سعودی عرب میں سوشل میڈیا ویب سائٹس پر پابندی لگنے کاامکان ، بل تیار

سعودی عرب میں سوشل میڈیا ویب سائٹس پر پابندی لگنے کاامکان ، بل تیار
سعودی عرب میں سوشل میڈیا ویب سائٹس پر پابندی لگنے کاامکان ، بل تیار

  

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب کی مجلس شوریٰ نے دہشت گردی اور سائبر کرائم میں سوشل میڈیا ویب سائٹس کے استعمال کے بعد فیس بک ، ٹوئٹر اور یوٹیوب سمیت کئی سوشل میڈیا ویب سائٹس کی بندش پر غورشروع کردیاہے ۔

 عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب کی مجلس شوریٰ کے رکن ڈاکٹر فائزالشہری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سوشل ویب سائٹس بالخصوص فیس بک، ٹوئٹر اور یو ٹیوب پر پابندی حکومت کا آئینی حق ہے، دنیا کے کئی دوسرے ممالک نے بھی جرائم کی روک تھام کی خاطر ان ویب سائٹس کو بلاک کر رکھا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ جب سوشل میڈیا معاشرے میں فتنہ و فساد پھیلانے کا موجب بنے تو اس پر پابندی ناگزیر ہو جاتی ہے، جو ویب سائٹ جب بھی معاشرے میں نقصان کا موجب بنے گی ، اسی وقت بلاک کی جائے گی ۔

رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر فائز الشہری نے حال ہی میں مجلس شوریٰ میں بعض دوسرے ارکان کے ساتھ مل کرسائبر کرائمز کی روک تھام کے حوالے سے ایک بل پیش کیا تاہم مزید ترامیم کیساتھ دوبارہ آج پیش کیے جانے کا امکان ہے ۔ترمیم سے پہلے پیش کیے جانیوالے بل میں بتایا گیا ہے کہ سماجی رابطے کی کون کون سی ویب سائٹس سعودی عرب میں انارکی اور معاشرتی ضرر رسانی کا موجب بن رہی ہیں۔ مجوزہ بل میں کہا گیا ہے کہ سرچ انجن ’گوگل‘ اور’یاھو‘ جیسی ویب سائٹ صرف کمرشل مقاصد کے لیے اپنی خدمات کا فورم مہیا کرتی ہیں اورسعودی عوام کو نفع پہنچانے کا کوئی پروگرام نہیں،کئی دوسری ویب سائٹس جرائم میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں ۔

العربیہ نے ذرائع کے حوالے سے بتایاکہ سائبر کرائمز بل میں ان تمام ویب سائیٹس پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کی گئی ہے جو دہشت گردی کے فروغ، بے حیائی، فحش مواد مہیا کرنے، انتہا پسندی کی حمایت، تفرقہ بازی پھیلانے، جادو ٹونے، تعویز گنڈے اور قمار بازی جیسے سماجی جرائم میں ملوث کو بلاک کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب میں بھی گذشتہ دوجمعہ کے موقع پر خود کش حملے ہوئے ہیں جبکہ داعش اور القاعدہ کے گرفتار ہونیوالے شدت پسندوں نے انکشاف کیاتھاکہ وہ سوشل میڈیا کے ذریعے آپسی رابطوں میں رہتے ہیں ۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -