سانحہ ڈسکہ کے ملزموں کا جیل میں ٹرائل ہوگا ،چیف جسٹس سے وکلاءکی ملاقات میں فیصلہ

سانحہ ڈسکہ کے ملزموں کا جیل میں ٹرائل ہوگا ،چیف جسٹس سے وکلاءکی ملاقات میں ...
سانحہ ڈسکہ کے ملزموں کا جیل میں ٹرائل ہوگا ،چیف جسٹس سے وکلاءکی ملاقات میں فیصلہ

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس منظور احمد ملک نے کہا ہے کہ سانحہ ڈسکہ کے مقدمہ میں نہ صرف انصاف ہوگا بلکہ انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آئے گا ۔وہ گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن اور لاہور بار ایسو سی ایشن کے عہدیداروں اورپنجاب بار کونسل کے وفود سے ملاقات کے دوران گفتگو کررہے تھے ،ذرائع کے مطابق چیف جسٹس نے سانحہ ڈسکہ کے ملزموں کے خلاف جیل میں مقدمہ چلائے جانے سے متعلق وکلاءکا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے اس سلسلے میں ضروری ہدایات جاری کردی ہیں ۔ہائی کورٹ اور لاہور بار کے وفد میں ہائی کورٹ بار کے صدر پیر مسعود چشتی، نائب صدر عرفان عارف شیخ، سیکرٹری محمد احمد قیوم، فنانس سیکرٹری اختر حسین شیرازی سمیت لاہور بار کے قائم مقام صدر جہانگیر بھٹی،نائب صدر ملک سلطان، نائب صدر ماڈل ٹاﺅن سید تفسیر حیدر کاظمی، جنرل سیکرٹری ادیب اسلم بھنڈر، جوائنٹ سیکرٹری رانا احسن اور سیکرٹری فنانس چوہدری فظاہر جٹ شامل تھے۔ وفد نے فاضل چیف جسٹس کو ڈسکہ میں وکلاءکی شہادت کے حوالے سے وکلاءبرادری میں پائی جانے والی بے چینی اور جذبات سے آگاہ کیا اور کہا کہ واقعہ میں ملوث ملزمان کوجلد از جلد قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ متاثرین کو انصاف مل سکے۔ بعد ازاں پنجاب بار کونسل کی وائس چیئرپرسن فرح اعجاز بیگ کی قیادت میں بار کونسل کے ممبران پر مشتمل وفد نے بھی فاضل چیف جسٹس سے ملاقات کی۔ وفد میں پنجاب بار کونسل کے ممبران چوہدری اکرم، جمیل اصغر بھٹی، محمد منیر بھٹی، عبد الصمد بسریا، محمد رفیق جٹھول، رانا انتظار، اختر حسین بھٹی اور محترمہ بشریٰ قمر بھی موجود تھے۔بار کونسل کے وفد نے سانحہ ڈسکہ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے آگاہ کیا ۔ وفد نے مطالبہ کیا کہ وکلاءکو شہید کرنے والے ملزمان کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ وہ انصاف کے مراحل سے گزر کراپنے انجام کو پہنچ سکیں ۔فاضل چیف جسٹس نے وکلاءرہنماﺅں کے وفود کو کہا کہ سانحہ ڈسکہ کے مقدمے کا فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق ہو گا۔ انہوں نے شرکاءکو یقین دلایا کہ قانون کے تمام تقاضے پورے کئے جائیں گے تاکہ نہ صرف انصاف ہو بلکہ انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آئے۔

مزید :

لاہور -