ماں بولی ،من بولی ،جگ بولی

ماں بولی ،من بولی ،جگ بولی
ماں بولی ،من بولی ،جگ بولی
کیپشن: ehsaan alahi

  

ماں کی لوری کے پہلے بول اور کان میں پڑنے والی پہلی آواز ماں بولی کی بنیاد ہوتے ہیں۔ماں کے منہ سے بولے گئے چند بول ایک بچے کی سب سے پہلی یاد ہوتے ہیں۔ماں کی زبان خودبخود بچے کی زبان بننے لگتی ہے۔یہ ننھا بچہ ابتدائی عمر کی منزلیں طے کرتا ہوا جیسے ہی سکول کے دروازے تک پہنچتا ہے، اس کے سامنے زبان و بیان کی ایک نئی دنیا کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ اب ماں بولی کے میٹھے بول ہر گزرتے دن کے ساتھ لاشعور کی تہوں میں بیٹھنا شروع کر دیتے ہیں اور شعور کی دنیا کے شور میں اس کے کان اپنی ماں کی آواز نہیں سن سکتے۔ماں اور بچے پر تحقیق کرنے والے نفسیات دان تو یہاں تک کہنا شروع ہو گئے ہیں کہ بچہ ماں کے پیٹ میں بھی اپنے ساتھ کی جانے والی بات چیت سن سکتا ہے(راقم نفسیات کے علم سے اپنی پہلی محبت کا اثر آج بھی اپنے اندر ویسا ہی محسوس کرتا ہے جیسا کہ سال اول کے طالب علم کے طور پر کیا کرتا تھا) جب پہلی بار جاپان کے روایتی کلچر کے متعلق یہ بات پتہ چلی کہ جاپانی ”امید کے دن“ کو ہی بچے کی پیدائش کا دن قرار دے دیتے ہیں تو بہت عجیب لگا، لیکن آج کی تحقیق نے ایک بار پھر مشرق کی دانش کو سائنس کی دانش سے بالاتر ثابت کر دیا ہے۔

انسان کچھ بھی کرلے، ماں بولی کی چاہت اور چاشنی کسی دوسری زبان سے حاصل نہیں کر سکتا۔اپنی ماں بولی کا مخصوص لہجہ، لفاظی اور تلفظ جو لطف دیتا ہے، وہ دوسری کسی زبان میں ٹرانسلیشن کے ساتھ ہی اپنی اصل کھو دیتا ہے۔ہر بولی اپنے اندر ایک تہذیب سموئے ہوئے ہوتی ہے اور تکنیکی طور پر کوئی لفظ، جملہ یا تاثر من و عن ایک سے دوسری زبان میں ٹرانسلیٹ نہیں کیا جا سکتا۔اکثر ترجمے لسانیات کی اصلاح میں ”ٹرانسلٹریشن“ ہوتے ہیں نہ کہ ٹرانسلیشن.... راقم کی مادری زبان پنجابی ہے اور لہجہ سیالکوٹی۔اس مخصوص لہجے میں بات کرنے والا ہر واقف یا ناواقف شخص اپنا سگا ننہالی رشتے دار ہی نظر آتا ہے۔ماں کا لہجہ اور الفاظ کسی اور کے منہ سے سن کر اپنائیت اور محبت کا سمندر ٹھاٹھیں مارنے لگتا ہے۔راقم ایک کثیر ملکی مالیاتی ادارے میں کئی سال ملازمت کرتا رہا ہے۔اسی بلڈنگ میں دو اور غیر ملکی کمپنیوں کے دفاتر بھی تھے۔ہمارا دفتر جس کمپنی کی ملکیت تھا، اس کا اپنا ہیڈ آفس بھی اسی بلڈنگ کے دو فلورز پر مشتمل تھا۔کمرشل بلڈنگ کا پارکنگ فلور ایک دوسرے سے سلام دعا اور شناسائی کا بہترین ذریعے ہوا کرتا ہے،لہٰذا آتے جاتے چند لوگوں سے اچھی واقفیت ہو جاتی ہے۔افضال صاحب کے ایس بی پمپس کے ایڈمن منیجر تھے، جن سے میل ملاقات پارکنگ کے علاوہ بھی ہوتی رہتی تھی۔ہم ہمیشہ ایک دوسرے سے اردو میں بات کرتے تھے اور تقریباً سات سال سے ایک دوسرے کے گرم جوش واقف تھے۔

ایک دن دفتری اوقات میں ان کے دفتر جانے کا اتفاق ہوا۔وہ فون پر کسی سے ایک مخصوص پنجابی لہجے میں بات کررہے تھے، جیسے ہی میرے کان میں ان کی آواز پڑی ایک خوشگوار لذت نے چاروں طرف ڈیرے ڈال دیئے۔ مَیں نے پوچھا، آپ کا آبائی شہر کون سا ہے؟ ”کہنے لگے لالہ موسیٰ، میرا گاﺅں بدھوکالس ہے اور میرا تعلق سید فیملی سے ہے۔مَیں نے پوچھا فضل حسین شاہ صاحب آپ کے کیا لگتے ہیں؟کہنے لگے وہ میرے سگے ماموں ہیں! مَیں نے کہا وہ ہمارے سکول کے ہیڈ ماسٹر ہوا کرتے تھے اور مَیں ان کا چہیتا شاگرد،بلکہ ان کا بیٹا ڈاکٹر علی میرا بہترین دوست بھی ہے جو اب آسٹریلیا چلا گیا ہے۔ہم دونوں خوشیوں بھری حیرت سے ایک دوسرے کا منہ دیکھ رہے تھے۔مَیں نے کہا افضال بھائی اگر مَیں آج آپ کو پنجابی بولتا ہوا نہ سنتا تو اگلے ستر سال میں بھی لالہ موسیٰ کے افضال حسین شاہ سے نہ مل سکتا جو کے ایس بی پمپس کے افضال صاحب کے اندر ہی چھپا بیٹھا تھا۔ماں بولی نے ایک لمحے میں وہ سفر طے کر لیا، جو من بولی سے سات سالوں میں نہ ہو سکا۔

ہماری قومی زبان اردو ہے جو سارے ملک میں پڑھی لکھی بولی اور سمجھی جاتی ہے۔بڑے شہروں میں تو عام بول چال کی زبان کا درجہ بھی اردو ہی کو حاصل ہے، جبکہ قصبوں اور دیہاتوں میں اردو مہمانوں سے ہی بولی جاتی ہے یا پھر اب متوسط طبقہ اپنے بچوں کے ساتھ اپنی مادری زبان میں بات چیت کرنا آﺅٹ آف فیشن سمجھتا ہے۔کم تعلیم یافتہ اور نسبتاً کم آمدنی والا طبقہ بھی اپنے بچوں کو انگلشن میڈیم سکول میں پڑھانا اور اپنے بچوں سے اردو میں بات کرنا چاہتا ہے۔اگر تمہارا رویہ اگلی چند نسلوں تک ایسا ہی رہا تو ہماری علاقائی زبانیں اور مخصوص لہجے اپنی موت آپ مر جائیں گے۔ظاہری،طبقاتی تقسیم نے کتنی خاموشی سے ہماری اصل کو دھندلا دیا ہے۔راقم اکثر سوچتا ہے کہ وہ کون ہے ، جس نے پنجابی بولنے والے پاکستانیوں کے ذہنوں میں یہ بات راسخ کر دی ہے کہ پنجابی بولنے والا ان پڑھ اور گنوار ہے اور اردو یا انگریزی میں بات کرنے والا پڑھا لکھا اور عقلمند۔

 میرے ایک عزیز حال ہی میں جنوبی کوریا سے پاکستان واپس آئے ہیں۔ انہوں نے ایک لمبا عرصہ دارالحکومت سیول کے نواح میں ایک ٹیکسٹائل مل میں ملازمت کی ہے۔ایک دفعہ ان کے پاس کینیڈا سے ایک صاحب مل کے دورے پر آئے۔تعارف کے دوران میرے عزیز نے پوچھا آپ کی شکل صورت ایشیائی لگتی ہے۔آپ کا تعلق کس ملک سے ہے۔کہنے لگا، مَیں سکھ ہوں اور میرا تعلق پنجاب سے ہے۔انہوںنے دوبارہ پوچھا کون سا پنجاب انڈین پنجاب یا پاکستانی پنجاب؟ کہنے لگا صرف پنجاب(یہ بات چیت آخری تھی جو انگریزی میں کی گئی)اس تعارف کے بعد جتنے دن سردار جی وہاں رہے ،ہر شام فائیو سٹار ہوٹل کی بجائے میرے عزیز کے یہاں روائتی پنجابی کھانوں کے لطف اٹھاتے رہے۔ماں بولی نے ان دونوں کے درمیان کاروباری رشتے کو ”ماں واری“ رشتے میں بدل دیا۔

راقم کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک پروفیشنل ٹرینر بھی ہے۔ایک دفعہ سکھر میں ایک ہفتے کی ٹریننگ کروانے کے لئے گیا۔یہ اندرون سندھ میرا پہلا دورہ تھا۔مئی جون کے دن تھے اور شاید اس روز درجہ حرارت 52سینٹی گریڈ تو ہوگا! (وہاں پہنچے تو پتہ چلا گرمی کیا ہوتی ہے، ہم لاہور کی گرمی برداشت کرکے خود کو بڑا چیمپئن سمجھتے تھے) پہلے دو روزاردو اور انگریزی بول بول کر مت ماری گئی۔تیسرے روزجب ٹرینی اور ٹرینر کے درمیان فاصلہ قدرے سمٹ گیا تو راقم نے پوچھا آپ میں سے سب لوگ سندھ سے ہی تعلق رکھتے ہیں یا کوئی پنجاب سے بھی ہے۔ایک لڑکی بولی: ”سر جی! ”مَیں لاہور دی آں“.... مَیں نے تڑپ کر کہا: ”خبردار، جے میرے نال اردو یا انگریزی وچ گل کیتی.... اج سیشن ختم کرکے آدھا گھنٹہ رج کے پنجابی بولاں گے“۔ اس روز احساس ہوا کہ ماں بولی کی اہمیت کیا ہوتی ہے۔اردو یا انگریزی چاہے ہمارے لئے اتنی ہی آسان ہو، جتنی کہ ماں بولی، لیکن یہ ہمارے لئے رابطے کی زبانیں ہیں۔ایک آپس میں رابطے کے لئے اور دوسری دنیا سے رابطے کے لئے۔ اپنے آپ سے بات کرنے کے لئے صرف ایک زبان ہے اور وہ ہے اپنی ماں کی زبان!

کچھ عرصہ پہلے ایک بہت قریبی دوست سے کوئی بیس سال بعد رابطہ ہوا....(یہ صاحب امریکہ کے ایک بہت بڑے ہسپتال کے بہت بڑے افسر ہیں) جب ہم فون پر بات کررہے تھے تو وہاں شام کا وقت تھا۔ہم اپنی باتوں میں گم تھے کہ اس کی طرف بچوں کی آواز سنائی دی اور میرا دوست ان سے کچھ بات کرنے کے لئے مجھے ہولڈ کروا کر یہ بھول گیا کہ مجھے اب بھی اس کی آواز آ رہی ہے۔جب وہ دوبارہ مجھ سے بات کرنے لگا تو مَیں نے انگریزی میں بات کرنا شروع کردی۔وہ کہنے لگا“۔ اوہ تینوں کیہہ لڑ گیا اے“ مَیں نے انگریزی میں کہا مجھے تمہاری انگریزی لڑ گئی ہے! وہ اپنے بچوں سے انگریزی میں بات کررہا تھا، جبکہ ماں اور باپ دونوں کا تعلق لاہور سے ہے۔ہم شاید ساری دنیا میں واحد قوم ہیں، جو اپنی ماں اور اپنے ملک کی زبان پر ”جگ بولی“ کو ترجیح دیتے ہیں۔اللہ ہمیں اس دن سے محفوظ رکھے۔جب ہمارے نام بھی انگریزی ہو جائیں!

مزید :

کالم -