ۔ طویل آمریت کے بعد جب1985ءمیں غیر جماعتی الیکشن کے نتیجے میں اسمبلی قائم ہوئی تب بھی ’کچھ لوگوں‘ نے نعرہ بازی کر کے فوجی قیادت کو خوش کیا ۔ تین سال بعد جب جمہوریت بحال ہوئی تو آمریت کیخلاف نعروں کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا یہ نعرے سول قیادت کو بھی آمریت سے نتھی کرکے لگائے جاتے رہے ۔اکتوبر 1999ءمیں ایک اور فوجی ایکشن کے بعد جب 2002ءمیں فوجی جمہوریت کی اسمبلی قائم ہوئی تب بھی آمریت کیخلاف نعرے لگے ۔2008ءمیں ملک کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے اکثریت حاصل کرکے مخلوط حکومت بنائی تو بھی ’وردی والے چاچا‘ کی وردی اترنے سے لیکر بیرون ملک جانے تک نعرہ بازی ہوتی رہی ۔ مخلوط حکومت ختم ہونے پر ایوان میں صدر زرداری نعروں کی زد میں آگئے ۔ 11مئی کے الیکشن میں پیپلز پارٹی کی شکست اور پی ٹی آئی دوسری بڑی پارلیمانی پارٹی بننے پر بھی خیال تھا کہ پرانے نعرے پھر سے سنے جائیں گے لیکن خوشگوار حیرت یہ ہوئی کہ ایوان میں ایک بھی مخالفانہ نعرہ نہیں لگا ۔ ۔ایوان میں صرف میاں شہباز شریف کی آمد پر ہی مسلم لیگی قیادت کے حق میں نعرے لگائے گئے ۔ جس وقت میاں شہباز شریف ایوان میں موجود نہیں تھے اور حلف برداریہ کا اجلاس شروع ہوچکا تھا تو ان کے انتظار میں مرغوب ہمدانی سے ایجنڈے سے ہٹ کر ایک اور نعت۔ رسولﷺ پڑھنے کی فرمائش کی گئی ، انہوں نے ابھی دوسری نعت شروع کی ہی تھی کہ میاں شہباز شریف ایوان سے ملحقہ لابی میں پہنچ کر رک گئے تاکہ ان کے آنے پر نعروں کی صورت میں نعت کا تقدس متاثر نہ ہو تاہم مرغوب ہمدانی کو دوسری نعت مکمل نہ کرنے دی گئی اور شہباز شریف ایوان میںداخل ہوئے جس پر کچھ دیر مسلم لیگی قیادت کے حق میں تونعرے لگائے گئے میں لیکن کوئی ایک بھی ایک بھی مخالفانہ نعرہ نہیں لگا ۔ پیپلز پارٹی ، تحریک انصاف ، مسلم لیگ ق اور جماعت اسلامی کی نمائندگی موجود ہونے کے باوجود کسی رکن نے اپنی قیادت کے حق یا مخالفین کیخلاف نعرہ بلند نہ کیا ۔پریس گیلری سے ایوان کا یہ صحت مند جمہوریت کا ماحول بہت دیدنی تھا کہ جمہوریت کس قدر حسن رکھتی ہے کہ جس فاروق لغاری کو مسلم لیگ ن نے ایوانِ صدر سے رخصت کیا اور اس سے پہلے مہران بینک سکینڈل میں ’تماشا‘ بنایا اس کے خاندان اب اس جماعت کی حمایت کر رہا تھا اور ان کے بھتیجے سینیٹر محسن لغاری سپیکر گیلری میں جمہوریت کا یہ حسن بھی دیکھ رہے تھے ۔جمہوریت کی اس خوبصورتی اور حسن کو پریس گیلری میں بھی سراہا گیا ۔پریس گیلری میں تبصرہ کیا کہ سولہواں سال جوانی کا سال کہلاتا ہے اس طرح موجودہ اسمبلی نے بھی کسی کیخلاف نعرہ نہ لگا کر جمہوری پختگی کا ثبوت پیش کیا ہے کہ یہاں جمہوریت کی ’ریشماں ‘ بھی جوان ہوگئی ہے ۔

مزید : ڈیلی بائیٹس