خیبر پختونخواہ کے بلدیاتی انتخابات۔۔ دھاندلی کے تناظر میں

خیبر پختونخواہ کے بلدیاتی انتخابات۔۔ دھاندلی کے تناظر میں
خیبر پختونخواہ کے بلدیاتی انتخابات۔۔ دھاندلی کے تناظر میں

  

تحریک انصاف کے قائد عمران خان بار بار یہ اعلان کرتے رہے ہیں کہ اگر خیبر پختونخوا کے انتخابات پر دھاندلی کا ایک بھی الزام دوبارہ لگتا تو وہ دوبارہ انتخابات کروا دیتے۔ بات سننے میں بہت اچھی اور انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق لگتی ہے۔ کہ اگر کسی کو مینڈیٹ پر اعتراض ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ دھاندلی ہوئی ہے تو دوبارہ انتخابات کروا لئے جائیں ۔ جب عمران خان یہ بات کرتے تھے اور ن لیگ والے خاموش رہتے تھے تو عجیب لگتا تھا ۔ کہ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا۔ لیکن ن لیگ والے کہتے تھے کہ ہم اس بات کا عمران خان کو جواب نہیں دے سکتے وقت ہی اس کا جواب عمران خان کو سکھائے گا۔ایسی باتوں کا جواب وقت اور تجربے سے ہی آتا ہے۔ کوئی کسی کو سکھا نہیں سکتا۔

سیاست کے بزرگ صحیح کہتے تھے کہ سیاست کتابیں پڑھنے سے نہیں آتی۔ یہ کرنے سے آتی ہے۔ یہ کوئی کتابی علم نہیں ہے۔ بلکہ عملی فن ہے۔ پہلے عمران خان شریف خاندان کی خواتین کے سیاست میں عمل دخل پر اعتراض کرتے تھے۔ انہیں مریم نواز پر اعتراض تھا۔ لیکن آج ریحام خان تحریک انصاف کی سیاست میں با قاعدہ حصہ لے رہی ہیں۔ بلکہ سوشل میڈیا تو یہ بھی گواہی دے رہا ہے کہ وہ خیبر پختونخوا حکومت کا ہیلی کاپٹر بھی استعمال کرتی ہیں۔ جس کا انہیں قانونی استحقاق نہیں ہے۔ لیکن سیاست میں جائز ہے۔ اس لئے عمران خان ابھی سیاست سیکھ رہے ہیں۔ اس دوران وہ سیاست کو گندا بھی کر رہے ہیں ۔ جیسے کوئی بچہ کھلونے سے کھیلتے ہوئے اسے نقصان پہچاتا ہے۔ لیکن اس کا کوئی حل نہیں ۔ یہ تو انہیں ایسے ہی سیکھنا ہے۔ اور سابق صدر آصف زرداری بھی اسی لئے کہتے ہیں کہ بلاول نے ابھی تعلیم مکمل کی ہے ۔ سیاست انہیں ابھی سیکھنی ہے۔

خدا کی قدرت دیکھیں۔ خیبر پختونخوامیں بلدیاتی انتخابات ہوئے ہیں۔ گو کہ عمران خان کی جماعت نے کوئی ایسی کامیابی حاصل نہیں کی یہ کہا جائے کہ سب جماعتوں کو گیم سے آؤٹ کر دیا ہے۔ بہت بڑی کامیابی مل گئی ہے۔سونامی سب کو بہا کر لے گیا۔ اگر نتائج کا عمومی جائزہ لیا جائے تو سب جماعتوں کو اپنا حصہ ملا ہے۔ آفتاب شیر پاؤ چارسدہ سے جیت گئے ہیں۔ جماعت اسلامی اپر دیر ۔ لوئر دیر سے جیت گئی ہے۔ چترال میں بھی جماعت اسلامی کا اتحاد جیت گیا ہے۔ پشاور میں اے این پی کی کارکردگی اچھی رہی ہے ۔ ویسے بھی اے این پی دو ضلعوں میں جیت گئی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) بھی دو ضلعوں میں برتری ھاصل کر سکی ہے۔ کئی اضلاع میں گیم آراد کے ہاتھ میں ہے۔ اس لئے کسی حد تک نتایج 2013 سے مماثلت رکھتے ہیں۔ انیس بیس کا فرق ہو سکتا ہے۔ لیکن سونامی سب کو بہا کر نہیں لے جا سکا۔ سب سیاسی طور پر اپنے آپ کو زندہ رکھنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ویسے تو انتخابات خونی رہے ہیں ۔ ہلاکتیں بہت ہوئی ہیں۔ یہ تو رہی نتائج کی صورتحال اب ذرا دھاندلی کا جائزہ لیا جائے۔

تحریک انصاف کے صوبائی وزیر گنڈا پور پر بیلٹ بکس چرانے کا الزام ہے۔ پنجاب میں رانا ثناء اللہ کے خلاف مہم چلانے والی اب گنڈا پورکے خلاف کیا کرے گی۔ لوگ گنڈا پور کو لیکر کہہ رہے ہیں کہ حکومت نے بھر پور دھاندلی کی ۔تحریک انصاف کی حلیف جماعت اسلامی جس کے سر پر تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا میں حکومت قائم ہے۔ دھاندلی دھاندلی پکا ر رہی ہے۔ایم کیو ایم بھی دھاندلی کا شور مچا رہی ہے۔ ن لیگ بھی دھاندلی کا شور مچا رہی ہے۔ اور دھاندلی کے ثبوت الیکشن کمیشن کو دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف زرداری دھاندلی دھاندلی پکا ررہے ہیں۔ جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن دھاندلی دھاندلی کا شور مچا رہے ہیں۔اے این پی بھی دھاندلی دھاندلی کا شور مچا رہی ہے۔ اے این پی کے میاں افتخار کی گرفتاری نے دھاندلی دھاندلی کے شور کو زیادہ اونچا کر دیا ہے۔ایسا لگ رہا ہے کہ تحریک انصاف کے علاوہ سب کہہ رہے ہیں کہ دھاندلی ہوئی ہے۔

سوال وہی ہے کہ کیا عمران خان اپنے مطالبہ پر قائم رہیں گے۔ کہ اگر ایک بھی جماعت نے دھاندلی کا الزام لگا یا تو وہ دوبارہ انتخا ب کے لئے تیار ہیں۔ اب تو ساری جماعتیں دھاندلی کا شور مچا رہی ہیں ۔ ثبوت بھی دے رہی ہیں۔ اب آیا نہ اونٹ پہاڑ کے نیچے۔ اب لگ رہا ہے کہ ن لیگ والے ٹھیک کہتے تھے کہ ہم نہیں وقت ہی عمران خان کو سکھائے گا۔ تجربہ کا کوئی نعم البدل نہیں۔ سیاسی علم کتابوں میں نہیں میدان سیاست میں ہی سیکھا جا تا ہے۔ سیاست میں دو اور دو چار نہیں ہو تے۔ ابھی پاکستان کی سیاست اتنی بالغ نہیں ہوئی کہ یہاں آئیڈیل سیاست کا ماحول بن سکے۔ جیت بھی منصفانہ ہو ۔ اور ہار بھی قبول ہو۔ لیکن عمران خان تو اس سب کو ماننے کے لئے تیار ہی نہیں تھے۔ ان کا تو فرمان ہے کہ اگر دھاندلی کا الزام لگ جائے تو دوبارہ انتخاب ہو نا چاہئے۔ اب ان کے اپنے فرمان کوپورا کرنے کا وقت آگیا ۔ لیکن اب شائد انہیں اندازہ ہوگیا ہو گا۔ کہ دوبارہ انتخاب کا مطالبہ کرنا آسان اور اس کو پورا کرنا مشکل ہے۔ اسی لئے اب وہ اپنی بات سے ذرا ہٹتے نظر آرہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ دھاندلی کی شکایات کا جائزہ لیا جائے گا۔ جب یہی بات ن لیگ کہتی تھی تو برا لگتا تھا۔ اور مطالبہ تھا کہ حلقے کھولے جائیں۔ اب عمران خان کتنے حلقے کھولیں گے۔ یہ بلدیاتی حلقے تو ہیں بھی ہزاروں میں۔ اگر ان کے کھلنے کے مطالبے سامنے آگئے تو ایک جیوڈیشل کمیشن کم پڑجائے گا۔ ہر ضلع کا الگ جیوڈیشل کمیشن بنانا پڑے گا۔ اور عدلیہ انصاف کی فراہمی کا کام چھوڑ کر اسی کام پر لگ جائے گی۔

مزید :

کالم -