بلدیاتی انتخابات کو حکومت کے اتحادیوں نے تسلیم نہیں کیا ، میاں افتخار کو سیاسی قیدی بنایا گیا ہے : اسفند یار ولی

بلدیاتی انتخابات کو حکومت کے اتحادیوں نے تسلیم نہیں کیا ، میاں افتخار کو ...
بلدیاتی انتخابات کو حکومت کے اتحادیوں نے تسلیم نہیں کیا ، میاں افتخار کو سیاسی قیدی بنایا گیا ہے : اسفند یار ولی

  

پشاور ( مانیٹرنگ ڈیسک ) عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخواہ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کی شفافیت کو صوبائی حکومت کے اتحادیوں کی جانب سے تسلیم نہیں کیا گیا تو اپوزیشن جماعتیں کیسے مان لیں ۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بلدیاتی انتخابات کی شفافیت اور اے این پی کے رہنماءمیاں افتخار کی گرفتاری دو الگ واقعات ہیں جس میں صوبائی حکومت کی گڈ گورننس کا پول کھل گیا ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخواہ میں پولیس کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ پولیس سیاسی نہیں ہے لیکن اگر ایسا ہے تو میاں افتخار کو سیاسی قیدی کیوں بنایا گیا ہے ۔ اسفند یار ولی کا کہنا تھا کہ میاں افتخار ایک شریف انسان ہیں اور وہ اپنے بیٹے کی لاش دیکھ کر مشتعل نہیں ہوئے تھے ، وہ قتل کیسے کسی نوجوان کی جان لے سکتے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ مقتول نوجوان کے والد نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ میاں افتخار ان کے بیٹے کے قتل میں ملوث نہیں ہیں تو پھر انہیں حراست میں کیوں رکھا گیا ہے جبکہ اس بیان کے بعد ان کی گرفتاری کا کوئی جواز نہیں ہے ۔

بلدیاتی انتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے اے این پی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواہ پرویز خٹک کے بھائی بھی امیدوار تھے اور وزیر اعلیٰ اپنے بھائی کے حلقے میں شام 6 بجے چلے گئے تھے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ شام 6 بجے سے رات 12 بجے تک پرویز خٹک کا اپنے بھائی کے حلقے میں رہنے کی وجہ کیا تھی ؟

مزید :

پشاور -اہم خبریں -