تالوں کے بوجھ سے پل کا ایک حصہ دریا برد ہوچکا ہے

تالوں کے بوجھ سے پل کا ایک حصہ دریا برد ہوچکا ہے

  

پیرس( آن لائن )فرا نسیسی حکومت نے دارالحکومت پیرس میں دریائے سین پر بنے تاریخی "بون ڈیزار" پل پر لگائے گئے 'محبت کی یادگار' ہزاروں تالے تلف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق پیرس بلدیہ کی انتظامیہ نے "بون ڈیزار" پل پر پچھلے کئی سال سے لگائے گئے محبت کے تالے اتار کر انہیں تلف کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ ان تالوں کے بوجھ سے ایک سال قبل پل کا کچھ حصہ ٹوٹ کر دریا میں جا گرا تھا۔"بون ڈیزار" پل فرانس کے تاریخی اور مشہور مقامات میں سے ایک ہے جو دارالحکومت کا خوبصورت ترین مقام بھی سمجھا جاتا ہے۔

عشق ومحبت کے اسیر رومانس پسند لوگ یہاں آتے اور اپنے محبوب سے محبت کے نام پر تالے لگاتے رہتے ہیں۔ پل کے کسی حصے پر قفل لگانے کے بعد اس کی چابی دریا میں پھینک دی جاتی ہے۔پچھلے سال تالوں کا بوجھ اتنا بڑھ گیا تھا کہ پل کا ایک حصہ ہی دریا برد ہوگیا تاہم اس وقت اتفاق سے پل پر کوئی شخص نہیں تھا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔حال ہی میں پیرس بلدیہ نے پل کی حفاظت کے نقطہ نظر سے وہاں پر لگائے گئے تمام تالے اتار کر انہیں تلف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آج سوموار سے تالے اتارنے کا عمل شروع ہوجائے گا۔ ایک اندازیکے مطابق ان تالوں کا وزن 45 ٹن سے زیادہ ہوچکا ہے اور یہ پل کے لیے کسی بڑے خطرے سے کم نہیں ہے۔پیرس کی خاتون میئر کے معاون خصوصی برونو گولیار کا کہنا ہے کہ "ہم پل پر لگائے گئے ایک ملین تالے اتارنے کی تیاری کررہے ہیں کیونکہ ان کا وزن اب 45 ٹن تک جا پہنچا ہے۔ انہوں نے پل پر قفل لگانے کے عمل کی مذمت کی اور اسے "بدصورت" عمل قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ پل کے دونوں اطراف میں لکڑی کی باڑ اور تختوں کو ہٹا کر اس کی جگہ عارضی طور پر فن پارے آویزاں کیے جائیں گے اور آئندہ سال پْل کے اطراف میں شیشے کی باڑ لگائی جائے گی۔ پیرس بلدیہ کی جانب سے "بون ڈیزار" پل پر لگے تالے اتارنے کے فیصلے پر سیاحوں نے مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ 57 سالہ جان جو اپنی 42 سالہ شریکہ حیات ماریون کا ہاتھ تھامے ہوئے تھا نے کہا کہ "یہ ایک مضحکہ خیز اور دْکھ کی بات ہے کہ پل پر لگے محبت کی یاد گار تالے اتارے جارہے ہیں۔" انہوں نے کہا کہ ہر شخص اپنی محبت کی یاد گار کوقائم رکھنا چاہتا ہے۔ پیرس عشاق کا شہر ہے اور یہ پل محبت کرنے والوں کی علامت بن چکا ہے۔ارجنٹائن سے تعلق رکھنے والے 33 سالہ گیرمو جو پل پراپنی گرل فرینڈ سے شادی کی امید کے لیے تالہ لگانے آیا ہے کا کہنا تھا کہ "ضروری نہیں کہ ان تالوں کو تلف کردیا جائے۔ انہیں ایک مجسمہ کی شکل بھی دی جاسکتی ہے۔ایک اور سیاح فینسن گوانو اپنی چار بیگمات کے ہمراہ پل پر کھڑا تھا۔ جب اس سے تالے اتارے جانے کے بارے میں بات کی گئی تو اس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ "میری تجویز ہے کہ اب محبت کرنے والے اس طرح کے تالے اس پل کے بجائے فرانسیسی بادشاہ "ھنری نہم" کے مجسمے پر لگا یا کریں۔تاہم بلدیہ عہدیدار برونو گولیا کا کہنا تھا کہ وہ نہ صرف اس پل پرلگے تالے اتاریں گے بلکہ پل کے قریب مسز نوٹروڈام کیتھڈرل کے عقب میں "بون ڈو لارشوفیشیہ" میں بھی اس طرح کی پابندی لگائیں گے کیونکہ یہ جگہ بھی محبت کرنے والے جوڑوں کے نشانے پر رہتی ہے۔

مزید :

عالمی منظر -