تحریک انصاف کے کارکن کا قتل ،اےاین پی کے رہنما میاں افتخار گرفتار

تحریک انصاف کے کارکن کا قتل ،اےاین پی کے رہنما میاں افتخار گرفتار

  

 نوشہرہ(اے این این،آن لائن،آئی این پی )پولیس نے پبی میں تحریک انصاف کے کارکن فضل حبیب اللہ کے قتل کے الزام میں گرفتار اے این پی کے رہنما اورسابق صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخارحسین کا عدالت سے ایک روزہ ریمانڈ لے لیا۔وزیراعظم نواز شریف نے ان کی گرفتاری کے بارے میں خیبرپختونخواکے انسپکٹرجنرل پولیس ،انٹیلی جنس بیورو اور دیگرایجنسیوں سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے بزرگ سیاستدان کی گرفتاری پر برہمی کا اظہارکرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے اور سیکرٹری داخلہ سے رپورٹ طلب کر لی ہے ۔ اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی خان، پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اورپنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے بھی میاں افتخار حسین کی گرفتاری کی مذمت کی ہے جبکہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ میاں افتخارحسین کی گرفتاری میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں،جاں بحق ہونے والے کے ورثاء کو انصاف کا دروازہ کھٹکھٹانے کا حق حاصل ہے۔ ہماری ہمدردیاں تحریک انصاف کے جاں بحق ہونے والے کارکن کے ورثاء کے ساتھ ہیں۔تحریک انصاف کے کارکن کے قتل کے الزام میں گرفتار اے این پی کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر اطلاعات خیبر پختونخواا میاں افتخار حسین کو گزشتہ رو ز عدالت میں پیش کیا ، پولیس نے عدالت سے میاں افتخار حسین کا جسمانی ریمانڈ طلب کیا جس پر عدالت نے میاں افتخار حسین کو ایک روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔ میاں افتخار حسین نے عدالت میں پیشی کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحر یک انصاف کے کارکنوں کی جانب سے مجھ پر حملہ کیا گیا ، ہماری جانب سے فائرنگ نہیں کی گئی، مخالفین کا ہجوم مجھے مارنے کے لئے آیا، فوج کی وجہ سے بچ گیا ، اگر فوج گوریلہ ایکشن نہ کرتی تو شاید میں یہاں نہ ہوتا ،تحریک انصاف کے لوگوں نے زیادتی کی اور ملبہ ہم پر ڈال رہے ہیں ۔انہوں نے کہا ہم الیکشن ہار گئے ، خوشی کے عالم میں تحریک انصاف کے لوگ فائرنگ کررہے تھے ہم تو فائرنگ کی پوزیشن میں نہیں تھے ، پی ٹی آئی کا ایک کارکن مرا ، اللہ بہتر جانتا ہے کیسے مرا؟اس کے بعدانہوں نے میرے دفتر پر دھاوا بول دیا، پولیس اور فوج نے دو گھنٹے تک مجھے گاڑی میں بٹھائے رکھا ، وہاں بھی پی ٹی آئی والے مجھے پتھر مارتے رہے ۔ میاں افتخارحسین نے کہا کہ غلطی تحریک انصاف کے لوگوں کی ہے اورگرفتار مجھے کیا گیا ہم گرفتاریوں کے عادی ہیں ،ہم ڈرنے والے نہیں،انکا مقابلہ کریں گے ،پی ٹی آئی کی حکومت اتنا کرے جو کل پھر برداشت بھی کرسکے،میں صبر اوربرداشت کرنے والا ہوں ،شہید بیٹے کے خون کو معاف کرسکتا ہوں جو شاید کوئی نہ کرسکے ،سیاست میں برداشت کا مادہ ہونا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی خیبر پختونخوا میں حکومت ہے وہ کسی سے ناانصافی و زیادتی نہ کر ے، میں بلدیاتی انتخابات سے مطمئن نہیں ، الیکشن طریقہ کار درست نہیں تھا ،ٹرن آؤٹ کم رہا ، کوئی پولنگ سٹیشن ایسانہیں جس پر لڑائی نہ ہو ئی ہو، یہ سسٹم کی ناکامی ہے ، ہم اس الیکشن پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہیں ، حکومت نے الیکشن میں انتظامیہ کو استعمال کیا اور پی ٹی آئی کے امیدواروں کو فری ہینڈ دیا ۔واضح رہے کہ بلدیاتی انتخابات جیت کا جشن منانے کے دوران فائرنگ سے پی ٹی آئی کا ایک کارکن جاں بحق ہوگیا ، مشتعل افراد نے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما میاں افتخار حسین کے گھر کا گھیراؤ کرلیا ، ضلعی انتظامیہ نے موقع پر فوج طلب کرلی ، ضلع نوشہرہ کی 2یونین کونسلوں پبی ون اور پبی ٹو پر پی ٹی آئی کے امیدوار کامیاب ہوئے۔ کارکنوں نے خوشی میں جلوس نکالا جو مختلف راستوں سے ہوتا ہوا، جب عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما میاں افتخار حسین کے گھر کے قریب پہنچا تو نامعلوم افراد نے فائرنگ کردی۔ گولیاں لگنے سے تحریک انصاف کا ایک کارکن فضل حبیب اللہ موقع پر جاں بحق ہوگیا۔ واقعے کے بعد پی ٹی آئی کے کارکنوں نے میاں افتخار حسین کے گھر کا گھیراؤ کرلیا۔ ضلعی انتظامیہ نے ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوج کو طلب کرلیا۔نوشہرہ کے علاقے پبی میں جشن کے دوران پی ٹی آئی کارکن کی ہلاکت پر سابق صوبائی وزیراور اے این پی سیکرٹری جنرل میاں افتخار اور محافظ کو گرفتارکرلیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق نوشہرہ کی تحصیل پبی میں تحریک انصاف کے جلوس پرفائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوگیا، جس پر پولیس نے سابق صوبائی وزیر میاں افتخار اور ان کے محافظ کیخلاف قتل ،اقدام قتل اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے انہیں دفتر سے گرفتار کرلیا ہے۔عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے پی ٹی آئی کارکن کے قتل کا مقدمہ میاں افتخار کیخلاف درج کرنے کی مذمت کی ہے جبکہ اے این پی کے سربراہ ا سفند یار ولی نے کہا ہے کہ عمران خان بتائیں کہ کیا نئے خیبر پختونخوا کی بنیاد انتقامی کارروائیوں جیسے اقدامات سے رکھی جا رہی ہے، پبی میں فائرنگ سے پی ٹی آئی کارکن فضل حبیب اللہ کے قتل کا مقدمہ سابق صوبائی وزیر میاں افتخار کے خلاف درج ہونے پر اے این پی کے رہنما ؤں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ۔ اسفند یار ولی نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کیا نئے خیبر پختونخوا کی بنیاد ایسے کاموں سے رکھی جا رہی ہے ۔ اسفند یار ولی کا کہنا تھا کہ دھاندلی کے بعد بلدیاتی انتخابات کی کیا قانونی حیثیت رہ جاتی ہے ۔ اب تو جماعت اسلامی نے بھی کہہ دیا ہے کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے ۔ اے این پی کے مرکزی رہنما زاہد خان نے کہا کہ سیاست میں احتجاج ضرور ہوتا ہے تاہم ہمارے رہنماؤں پر قتل کا الزام درست نہیں ، زاہد خان کا کہنا تھا تحریک انصاف نے بلدیاتی الیکشن میں نئے پاکستان کا جنازہ نکال دیا ۔سابق صدراورشریک چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی آصف علی زرداری نے اے این پی کے رہنما میاں افتخار کے خلاف مقدمات اور گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مخالفین کی گرفتاری عمران خان کی آمرانہ ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے ۔ اے این پی رہنما میاں افتخار کی گرفتاری انتقامی کارروائی ہے۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے صوبے میں دھاندلی کی بدترین مثال قائم کی ہے عمران خان خود دھاندلی کا شور مچا رہے تھے لیکن اپنے صوبے میں انہوں نے بھی باقیوں سے بڑھ کر دھاندلی کی ۔ اے این پی رہنما کی گرفتاری دھاندلی قابل مذمت ہے ۔پی ٹی آئی صوبے میں مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیاں بند کرے۔ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے اے این پی کے سیکرٹری جنرل میاں افتخارحسین کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف نے بزرگ سیاستدان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا،میاں افتخارحسین کو ہتھکڑی پہنانا عمران خان کی آمرانہ سوچ کی عکاس ہے۔ عمران خان نے میاں افتخار کو ہتھکڑی پہناکردہشت گردی کے خلاف جدوجہد کا انتقام لیا ہے۔ایک بیان میں انہوں نے اے این پی کے سیکرٹری جنرل افتخارحسین کی گرفتاری کی مذمت کی اور کہا کہ پولیس میں عدم مخالفت کرنے والوں کاچہرہ بے نقاب ہوگیا، تحریک انصاف نے بزرگ سیاستدان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے تحریک انصاف کے صوبائی وزیر کو بیلٹ باکس اٹھاتے ہوئے پکڑاتوپولیس نے ذاتی محافظوں کی طرح مجرم کو گھر پہنچا دیا، بلدیاتی الیکشن میں دھاندلی اورانتقامی سیاست نے عمران خان کو بے نقاب کر دیا ہے۔

مزید :

صفحہ اول -