پاکستان بار کونسل نے وکلاءکوسانحہ ڈسکہ کے ملزم تھانیدار کو قانونی معاونت فراہم کرنے کی اجازت دے دی

پاکستان بار کونسل نے وکلاءکوسانحہ ڈسکہ کے ملزم تھانیدار کو قانونی معاونت ...
پاکستان بار کونسل نے وکلاءکوسانحہ ڈسکہ کے ملزم تھانیدار کو قانونی معاونت فراہم کرنے کی اجازت دے دی

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )پاکستان بار کونسل نے وکلاءکوسانحہ ڈسکہ کے ملزموں کو قانونی معاونت فراہم کرنے کی اجازت دے دی ہے ،اس بات کا اعلان پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین اعظم نذیر تارڑ نے لاہور ہائیکورٹ بار میں سانحہ ڈسکہ کے حوالے سے لائحہ عمل کی تیاری کے لئے ہونے والے وکلاءکے اجلاس میں کیا ۔اجلاس میں سانحہ ڈسکہ کی پولیس تفتیش پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ قانون کے مطابق 15روز کے اندر مقدمہ کا چالان انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا جائے ۔اجلاس سے صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن پیر مسعود چشتی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈسکہ بار کے صدر سمیت دو وکلاءکے قاتلوں کا ٹرائل جیل میں ہو گا اور ہم مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ، سیالکوٹ اور ڈسکہ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداران کے ساتھ مکمل رابطہ میں ہیں اور وہ تاحال تفتیشی عمل سے مکمل مطمئن ہیں۔ انہوں نے کہا سانحہ ڈسکہ کے ملزموں کو قرار واقعی سزاءدلوانے تک احتجاجی کیمپ اورہر سوموار کو لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کا احتجاجی اجلاس کا سلسلہ برقرار رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وکلاءروزانہ صبح 10:30 بجے سے دوپہر 1:30بجے تک احتجاجی کیمپ میں شامل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہم بڑے بڑے میڈیا ہاﺅسز اور الیکٹرانک میڈیا سے گزارش کرتے ہیں ہم نے پہلے بھی ساتھ نبھایا ہے اور آئندہ بھی مل کر چلنا چاہتے ہیں لہٰذا وکلاءگردی جیسے الفاظ استعمال کرنے سے گریز کریں۔ سانحہ ڈسکہ کے متاثرین کی مالی معاونت کیلئے انہوں نے ہاﺅس کو بتایا کہ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے مسلم کمرشل بینک، لاہور ہائیکورٹ برانچ میں اکاﺅنٹ کھول دیا گیا ہے جس میں اب تک 6لاکھ روپے جمع ہو چکے ہیں۔ا نہوں نے تمام وکلاءسے کہا کہ اس فنڈ میں دل کھول کر حصہ ڈالیں۔ سیکرٹری لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن محمد احمد قیوم ،وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل اعظم نذیر تارڑ ، سابق نائب صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن و ممبر پنجاب بار کونسل چودھری غلام سرور نہنگ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ ڈسکہ کے اندوہناک اور افسوسناک واقعہ کو ایک ہفتہ بیت چکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے مطالبات قانون کے مطابق ہیں۔ وکلاءبرادری نے مجرموں کی گرفتاری 15دن کے اندر چالان اور 15دن کے اندر ٹرائل کا مطالبہ کیاہے۔ ہمارے بعض دوستوں نے کہا کہ کوئی بھی وکیل مجرموں کی وکالت نہ کرے لیکن بار نے اس مطالبہ کو رد کر دیا اور کہا کہ آئین و قانون کے مطابق ہر مجرم کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے ۔انہوں نے کہا کہ قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے تک ہم چین سے نہ بیٹھیں گے اور ہر سوموار کو احتجاجی اجلاس کیا۔انہوں نے چیئرپرسن پنجاب بار کونسل اور دیگر ممبران کی اعلیٰ حکام سے ملاقات پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا تمام وکلاءتنظیموں کو مل کر جدوجہد کرنی چاہیے اور ہمارے اتحاد کو برقرار رکھا جائے۔

مزید :

لاہور -