وفاقی بجٹ 2015-16ء کے لیے کچھ تجاویز

وفاقی بجٹ 2015-16ء کے لیے کچھ تجاویز

  

تحریر: اعجاز اے ممتاز

صدر

لاہور آف کامرس اینڈ انڈسٹری

تاجر برادری امید کررہی ہے کہ وفاقی بجٹ 2015-16ء اسکی اُمنگوں کا ترجمان ہوگا

اشیائے تعیش کی درآمد پر ڈیوٹی بڑھائی جائے

حکومت شمسی توانائی سے چلنے والی مصنوعات بالخصوص ٹیوب ویلوں پر ڈیوٹی صفر کردے

توانائی بحران سے نمٹنے کیلئے ضروری ہے کہ ڈیموں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ توانائی کی پیداوار کے قابلِ عمل منصوبے وفاقی بجٹ ء کا اہم ترین حصہ ہوں

برسرِاقتدار آنے کے بعد سے اب تک حکومت نے جو سمت اختیار کیے رکھی ہے وہ بالکل درست اور پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے بڑی خوش آئند ہے۔ موجودہ حکومت نے کم وقت میں دہشت گردی پر قابو پانے، معاشی چیلنجز سے نمٹنے ،توانائی کے بحران پر قابو پانے اور جی ایس پی پلس سٹیٹس کے حصول جیسے اہم کارہائے نمایاں سرانجام دئیے ہیں ۔ حکومتی کاوشوں کی بدولت تاجر برادری امید کررہی ہے کہ وفاقی بجٹ 2015-16ء اسکی اُمنگوں کا ترجمان ہوگا اور اُس کا عکس بجٹ میں واضح نظر آئے گا۔ضروری ہے کہ وفاقی بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس ہرگز نہ لگایا جائے کیونکہ تاجر برادری ان حالات میں کسی نئے ٹیکس کی متحمل ہرگز نہیں ہوسکتی بلکہ ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں میں ہر ممکن حد تک کمی کرکے ریلیف دینے کی کوشش کی جائے۔ البتہ اُن اشیاء کی درآمد پر ٹیکس اور ڈیوٹیاں بڑھادئیے جائیں جو پاکستان میں تیار ہورہی ہیں۔ اس سے مقامی صنعت کو تحفظ ملے گا اور غیر ضروری درآمدات کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ اسی طرح اشیائے تعیش کی درآمد پر بھی ڈیوٹی بڑھائی جائے۔ اگر کوئی نیا ٹیکس یا ڈیوٹی لگائی گئی یا اِن میں اضافہ کیا گیا تومسائل پیدا ہونگے اور حکومت کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچے گا لہذا حکومت ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے لیے اقدامات اٹھائے۔ مقامی صنعتوں کو تحفظ دینے کے لیے حکومت کو سمگلنگ کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنا اور اس مقصد کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانا ہونگے۔ گذشتہ ایک دہائی سے ملک کو توانائی کے بدترین بحران کا سامنا ہے جس نے جہاں صنعت و تجارت کو تباہ اور پریشان حال عوام کو بلبلانے پر مجبور کیا ہے وہاں ملک کی معاشی نشوونما پر بھی انتہائی منفی اثرات مرتب کیے ہیں لہذا سستی ترین اور وافر ہائیڈل بجلی پیدا کرنے کے لیے ڈیموں کی تعمیر اب ناگزیر ہوگئی ہے۔ توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ ڈیموں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ توانائی کی پیداوار کے قابلِ عمل منصوبے وفاقی بجٹ ء کا اہم ترین حصہ ہوں۔ پاکستان میں توانائی کے متبادل ذرائع کی صورتحال غیرتسلی بخش ہے۔ حالانکہ درجنوں ماہرین یہ کہہ چکے ہیں کہ پاکستان میں سورج کے ذریعے سالانہ ایک لاکھ میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے لہذا حکومت کو متبادل ذرائع سے توانائی کے حصول پر خاص توجہ دینی چاہیے۔ میری تجویز ہے کہ حکومت شمسی توانائی سے چلنے والی مصنوعات بالخصوص ٹیوب ویلوں پر ڈیوٹی زیرو کردے۔ اگر فی الحال یہ ممکن نہیں تو پھر ڈیوٹی انتہائی کم ترین سطح پر رکھے تاکہ ان اشیاء کی قیمتوں میں کمی آئے اور استعمال میں اضافہ ہو جس سے بجلی کے روایتی نظام پر بوجھ میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئے گی۔ گوکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن سب سے زیادہ مسائل زرعی شعبے کو ہی درپیش ہیں جس کی وجہ سے یہ ملکی آبادی کو خوراک و روزگار اور ملکی معیشت کے استحکام میں وہ کردار ادا کرنے سے قاصر ہے جویہ ادا کرسکتا ہے لہذا حکومت کو چاہیے کہ وفاقی بجٹ میں زرعی شعبہ کی بہتری پر خاص توجہ مرکوز کرے۔ حکومت کو چاہیے کہ زرعی شعبہ کو ڈیزل، بجلی اور کھادوں پر خصوصی سبسڈی مہیا کی جائے ۔ حکومت بیجوں اور کیڑے مار ادویات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے موثر نظام قائم کرے۔ یہ میں یہ ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اگر حکومت کاشتکاروں کو معیاری بیج کی فراہمی یقینی بنائے تو زرعی پیداوار میں 25%تک اضافہ ہوسکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ پختہ کھالوں کی تعمیر کے لیے خاطرخواہ فنڈز مختص کرے تاکہ پانی ٹیل تک باآسانی پہنچ سکے اور سیم و تھور کے مسائل میں بھی کمی ہو۔ کاشتکاری کے اخراجات حتی المقدور حد تک کم کرنے کی کوشش کی جائے کیونکہ فصلوں کی کاشت کے اخراجات بہت زیادہ ہیں جبکہ قیمت اخراجات کی مناسبت سے نہیں ملتی۔ حکومت کو چاہیے کہ وفاقی بجٹ میں زرعی تحقیق کے لیے وافر فنڈز مختص کرے کیونکہ تحقیق کا فقدان بھی زرعی پیداوار کی راہ میں آڑے آرہا ہے اور ہم زرعی پیداوار کے حوالے سے خطے کے بہت سے ممالک سے کہیں پیچھے ہیں۔ہائبرڈ ٹیکنالوجی نے زرعی پیداوار کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔ چین اور بھارت میں چاول ، کنولا اور کپاس کی کُل پیداوار کا 80%ہائبرڈ ٹیکنالوجی کے ذریعے ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں ہائبرڈ ٹیکنالوجی کے ذریعے کپاس کی پیداوار زیرو جبکہ مکئی اور چاول کی پیداوار بالترتیب چالیس فیصد اور چھ فیصد ہے۔ حکومت کو ہائبرڈ ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے لیے خصوصی اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ بکھری ہوئی صنعتوں کو یکجا کرنے کے لیے ملک کے ہر حصّے میں انڈسٹریل زون قائم کیے جائیں جہاں صنعتوں کو تمام ضروری سہولیات میسر ہوں۔ حقیقی صنعتکاروں کو صنعت سازی کے لیے ان صنعتی زونوں میں زمین ارزاں نرخوں پر مہیا کی جائے اور اِس امر کو یقینی بنایا جائے کہ اگر کسی وجہ سے یہ صنعت بند ہو جائے تو زمین واپس لے کر کسی صنعتکار کو ہی فروخت کی جائے۔ عالمی منڈی میں مدّ مقابل ممالک کا مقابلہ کرنے کے لیے ان صنعتی زونوں میں واقع صنعتوں کو بجلی اور دیگر ضروریات کم نرخوں پر مہیا کی جائیں۔ اسی طرح تعلیم اور صحت کے شعبوں کے لیے بھی زیادہ سے زیادہ فنڈز مختص کیے جانے چاہئیں تاکہ عوام کو ریلیف ملے ۔

مزید :

ایڈیشن 2 -