قومی اسمبلی، بائیومیٹرک نظام سے 140 گھوسٹ ملازم پکڑے گئے

قومی اسمبلی، بائیومیٹرک نظام سے 140 گھوسٹ ملازم پکڑے گئے
قومی اسمبلی، بائیومیٹرک نظام سے 140 گھوسٹ ملازم پکڑے گئے

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) قومی اسمبلی کے ملازمین کی عدم حاضری کا حل ڈھونڈ لیا گیا۔ بائیومیٹرک شناختی نظام سے 140 گھوسٹ ملازمین پکڑلئے گئے۔ 129 چھوٹے ملازمین کو دیر سے آنے اور نہ آنے پر وارننگ جاری کی گئی جن میں قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے افسر بھی شامل تھے جو آنے کے بجائے تنخواہیں لے رہے تھے۔ نیوٹی وی کے پروگرام دوشد کی رپورٹ کے مطابق سی ڈی اے کے بھی متعدد ملازم بائیومیٹرک سسٹم کی وجہ سے پکڑے گئے۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں پکڑے گئے 140 گھوسٹ ملازمین میں زیادہ تر کا تعلق یوسف رضا گیلانی کے دور میں بھرتی ہونے والوں سے تھا۔ لیکن موجود ایڈیشنل اور سیکرٹری لیول کے افسر اب بھی انگھوٹا لگانے کو اپنی توہین سمجھتے ہوئیا س پر عمل پیرانہیں ہیں۔

ارکان اسمبلی کیلئے یہ بائیومیٹرک سسٹم کیو نہیں لایا جارہا ان کا حاضری سسٹم کیوں خفیہ رکھا جارہا ہے جبکہ سینیٹ سیکرٹریٹ میں یہ سسٹم متعارف نہیں کرایا گیا۔ سینئر صحافی سیکرٹریٹ میں یہ سسٹم متعارف نہیں کرایا گیا۔ سینئر صحافی رؤف کلاسرا نے کہا کہ بائیومیٹرک سسٹم اچھی بات ہے۔ اس سے پرفارمنس بہتر ہوتی ہے۔ پاکستان میں قانون ہم نیچے سے لاگو کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ قانون اوپر سے لاگو کیا جائے۔ وفاقی محتسب نے جب ارکان اسمبلی کی حاضری سے متعلق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ قومی راز ہے ہم نہیں بتاسکتے۔ ارکان اسمبلی کی حاضری جاننا شجر ممنوعہ بن چکا ہے اور اس پر باقاعدہ ریفرنس بھی دیدیا گیا ہے۔

مزید :

اسلام آباد -