خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں بد انتظامی کا ذمہ دار الیکشن کمیشن ہے ،عمران خان

خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں بد انتظامی کا ذمہ دار الیکشن کمیشن ہے ...

  

 اسلام آباد(آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے چےئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا بلدیاتی انتخابات میں بدانتظامی،بدامنی اور ہنگامہ آرائی کا ذمہ دار الیکشن کمیشن آف پاکستان ہے ، یہ کہنا غلط ہے کہ تحریک انصاف بد انتظامی کی ذمہ دار ہے، جہاں کہیں بھی بدانتظامی یا دھاندلی ہوئی ہو تواسکی تحقیقات کی جائیں، اگر انتخابات کے دوران کسی کو بد انتظامی ملی ہے تو وہ الیکشن ٹریبونل میں جاسکتے ہیں۔عمران خان نے این اے 122 میں انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے حوالے سے کہا کہ نادرا کے چیئرمین ملک سے باہر چلے گئے ان پر حکومتی دباؤ ہے اس لئے الیکشن ٹریبونل این اے 122 کے معاملے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرکے فیصلہ آر یا پار کرے،میاں افتخار دلیر انسان ہیں مگر ان کے خلاف درج ایف آئی آر نہ ہمارے حکم پر کاٹی گئی اور نہ ہمارے کہنے پر ختم کی جائے گی،پولیس اپنا کام قانون کے مطابق طور پر کررہی ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روزاسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن اتنے بڑے الیکشن نہیں کرا سکتاتھا تو ایک ایک ضلع میں کرادیتے جبکہ پولیس سمیت تمام اختیارات الیکشن کمیشن کے پاس تھے وہ چاہتے تو فوج بھی بلا سکتے تھے لہٰذاالیکشن کمیشن ا س سارے معاملے کی تحقیقات کرائے۔و زیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کوکہا ہے بلدیاتی انتخابات میں بدانتظامی کی تحقیقات کرائیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوامیں بلدیاتی انتخابات پر عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخواہ میں نئے پاکستان کی بنیاد اب رکھ دی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں حکمران 6,6بار حکومت میں ہوتے ہوئے بھی ملک میں بلدیاتی انتخابات نہ کراسکے،ہم نے 2سال میں الیکشن کرادئیے ، جس کیلئے ہم پہلے ہی سے تیار تھے لیکن الیکشن کمیشن تیار نہیں تھا۔ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ گاؤں کی سطح پر اقتدار منتقل کیا، نیا ملک میٹرو بنانے سے نہیں بلکہ نچلی سطح تک اختیارات منتقل کرنے سے بنتا ہے، خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کرانے پر فخر ہے جہاں 84 ہزار سے زائد افراد نے الیکشن لڑا ،وزیراعظم نواز شریف دیکھ لیں نچلی سطح پراختیارات کی منتقلی کر دی اور یہی نیاپاکستان ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کسی قسم کی سیاسی انتقامی کارروائی پر یقین نہیں رکھتی،کے پی کے کی پولیس کو ایک مثالی پولیس بنا دیا ہے۔اس حوالے سے آئی جی ناصر درانی سے پوچھ لیں کہ وہ خود کہتے ہیں کہ ہم پر کوئی سیاسی دباؤ نہیں اور میاں افتخار کے معاملے کی تحقیقات کے بعد جو فیصلہ ہوگا وہ قبول ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی اصلیت کا پتہ چل گیا کہ کون پرمٹ کیلئے دین اسلام بیچتا ہے،اب لوگ باشعور ہیں۔انہوں نے کہا کہ مولانا صاحب کسی بھی حلقے میں جائیں انہیں کھولیں، میں خود حلقہ کھولنے کا کہوں گا ۔کسی حلقے پر تحریک انصاف عدالت سے حکم امتناعی نہیں لے گی،تحریک انصاف کی نشستیں بڑھیں گی کم نہیں ہوں گی۔حکم امتناعی لینا مسلم لیگ(ن) کا کام ہے، انہوں نے سابق صدر آصف علی زرداری کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کے پی کے کی پولیس سندھ کی پولیس کی طرح نہیں ہے،کے پی کے کی پولیس کسی سیاسی دباؤ میں نہیں آتی ہے ۔

مزید :

صفحہ اول -