تھر میں کول گیسی فیکیشن سے بجلی کی پیداوار کا آغاز

تھر میں کول گیسی فیکیشن سے بجلی کی پیداوار کا آغاز

  

تھر میں کول گیسی فیکیشن کے ذریعے بجلی کی پیداوار شروع ہو گئی ہے، پاور پلانٹ اگرچہ 100میگاواٹ کی استعداد کا ہے تاہم فی الحال اس سے دس میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے، باقی 90میگاواٹ کا پیداواری عمل آئندہ برس شروع ہو گا۔کوئلے کو زیر زمین گیس میں تبدیل کر کے اس سے بجلی پیدا کرنے کے تجربات عرصے سے جاری تھے، اس پراجیکٹ کے انچارج ڈاکٹر ثمرمبارک مند کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ بہت پہلے شروع کیا جانا چاہئے تھا تاہم اب پیداواری عمل شروع ہونے سے امید بندھ گئی ہے کہ اگلے برس تک 100 میگاواٹ بجلی اس پراجیکٹ سے حاصل ہونا شروع ہو جائے گی۔ یہ تجربات کئی سال سے شروع تھے، لیکن ان پر کام تیز رفتاری سے نہیں ہوا،جب کام شروع ہو گیا تو بھی رُک رُک کر چلتا رہا، منصوبے کے لئے فنڈز بھی وقت پر نہیں ملتے رہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ ہماری حکومتیں رینٹل پاور جیسے ناقابلِ عمل منصوبے تو بناتی ہیں، جن سے بجلی کا ایک یونٹ40روپے میں حاصل ہوتا اور کراچی کے ساحل کے قریب کھڑا ایک جہاز ایک یونٹ بجلی پیدا کئے بغیر حکومت سے بہت سی رقم لے اُڑا، لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ ایک مفید منصوبے کے لئے فنڈز نہیں تھے۔ بیورو کریٹک حلقے ڈاکٹر ثمر مبارک مند کے اس منصوبے کو پسند نہیں کرتے تھے، اُن کا خیال تھا کہ یہ کام ہو ہی نہیں سکتا، ڈاکٹر مند ایسے ہی دعوے کر رہے ہیں۔ ایک دوسرے حلقے کا خیال تھا کہ اگر ہو بھی گیا تو بہت مہنگا ہو گا، (یہی خیال شمسی توانائی کے منصوبوں کے متعلق بھی تھا) اس لئے اس پراجیکٹ کے لئے فنڈز کی راہ میں روڑے اٹکائے گئے۔ اگر ہموار طریقے سے کام ہوتا تو پیداوار پہلے بھی شروع ہو سکتی تھی، لیکن خزانے کے ’’محافظوں‘‘ کے پاس رینٹل پاور کے نام پر مفت میں لُٹانے کے لئے تو بہت رقم تھی، ایک ایسے منصوبے کے لئے نہیں تھی، جو صحیح معنوں میں گیم چینجر ثابت ہوسکتا ہے کہ اس منصوبے میں برسوں تک وافر بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے،شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ رینٹل پاور والے ایڈوانس کمیشن دیتے تھے، جبکہ تھر پاور میں ایسا ممکن نہیں ہو گا۔

مزید :

اداریہ -