بلال نے 3 بار کورٹ میرج کیلئے بلایا خود نہ آیا، قتل کرکے سکون ملا: ملزمہ

بلال نے 3 بار کورٹ میرج کیلئے بلایا خود نہ آیا، قتل کرکے سکون ملا: ملزمہ
بلال نے 3 بار کورٹ میرج کیلئے بلایا خود نہ آیا، قتل کرکے سکون ملا: ملزمہ

  

اسلام آباد(آن لائن)قاتل کا خون دیکھ کر دل کو سکون ملا، لڑکیوں کی زندگیاں برباد کرنے کا کسی کو حق نہیں، سرکاری نوکری چلے جانے کا دکھ رہے گا مگر بے وفا کو انجام تک پہنچانا بھی ضروری تھا۔ یہ بات اسلام آباد میں ائرمین کو گولی مار کر قتل کرنے والی اس کی دوست نے بتائی۔ ذرائع کے مطابق ہری پورسے تعلق رکھنے والی اثناء بی بی نے اپنے دوست بلال صفدر کو قتل کیا، اس نے دوران تفتیش انکشاف کیا ہے کہ جب اس نے بلال کو گولی ماری تو اسکا خون نہیں نکلا اور وہ تڑپے بغیر ہی دم توڑ گیا۔ اب جبکہ موقع پر پولیس لیکر گئی تو جائے وقوعہ پر خون کو دیکھ کر دل کو سکون ملا۔

اثناء نے بتایا کہ میں ایک غریب گھرانے کی لڑکی ہوں والد نے محنت مزدوری کرکے ناصرف پڑھایا بلکہ سرکاری نوکری تک، پھر میرے جہیز بنانے میں بھی مصروف رہے۔ کئی سال ہو چکے میرے والد انتظار میں ہے کہ بلال مجھ سے شادی کر ے گا جبکہ میں جہیز کی رقم ایڈوانس کی صورت میں بلال کو ادا کر چکی تھی۔ ملزمہ کے مطابق وہ لالچی نہیں کیونکہ وہ مقتول سے دو گنا تنخواہ ایک سرکاری ادارے سے لیتی ہے۔ سرکاری نوکری کے چلے جانے کا دکھ رہے گا۔

انہوں نے بتایا کہ بلال صفدر نے اسے تین بار کورٹ میرج کے لیے عدالت بلایا مگر خود نہیں پہنچتا تھا جس پر مجھے یقین ہوگیا تھا کہ وہ میری زندگی کو برباد کررہا ہے۔ میں پھر اسکے آبائی گاؤں پنڈی گھیپ گئی تو گھر والوں نے دھکے دیکر مجھے نکال دیا۔

میں نے فیصلہ کر لیا کہ یا میں رہوں گی یا بلال رہے گا۔ واقعہ کے روز میں نے بلال کو بلایا تو وہ حسب عادت آگیا۔ میں موٹر سائیکل پر پیچھے بیٹھی تھی جیسے ہی بلال نے مجھے اتارنے کیلئے موٹر سائیکل روکی، میں نے اسے گولی ماری اور موقع سے فرار ہوگئی۔ پولیس ذرائع کے مطابق دبلی پتلی ملزمہ کو حوالات میں ندامت کا تاثر نہیں تھا بلکہ وہ پر امید تھی کہ اسکے اس اقدام سے دیگر مجبور لڑکیوں کی عزتیں برباد ہونے سے بچ جائیں گی۔

مزید :

اسلام آباد -