مقبوضہ کشمیر :وولر جھیل سانحہ،9 برس گزرنے کے باوجودمعصوم بچوں کے والدین کو انصاف نہ مل سکا

مقبوضہ کشمیر :وولر جھیل سانحہ،9 برس گزرنے کے باوجودمعصوم بچوں کے والدین کو ...

  

سرینگر(آن لائن) مقبوضہ کشمیر میں9 برس قبل بھارتی بحریہ کے اہلکاروں کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے وولر جھیل میں ڈوب کر جاں بحق ہونے والے بچوں کے والدین نے سانحے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی کامطالبہ کیا ہے ۔ میڈیا رپو رٹ کے مطابق 30مئی 2006کو وولر جھیل میں بھارتی بحریہ کے اہلکاروں کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے ہندواڑہ کے ایک سکول کے 20بچے اور عملے کے 2ارکان ڈوب کر جاں بحق ہو گئے تھے۔ المناک واقعے کی تحقیقاتی ٹیم نے ایک آفیسر سمیت نیوی کے 4اہلکارو ں کو اس میں ملو ث قرار دیا تھا تاہم نو برس کا طویل عرصہ گزرنے کے باجود ملوث اہلکاروں کو سزا نہیں دی گئی ۔

بچوں کے والدین نے میڈیا کے ساتھ اپنی گفتگو میں کہا کہ انہیں ابھی تک انصاف نہیں ملا کیو نکہ انکے بچوں کے قاتل بھارتی بحریہ کے اہلکارآزادانہ گھوم رہے ہیں۔والدین کا کہنا تھا کہ30مئی 2006میں کی صبح انہو ں نے اپنے بچو ں کو خوشی خوشی جھیل ولر کی سیر کے لئے راونہ کیا لیکن شام 4بجے اپنے بچوں کے ڈوبنے کی خبر سن کر ان پر غم و الم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ایک متاثرہ خاندان کی ایک بچی نے کہا کہ اس دلدوز سانحے میں اسکی دو بہنیں بھی جا ں بحق ہو ئی تھیں۔بچی کا کہنا تھا کہ وہ بھی کشتی میں سوار ہو ئی تھی لیکن بہنوں نے اسے یہ کہہ کر کشتی سے نیچے اتاردیا تھا کہ اس میں کم جگہ ہے۔ لواحقین نے بتا یا کہ سانحے کے وقت بھارتی بحریہ کے اہلکار خا مو ش تماشائی بنے رہے جبکہ بچے مدد کیلئے چیخ و پکار کررہے تھے۔والدین نے واقعے میں ملوث بحریہ کے اہلکارو ں کو فوری طور پر گرفتار کر کے انہیں کڑی سزا دینے کا مطالبہ کیا ۔ادھر ولر سانحے میں جا ں بحق ہونے والے بچو ں کی یاد میں ہندواڑہ اور دیگر علا قوں میں منعقد ہونے والی تقاریب میں انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا گیا جبکہ مزار شہداء میں بھی منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں شہداء کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔

مزید :

عالمی منظر -