بجلی کا بل یا بھتے کی پرچی

بجلی کا بل یا بھتے کی پرچی
بجلی کا بل یا بھتے کی پرچی

  

اگر آپ بجلی کے بل کو غور سے دیکھیں تو آپ کو لگے گا کہ اس سے بڑا جگا ٹیکس اور بھتہ خوری اور کہیں ہو ہی نہیں سکتی۔ اس لئے بھی نہیں ہو سکتی کہ باقی جگہوں پر جگا ٹیکس یا بھتہ لینے والوں کو تو پکڑے جانے کا ڈر ہوتا ہے لیکن یہاں تو سب کچھ سرکاری سرپرستی میں کیا جا رہا ہے اور جو بل آپ کو موصول ہو جائے اس کی ادائیگی کرنا آپ پر فرض ہو جاتا ہے وگرنہ میٹر کاٹنے والے فرشتے ٹپک پڑتے ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ نے بجلی کے بلوں میں شامل تمام سرچارجز ختم کرنے کا حکم جاری کیا تو میں نے اپنا بل اٹھا کر غور سے دیکھا اس میں دو خانے بنے ہوئے ہیں ایک پر لکھا ہے ’’میپکو چارجز‘‘ اور دوسرے پر لکھا ہے ’’حکومتی چارجز‘‘ میپکو چارجز کے خانے پانچ ہیں اور گورنمنٹ چارجز کے 13 یعنی 13 مدات کے چارجز حکومت ایک بل پر وصول کر رہی ہے۔ جتنے کی بجلی ہوتی ہے، گورنمنٹ چارجز بھی اتنے ہی ہوتے ہیں، گویا جو یونٹ میپکو 10 روپے کا دیتی ہے وہ صارف تک پہنچتے پہنچتے 20 روپے کا ہو جاتا ہے۔

ان حکومتی چارجز پر نظر ڈالیں تو صاف لگتا ہے کہ حکومتی سرپرستی میں بجلی کے صارفین کے ساتھ غنڈہ گردی ہو رہی ہے۔ ایسی غنڈہ گردی جس کے خلاف داد رسی بھی کہیں نہیں ہو سکتی۔ ہائی کورٹ نے داد رسی کی تو ہے، مگر اسے سپریم کورٹ میں اپیل کر کے حکومت جاری رکھنے کا پھر لائسنس حاصل کرنا چاہتی ہے۔ صارفین کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال کر حکومتی اللے تللے جاری رکھنا ہمارے حکمرانوں کا پرانا وطیرہ ہے۔

بجلی کا بل تو آپ کے پاس بھی موجود ہوگا، ذرا اُسے آج غور سے ملاحظہ کیجئے۔ آپ کے چودہ طبق روشن ہو جائیں گے اور آپ کو سوچ کر چکر آنے لگیں گے کہ کیا یہی وہ جمہوریت ہے جس میں عوام کے ساتھ دن دیہاڑے ظلم ڈھایا جاتا ہے۔ حکومتی چارجز کے حصے میں پہلا ٹیکس الیکٹریسٹی ڈیوٹی ہے۔ چلیں جی مان لیتے ہیں کہ آخر حکومت نے بھی اپنا کاروبار چلانا ہے، اُسے ٹیکس لینے کا حق ہے۔ اس کے بعد آ جاتی ہے پی ٹی وی فیس جو 35روپے ماہوار ہے۔ یہ سیدھا سادہ بھتہ ہے جو صارفین پی ٹی وی کو ادا کر رہے ہیں وہ کیبل والوں کو ماہانہ بل بھی دیتے ہیں اور پی ٹی وی کو یہ ٹیکس بھی۔ چاہے وہ پی ٹی وی دیکھتے ہی نہ ہوں۔ خیر چلو یہ کڑوی گولی بھی نگل لیتے ہیں۔ اس کے بعد ہے جی ایس ٹی، الیکٹریسٹی ٹیکس کے بعد جی ایس ٹی کچھ سمجھ میں نہیں آتا، لیکن یہ سمجھنا حکومت کا کام ہے بھی نہیں، اس نے تو صرف ٹیکس لینا ہے۔ اس کے بعد اگلا خانہ ہے انکم ٹیکس کا چلو اس سے صرفِ نظر کرتے ہیں کہ یہ بڑے صارفین سے وصول کیا جاتا ہے لیکن یہ کیا اس کے بعد اگلے خانے میں درج ہے (Extra Tax) یہ ٹیکس کے بعد ایکسٹرا ٹیکس کی کیا توجیح پیش کی جا سکتی ہے، اس بارے میں اسحاق ڈار ہی بتا سکتے ہیں، بس ، بس ابھی زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں اگلے خانے میں (Further Tax) لکھا ہے۔ ذرا آپ انگریزی زبان کے لفظوں کا جارحانہ استعمال دیکھئے۔ اسے کہتے ہیں مرے کو مارے شاہ مدار۔

صبر سے کام لیں ابھی تو آدھے ٹیکس بھی ادا نہیں کئے آپ نے۔ نئے خانے میں (N.J Surcharge)لکھا ہے۔ یہ نیلم جہلم سرچارج ہے، جس کی وصولی اب ہائی کورٹ نے روک دی ہے، کیونکہ ’’سرچارج‘‘ کی وصولی بجلی فروخت کرنے والی کمپنی کا اختیار نہیں، اب آگے چلتے ہیں۔ اگر آپ کو چکر نہ آتے ہوں تو ان پانچ خانوں میں درج لفظوں کو پڑھ کر آپ کا دماغ ضرور گھومنے لگے گا۔ ایف پی اے ایک سرچارج ہے جو وفاقی حکومت وصول کرتی ہے۔ یہ سرچارج تو صارف سے لیا ہی جاتا ہے، مگر اس کی آڑ میں جو جگا ٹیکس لیا جا رہا ہے، ذرا اُسے بھی ملاحظہ فرمائیں۔ ایک خانے میں لکھا ہے ’’جی ایس ٹی اون ایف پی اے‘‘ دوسرے خانے میں لکھا ہے (Extra tax on Fpa)، تیسرے خانے میں لکھا ہے (Further Tax on Fpa) چوتھے خانے میں لکھا ہے (Income tax on Fpa) اور پانچویں خانے میں درج ہے (Ed on fpa) اب آپ بتائیں یہ Fpa حکومت کے لئے تو سونے کی چڑیا ہے، عوام کے لئے کیا ہے؟ ایک ڈائن ایک ڈراؤنا خواب جو آپ کا لہو نچوڑ رہا ہے۔

ان چارجز کے لئے استعمال کئے گئے لفظوں سے ہی یہ لگتا ہے کہ ان کا کوئی منصفانہ جواز نہیں۔ ایک ہی سرچارج پر مزید اور مزید براں کے لفظوں کا استعمال یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت کا پیٹ نہیں بھر رہا اور وہ عوام کی جیبوں میں موجود وہ پیسے بھی نکال لینا چاہتی ہے جو انہوں نے جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنے کے لئے بچا چھوڑے ہیں۔ حکومت اگر ہائیکورٹ میں ان ظالمانہ ٹیکسوں اور سر چارجوں کا دفاع نہیں کر سکی تو اس کی واحد وجہ یہی ہے کہ ان کا قطعاً کوئی آئینی و قانونی جواز ہی موجود نہیں ایک ڈنڈا ہے جو عوام پر چلایا جا رہا ہے اور اُنہیں اُف کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔ عدالت نے بلا شبہ ایک تاریخی فیصلہ دیا ہے۔ اللہ کرے یہ فیصلہ نافذ بھی ہو جائے کیونکہ ٹیکس لگانے والوں کی عقل عیار ہے جو سو بھیس بنا لیتی ہے۔ عدالت نے تو وصول شدہ رقوم بھی واپس کرنے کا حکم دیا ہے، عوام کے خون پسینے کی کمائی کو مالِ غنیمت سمجھ کر ہڑپ کرنے والوں کو اب یہ حکم عذاب لگ رہا ہو گا۔ ایک عرصے سے سوشل میڈیا پر چیف جسٹس آف پاکستان کے نام ایک اپیل چل رہی ہے، جس میں بجلی کے بلوں میں موجود ظالمانہ سرچارج کے خلاف از خود نوٹس لینے کی درخواست کی گئی ہے۔ اب حکومت اگر ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتی ہے تو یہ معاملہ چیف جسٹس کی عدالت میں آ جائے گا۔ سارے ملک کے کروڑوں عوام کی نظریں اُن پر لگی ہوں گی اور امید کی جانی چاہئے کہ فیصلہ عدل و انصاف کی بنیاد پر عوام کے حق میں ہی آئے گا۔

حکومت بجلی چوری پر سزائیں بڑھانے جا رہی ہے، افسران کے اختیارات میں اضافہ کئے جا رہی ہے، لیکن جو کرنے کا کام ہے وہ نہیں کر رہی۔ بجلی کمپنیوں کے افسران و ملازمین کے خلاف کارروائی کا کوئی موثر نظام وضع نہیں کیا گیا۔ ایک ایف آئی اے ہے جو کبھی کبھار یہ جرأت کر بیٹھتی ہے کہ کمپنیوں کے کرپٹ افسروں پر ہاتھ ڈالے، مگر اُسے جلد ہی اُلٹے پاؤں واپس لوٹنا پڑتا ہے، کیونکہ محکمے کے ملازمین اپنے کرپٹ افسر یا ساتھی کو بچانے کے لئے ہڑتال کر دیتے ہیں، کئی بار تو ایسا بھی ہوا ہے کہ انہوں نے اس افسر کے دفتر کی بجلی ہی بند کر دی، جس نے ان کے خلاف کارروائی کی جرأت کی۔ ہائی کورٹ نے بجا طور پر نکتہ اُٹھایا ہے کہ لائن لاسز کی سزا عام صارفین کو نہیں دی جا سکتی۔ اُنہیں پورا کرنے کے لئے اگر سر چارج بڑھا دیئے جاتے ہیں تو اس کی قانون اجازت نہیں دیتا۔ بجلی کمپنیوں کے کرپٹ افسران نے لائن لاسز کو چھپانے کا حل یہ نکالا ہے کہ ہر ماہ یونٹس کی اوور بلنگ کرتے ہیں جب سے بجلی کمپنیوں میں یہ نظام رائج ہوا ہے کہ جس سب ڈویژن میں جتنے یونٹس موصول ہوں، وہ اتنے کی ہی بلنگ کرے، ایس ڈی او صاحبان کو کھلی چھٹی مل گئی ہے کہ وہ بے تحاشہ اوور بلنگ کریں۔

یونٹس کا بیلنس صحیح رہنا چاہئے۔ حیرت ہے کہ صارفین کے خلاف سخت قوانین بنانے والوں کو یہ خیال نہیں آیا کہ ان کے حقوق کا بھی کچھ تحفظ کریں اوور بلنگ کرنے کی کوئی قانونی سزا ہی نہیں رکھی گئی۔ بس محکمے کے افسروں کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ایسی شکایات پر عملے کے خلاف کارروائی کریں۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ افسران کا جن ملازمین پر تکیہ ہو، اُنہی کے خلاف کارروائی کر سکیں۔ کوئی بھلا اپنے پاؤں پر بھی کلہاڑی مارتا ہے۔ سو بجلی کے صارفین دونوں طرف سے پس رہے ہیں۔ اوور بلنگ سے یونٹس میں اضافہ ہوتو ٹیرف بھی تبدیل ہو جاتا ہے۔ ایک عام آدمی کے لئے بجلی ویسے ہی مہنگی ہے لیکن جب ٹیرف کی تبدیلی سے اُسے 5 یا چھ روپے فی یونٹ زیادہ دینے پڑتے ہیں تو اُس کی رہی سہی کمر بھی ٹوٹ جاتی ہے۔۔۔ ’’اندھیر نگری چوپٹ راج‘‘ والے محکمے کے خلاف عوام کی داد رسی کے لئے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کسی خدائی مدد سے کم نہیں، اللہ کرے یہ فیصلہ پوری طرح نافذ ہو اور عوام کو اس لوٹ مار سے نجات ملے جو سرکاری سرپرستی میں کی جا رہی ہے۔

مزید :

کالم -