مقبوضہ کشمیر: کٹھ پتلی انتظامیہ کی طرف سے جموں خطے میں مسلمانوں کیخلاف معاندانہ سرگرمیوں کا سلسلہ تیز

مقبوضہ کشمیر: کٹھ پتلی انتظامیہ کی طرف سے جموں خطے میں مسلمانوں کیخلاف ...

  

سرینگر(آن لائن)مقبوضہ کشمیرمیں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور بھارتی جنتا پارٹی کی مخلوط کٹھ پتلی انتظامیہ نے جموں خطے کے مسلمانوں کے خلاف معاندانہ سرگرمیوں کا سلسلہ تیز کرتے ہوئے مختلف اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے انہیں اپنی جائیدادوں سے بے دخل اور انکی املاک پر قبضہ کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ میڈیا رپو رٹ کے مطابق جموں خطے میں تعلیم ،دیہی ترقی اور دیگر اہم محکموں میں انتہا پسند ہندو افسروں کی تعیناتی کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے ۔

قابض انتظامیہ کے ان یکطرفہ، جانب دارانہ اور مسلمان مخالف اقدام کے باعث جموں خطے کے مسلمانوں میں عدم تحفط کا احساس بڑھ گیا ہے اور وہ خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگے ہیں۔ جموں میں محکمہ جنگلات نے سنجوان، بٹنڈی، رخیا، سدھرااور دیگر علاقوں سے مسلمانوں کو بے دخل کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے ۔ چیف کنزرویٹرافسرجنگلات او پی شرما کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے جس کے سپرد ان علاقوں سے مسلمانوں کی بے دخلی کا کام سونپا گیا ہے ۔ غور طلب بات یہ ہے کہ اس کمیٹی کو محض ان علاقوں میں جنگلات کی زمین واپس لینے کا کام سونپا گیا ہے جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے ۔او پی شرما نے جموں میں ایک میڈیا انٹرویو میں کہا کہ انہیں اس کام کے حوالے سے اپنی رپورٹ دو ماہ کے اندر اندر پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ مسلم فیڈریشن جموں کے صدر عبدالمجید نے کہا کہ کٹھ پتلی انتظامیہ جموں خطے کے مسلمانوں کو جاں بوجھ کر نشانہ بنائی رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ محض علاقوں میں یہ مہم شروع کی گئی ہے جہاں مسلمان رہتے ہیں جبکہ راجیو نگر، جانی پور، روپب نگر جیسے علاقے ، جہاں ہندو اور غیر کشمیری باشندے رہائش پذیر ہیں ، اس مہم میں نہیں آتے۔انہوں نے کہا کہ ہندو ؤں کے لیے کم از کم 28رہائشی کالونیاں غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی ہیں ۔عبدالمجید نے کہا کہBathindiکے علاقے میں گجر مسلمان صدیوں سے رہ رہے ہیں لیکن انہیں یہاں سے نکالا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات افسوس ناک ہے کہ غیر کشمیریوں کو یہاں مستقل رہائشی حقوق دیے جارہے ہیں جبکہ صدیوں سے یہاں آباد مسلمانوں کو بے دخل کیا جا رہا ہے۔ عبدالمجید نے کہا کہ جموں مارکیٹ اور یہاں کی صنعت پر اس وقت غیر کشمیری قابض ہیں جبکہ گاندی نگر میں بھی آدھی سے زائد آبادی غیر کشمیریوں کی ہے جنہیں جعلی سٹیٹ سبجیکٹ دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو علاقے سے بے دخل کرنے میں کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ برابر کے شریک ہیں جو ہندو انتہائی پسند تنظیم راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ کے مذموم منصوبوں کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

مزید :

عالمی منظر -