انقلابات زمانہ

انقلابات زمانہ
انقلابات زمانہ

  

ماضی کے بعض واقعات لوحِ حافظہ پر نمودار ہوتے ہیں تو عجیب کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ جب میں جامعہ پنجاب میں ایم اے عربی کا طالب علم تھا تو اورینٹیل کالج کے وولنر ہاسٹل میں مقیم تھا۔میرے روم میٹ جناب عبدالجبار قریشی تھے۔ مجھ سے ایک سال جونیئر تھے اور وہ بھی جمعیت کے رکن تھے، جبکہ مجھے اس زمانے میں ارکان نے لاہور کا ناظم منتخب کر رکھا تھا۔ ہمارے کمرے میں دوست احباب کی محفل لگی رہتی تھی۔ ہاسٹل کے علاوہ باہر سے بھی طالب علم آتے جاتے تھے جن میں اکثر جمعیت کے ہوتے تھے مگر ذاتی دوست احباب کی آمدورفت بھی جاری رہتی تھی۔ کینٹین سے چائے منگوانے کا عمل خاصا مہنگا تھا۔ ایک دن مہمانوں کے چلے جانے کے بعد قریشی صاحب فرمانے لگے ’’کیوں نہ ہم اپنے کمرے میں چائے بنانے کا اہتمام کرلیں۔‘‘ مجھے ان کی یہ بات عجیب لگی لیکن بعد میں یہ تجربہ بڑا خوشگوار ثابت ہوا۔

قریشی صاحب سے میں نے پوچھا کہ کمرے میں کیسے چائے بنائیں گے؟ کہنے لگے ’’آپ یہ مجھ پر چھوڑ دیں۔ بس آپ پیسے دیں، میں مٹی کے تیل کا چولہا لے آتا ہوں، کیتلی اور کچھ کپ اور ایک آدھ پلیٹ بھی لے آؤں گا ۔‘‘ چنانچہ ایسا ہی ہوا، وہ گئے اور گھنٹے ڈیڑھ گھنٹے میں سارا سامان لے کر آگئے۔ میں جس کام کو مشکل سمجھ رہا تھا، وہ انھوں نے چٹکیوں میں کرکے دکھا دیا۔ اب سوال یہ تھا کہ دودھ کہاں سے آیا کرے گا اور اسے محفوظ کیسے رکھیں گے۔ قریشی صاحب نے کہا سردیوں کے موسم میں صبح کے وقت میں دودھ کی دکان سے دودھ لایا کروں گا اور اسے گرم کرکے ایک برتن میں رکھ دیا کریں گے۔ گرمیوں میں ہم خشک دودھ استعمال کرلیا کریں گے۔ اس روز میں قائل ہوگیا کہ ساہیوال شہر کے رہنے والے لوگ بڑے با سلیقہ ہوتے ہیں۔ قریشی صاحب ایم اے بعد کالج میں لیکچرار لگ گئے اور پھر بطور پروفیسر اور پرنسپل ریٹائر ہوئے۔ اللہ انھیں سلامت رکھے۔

ہمارے کمرے میں محفل جمتی تو اس میں سابق طلبہ بھی آجاتے۔ ایک دن ہم چھ سات ساتھی بیٹھے تھے اور دوستانہ ماحول میں چائے کے ساتھ مہذب لطیفوں کا دور بھی چل رہا تھا۔ ایک دوست نے کہا ’’ایک شخص کو قبض کی بیماری لاحق ہوگئی، وہ حکیم صاحب کے پاس گیا اور انھیں اپنی مشکل بتائی۔ انھوں نے اسے دوائی دی اور کہا کہ ایک ہفتے کے بعد آکر اپنی کیفیت بتانا۔ یوں وہ ایک ہفتہ نہیں دو تین ہفتے ان کے پاس جاتا رہا اور بتاتا رہا کہ شکایت دور نہیں ہوئی۔ آخر انھوں نے پوچھا کہ تم کرتے کیا ہو؟ اس نے جواب دیا کہ جی میں شاعر ہوں۔ حکیم صاحب نے اسے جھڑکی دیتے ہوئے کہا ’’کم بخت پہلے دن کیوں نہیں بتایا تھا۔‘‘

دوائیاں تو وہ مفت دیتے ہی تھے، اب جیب سے کچھ پیسے نکال کر کہا ’’دوائیاں چھوڑ دو، ان کی کوئی ضرورت نہیں۔ جاؤ کسی ہوٹل پر جا کر کھانا کھاؤ۔‘‘ مجلس میں اس وقت ایک شاعر ساتھی موجود تھے، جو اتفاق سے خود حکیم بھی تھے ۔ ان کی رگِ حمیت پھڑکی تو انھوں نے لطیفہ سنانے والے ساتھی سے جو طالب علم ہونے کے ساتھ جز وقتی طور پر روزنامہ کوہستان میں صحافی کے طور پر بھی کام کرتا تھا، چمک کر کہا ’’یہ لطیفہ تم نے اُلٹ کر دیا ہے، وہ مریض شاعر نہیں، صحافی تھا اور میرے ہی مطب پر وہ آیا تھا۔ اب میں دوستوں کو یہ نہیں بتاؤں گا کہ وہ صحافی کون تھا۔‘‘ محفل کشتِ زعفران بن گئی۔ سب دوست بے تکلف تھے۔ حکیم صاحب جب بھی آتے تو اپنی تازہ غزل، نظم یا قطعہ ضرور سناتے اور صحافی دوست ان کو اکثر چھیڑتے رہتے تھے۔

آج مجھے یہ لطیفہ یاد آیا تو میں نے سوچا کہ کیا انقلاباتِ زمانہ ہیں۔ کبھی صحافیوں کا یہ حال ہوتا تھا اور آج صحافی اور اینکرز سونے میں کھیلتے ہیں، بلکہ تلتے ہیں۔ اس ملک میں دولت چند ہاتھوں میں جو سمٹ گئی ہے تو اس میں سیاست دان، نوکر شاہی کے اعلیٰ افسران ، شوبز کے چھلاوے ،سپورٹس مین صحافی اور اینکرز اور اسٹیٹ ایجنٹس سرفہرست ہیں۔ صحافی برادری میں میرے بہترین دوست بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ ان سے محبت و اپنائیت اور دوستی کا تعلق قائم ہے۔ ان میں سے بعض تو اب اس کیفیت میں نہیں ، جو لطیفے میں شاعر اور صحافی کی بیان کی گئی تھی۔ لیکن بہرحال وہ اس ریل پیل میں بھی حصہ دار نہیں، جس کا اوپر تذکرہ ہوا ہے۔ بس اچھا گزارا ہو رہا ہے اور آج کے دور میں یہ بھی بساغنیمت ہے۔ صحافیوں کا ایک گروہ بہرحال ایسا ہے جو واقعی سرمایہ دار اور دولت کے بادشاہ ہیں۔ ان میں بھی اپنے محبوب صحافی کافی تعداد میں ہیں، لیکن اس کلاس میں زیادہ تعداد ان لوگوں کی ہے، جن سے کبھی شناسائی نہیں رہی۔

رہے بے چارے شاعر تو انھوں نے خود کو فلمی دنیا کے سرمایہ داروں کے ہاتھ فروخت کر دیا ، یا پھر اسی طرح حکما سے قبض کا علاج کرواتے رہے جو لطیفے میں بیان ہوچکا۔ جہاں تک حکما کا تعلق ہے ان میں سے چند خوش نصیب اپنی دکان چمکانے میں کامیاب ہوسکے ہیں۔ کئی ایک تو حکمت سے زیادہ ہومیو پیتھی کا سہارا لیتے ہیں جب کہ ان کی اکثریت ہماری طرح بمشکل اپنی سفید پوشی کا بھرم قائم رکھے ہوئے ہے یہ محروم شعرا اور حکما بھی ہماری طرح کسی گمنام شاعر کا شعر گنگنا کر سکون حاصل کرلیتے ہوں گے:

بادشاہت کا اعتبار ہی کیا

احتیاطاً فقیر رہتا ہوں

اور اقبال نے تو کیا خوب فرمایا تھا

مرا طریق امیری نہیں فقیری ہے

خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر

مزید :

کالم -