پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ اور بزنس کمیونٹی

پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ اور بزنس کمیونٹی
پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ اور بزنس کمیونٹی

  

28تاریخ کا دن پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا، کیونکہ یہ دن پاکستانیوں کو یاد دلاتا ہے کہ آج کے دن پاکستان اسلامی ممالک میں سے پہلا ملک تھا جو ایٹمی طاقت بنا اور پانچ ایٹمی دھماکوں نے ثابت کر دیا کہ علامہ اقبال نے سچ کہا تھا:

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

اور اس سال 28مئی کو دو چاند اس لئے لگ گئے کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے پر پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیوں میں مکمل اتفاق رائے پیدا ہو گیا۔ وزیراعظم محمد نوازشریف کو یہ شرف حاصل ہے کہ 28مئی 1998ء کو پاکستان کا ایٹمی دھماکہ ان کی وزارت عظمیٰ کا کارنامہ ہے اور اب پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ پر مکمل اتفاق رائے بھی انہی کی وزارت عظمیٰ کا کارنامہ ہے۔ بلاشبہ چین کسی بھی سیاسی پسند و ناپسند سے بالا ہو کر پاکستان کا سب سے قابل اعتماد دوست ہے اور چین کی بے انتہا خواہش ہے کہ پاکستان اقتصادی میدان میں ایشیا کا ٹائیگر بن کر ابھرے ،چنانچہ اس مقصد کے لئے چین ہر شعبہ میں پاکستان کو ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے ذریعہ سے مکمل تعاون دے رہا ہے۔ آج کل کے زمانہ میں کوئی بھی مغربی ملک اپنی معمولی سی ٹیکنالوجی پاکستان کو ٹرانسفر کرنے کے لئے تیار نہیں ہے، لیکن چین نے بے شمار شعبوں میں پاکستان کو دفاع سے لے کر زراعت تک اپنی ٹیکنالوجی ٹرانسفر کی ہے، جس سے پاکستان کی معیشت میں بہت اہم تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ اب چین اور پاکستان کے باہمی رشتوں میں ایک بہت بڑی تبدیلی آئی ہے اور پہلی بار پاکستان مسلم لیگ(ن) کی حکومت اور نوازشریف کی قیادت پر اعتماد کرتے ہوئے چین نے پاکستان کے ساتھ چھیالیس ارب ڈالر کے سرمایہ کاری کے معاہدے کئے ہیں۔

پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی وجہ سے نہ صرف پاکستان کی معاشی حالت بہتر ہو جائے گی، بلکہ آس پاس کے ممالک کو بھی پاکستان کی وجہ سے بہت فائدہ پہنچے گا۔ منسٹری آف پلاننگ اینڈ ڈویلپمنت کے وزیر احسن اقبال نے پہلے بھی آل پارٹیز کانفرنس میں ان غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کی تھی کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کا روٹ تبدیل کر دیا گیا ہے اور بلا جواز خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی صوبائی حکومتوں نے غلط فہمی کی وجہ سے اتنے بڑے اور اہم منصوبے کی مخالفت شروع کر دی تھی۔

پاکستان کے بزنس لیڈر افتخار علی ملک منسٹری آف پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی کمیٹی کے اہم ممبر بھی ہیں۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے وزیراعظم کی پرائم منسٹر ہاؤس میں آل پارٹیز کانفرنس سے دو دن پہلے بزنس کمیونٹی کے اہم ترین نمائندوں کے ساتھ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ پر تفصیلی نشست کا اہتمام اسلام آباد میں اپنی منسٹری کے اندر ہی کیا، جس میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر میاں محمد ادریس، ممتاز بینکار، میاں محمد منشاء، فیڈریشن کے نائب صدور ایسوسی ایشن کے اہم عہدیدار خواتین چیمبرز آف کامرس کے علاوہ چاروں صوبوں کے اہم چیمبرز کے صدور میٹنگ میں شریک ہوئے۔

اس اہم میٹنگ کے بارے میں بات چیت کرتے ہوئے افتخار علی ملک نے بتایا پاکستان کی اس وقت بہت بڑی خوش قسمتی ہے کہ ہماری معیشت روز بروز بہتری کی طرف گامزن ہے۔ دنیا کے تمام مالیاتی ادارے پاکستان کی معاشی پالیسیوں کی تعریف کر رہے ہیں۔دنیا کی معیشتوں کی ریٹنگ کرنے والے ادارے پاکستان کی معیشت کے بارے میں مثبت اشارے دے رہے ہیں۔ حال ہی میں لندن کے سب سے بڑے اقتصادی جریدے نے پاکستان کی معیشت کا تفصیلی جائزہ لیا ہے اور ہر شعبہ میں ترقی کا گراف مثبت جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے پاکستان کی بزنس کمیونٹی کو تفصیل سے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی تفصیل بتائی اور بتایا کہ خنجراب سے شروع ہونے والا منصوبہ جب گوادر تک پہنچے گا تو اس کے روٹ پر صرف سڑک نہیں بنے گی، بلکہ سڑکوں کے ساتھ ریل، ہوائی راستوں اور ہوائی اڈوں، اطراف میں اکنامک زونز اور پاور ہاؤسس کا نیٹ ورک قائم ہو گیا۔جس مغربی روٹ پر اعتراضات کئے جا رہے تھے، اس کے بارے میں وزیراعظم نے فیصلہ کیا ہے کہ اسے سب سے پہلے تعمیر کیا جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ پہلے بھی بزنس کمیونٹی کو پاک چین اقتصادی معاہدوں کے بارے میں اعتماد میں لیا گیا تھا اور حکومت نے کسی جگہ بھی غلط بیانی سے کام نہیں لیا ہے۔ اقتصادی راہداری کا روٹ بالکل منصوبے کے مطابق ہے اور 46ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے جب یہ مکمل ہوگا تو پاکستان کی معاشی خوشحالی کا نیا دور شروع ہو جائے گا۔

منسٹری آف پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی میٹنگ میں کھل کر سوال اور جوابات ہوئے۔ جو تھوڑی بہت غلط فہمیاں موجود بھی تھیں، انہیں وفاقی وزیر احسن اقبال نے دستاویزات کی روشنی میں ختم کر دیا،جس طرح آل پارٹیز کے لیڈران نے مکمل اتفاق رائے کا اظہار کیا ہے۔بالکل اسی طرح بزنس کمیونٹی بھی اب مطمئن ہے۔بزنس کمیونٹی کا اطمینان اس لئے بہت ضروری تھا کہ اکنامک زونز سمیت بے شمار منصوبوں پر پاکستانیوں نے بھی سرمایہ کاری کرنی ہے، کیونکہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی تکمیل سے لاکھوں پاکستانیوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔ فیڈریشن کے عہدیداروں نے بھی دوسرے چیمبرز کے عہدیداروں کی طرح اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ اس منصوبے میں سرمایہ کاری کے جتنے بھی مواقع موجود ہیں، انہیں خفیہ نہیں رکھا گیا ہے، نیز چھوٹے صوبوں کو معاشی ترقی کے سفر میں ساتھ لے کر چلنے سے پوری قوم ترقی کرے گی۔ سرحد پار کچھ لوگوں کے پیٹ میں چین اور پاکستان کے اس میگاپراجیکٹ کی وجہ سے کچھ تکلیف ہے تو ان سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے:

تندیء بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب

یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے

مزید :

کالم -