کم معیار کے آلات سے بجلی کا ضیاع ہو رہا ہے،صدر ریپ محمدنصیر

کم معیار کے آلات سے بجلی کا ضیاع ہو رہا ہے،صدر ریپ محمدنصیر

  

لاہور (اے پی پی) انرجی ماہرین نے کہا ہے کہ ملک بھر میں زیر استعمال یوپی ایس 2 ہزار میگا واٹ اضافی بجلی استعمال کر رہے ہیں جبکہ کم معیار کے الیکٹرانکس آلات کے استعمال سے بھی بجلی کا ضیاع ہو رہا ہے، توانائی کی بچت کے معاملے میں ہمیں انتہائی سنجیدہ اور محتاط رویہ اختیار کرنا ہو گا،ایک محتاط اندازے کے مطابق 2025ء تک پاکستان کی بجلی کی ضرورت 49 ہزار میگاواٹ تک پہنچ جائے گی، پاکستان میں کوئلے کے لامحدود ذخائر ہونے کے باوجود صرف اعشاریہ چھ فیصد بجلی کوئلے سے پیدا کی جا رہی ہے،اس وقت پاکستان کی صرف 67فیصد آبادی کو بجلی میسر ہے،حکومت آئندہ بجٹ میں توانائی کے متبادل ذرائع کے فروغ کیلئے بھی فنڈز مختص کرے اور سرمایہ کار دوست پالیسی بنائی جائے۔ان خیالات کا اظہار ری نیو ایبل اینڈ آلٹرنیٹ انرجی ایسوسی ایشن پاکستان(ریپ) کے صدر محمد نصیر نے’’ اے پی پی‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ اگر وطن عزیز میں پانی،ہوا،کوئلہ سمیت دیگر دستیاب تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے تو پاکستان نہ صرف بجلی کی اپنی ضرورت پوری کر سکتا ہے بلکہ بجلی برآمد کرنے والا ملک بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کی صرف 67فیصد آبادی کو بجلی کی سہولت میسر ہے، اگر 2025 ء تک تما م ڈیم بن بھی جائیں تو پاکستان 15 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کر سکے گا اس صورتحال میں کوئلہ بھی ملک میں تونائی کے بحران کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پاور ہاؤسز سے بجلی پیدا کرنے کی غرض سے فرنس آئل کی خریداری پر سالانہ 20 ارب ڈالر کی خطیر رقم خرچ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ میں 93 فیصد، چین میں 81 فیصد، بھارت میں71 فیصد اور آسٹریلیا میں 69 فیصد بجلی صرف کوئلے سے ہی پیدا کی جا رہی ہے مگر پاکستان میں کوئلے کے لامحدود ذخائر ہونے کے باوجود صرف اعشاریہ چھ فیصد بجلی کوئلے سے پیدا کی جا رہی ہے، صرف تھر میں 30 ٹریلین ڈالر مالیت کے 175 ارب ٹن کوئلے کے ذخائر موجود ہیں جن سے 500 سال تک ایک لاکھ میگا واٹ بجلی سالانہ حاصل کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھر میں موجود کوئلہ توانائی پیدا کرنے کیلئے ہر لحاظ سے بہترین اور موزوں ہے جس کی اپ گریڈیشن کی ضرورت نہیں جبکہ پنجاب ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی کوئلے کے ذخائر موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2025ء تک 49 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے لئے کان کنی انتہائی اہم اور توانائی پیدا کرنے کیلئے ماحول دوست ٹیکنالوجی کا استعمال ضروری ہے تاکہ ملک کی توانائی کی ضروریات بھی پوری ہو جائیں اور ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ سو سال تک کوئلہ توانائی پیدا کرنے والا سب سے بڑا ذریعہ ہو گا۔انہوں نے کہا کہ سالٹ رینج میں موجود 6سو ملین ٹن کوئلے کے ذخائر سے توانائی پیدا کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ماحول کو منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کیلئے کلین کول ٹیکنالوجی استعمال کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بجلی کے سنگین بحران سے نمٹنے کیلئے ابتدائی طور پر توانائی کی بچت کے معاملے میں انتہائی سنجیدہ اور محتاط رویہ اختیار کرنا ہو گا ۔

مزید :

کامرس -