مبہم قانون نے حکومت کے لئے بے لگام دروازہ کھول دیا تھا ،ہائی کورٹ نے بجلی بلوں پر سرچارج کالعدم کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

مبہم قانون نے حکومت کے لئے بے لگام دروازہ کھول دیا تھا ،ہائی کورٹ نے بجلی ...
مبہم قانون نے حکومت کے لئے بے لگام دروازہ کھول دیا تھا ،ہائی کورٹ نے بجلی بلوں پر سرچارج کالعدم کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس عائشہ اے ملک پر مشتمل ڈویژن بنچ نے بجلی کے بلوں پر حکومت کی طرف سے عائد کئے جانے والے تمام سرچارج غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کرنے سے متعلق اپنا تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے۔

فاضل بنچ نے 2008ءسے عائد کئے گئے ان سرچارجز کے حوالے سے وفاقی حکومت کو حکم دیا ہے کہ صارفین سے اب تک وصول کی جانے والی تمام رقم انہی واپس کی جائے اور 3ماہ کے اندر یہ رقم بجلی کے بلوں میں ایڈجسٹ کرکے صارفین کو فائدہ پہنچانے کا پلان تیار کیا جائے ۔فاضل بنچ نے 39صفحات پر مشتمل اپنے اس فیصلے میں قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ خواجہ احمد حسن کیس میں قرار دے چکی ہے کہ مقننہ کو قانون سازی کرتے وقت معاملے کی مناسب وضاحت کرنی چاہیے ،مبہم قانون سازی انتظامیہ کے صوابدیدی اختیارات میں اضافہ کرتی ہے جس کی آئین اجازت نہیں دیتا ۔علاوہ ازیں مبہم قانون سازی عدلیہ کو بھی قانون کا جائزہ لینے کا جواز فراہم کرتی ہے ۔اگر پارلیمنٹ مناسب وضاحت اورمعیاری پالیسی کے ساتھ قانون سازی کرے تو پھر اس کا عدالتی جائزہ لینے کی ضرور ت نہیں پڑتی ۔ٹیکسوں کا نفاذ صرف پارلیمنٹ کے ذریعے ہی کیا جاسکتا ہے۔

پارلیمنٹ کا یہ اختیار انتظامیہ کو تفویض نہیں کیا جاسکتا ۔فاضل بنچ نے سرچارج عائد کرنے کے حکومتی اختیار کے بارے میں نیپرا ایکٹ کے سیکشن 31(5)کو کالعدم کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اس سیکشن میں یہ واضح نہیں ہے کہ حکومت کس قسم کا سرچارج عائد کرسکتی ہے ،اس قانون میں یہ بھی واضح نہیں کہ حکومت کتنی قسم کے سرچارج وصول کرسکتی ہے ،سادہ لفظوں میں اس قانون کے ذریعے حکومت کے لئے سرچارج عائد کرنے کا ایک بے لگام دروازہ کھول دیا گیا تھا جس نے حکومت کو وہ اختیار دے دیا تھا جسے استعمال کرنے کی مجاز صر ف پارلیمنٹ ہے ۔ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس عائشہ اے ملک نے 29مئی کو بجلی کے بلوں پر نیلم جہلم سرچارج سمیت لائن لاسز ، بجلی چوری ،گردشی قرضوں پرسود اور یونیورسل اوبلیگیشن فنڈ کی مد میں مختلف سرچارجزکے نفاذ کوغیر آئینی قرار دے کر کالعدم کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو حکم دیا تھا ۔فاضل بنچ نے اب تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے ۔فاضل بنچ نے درخواستوں گزاروں کے اس موقف سے اتفاق کیا کہ بجلی کی قیمتوں کا تعین کرتے وقت لائن لاسز، بجلی کی چوری ،انتظامی نقصانات وغیرہ کو سرچارجز کے طور پر وصول کرنا بنیادی آئینی حقوق کے منافی اور عوام کے استحصال کے مترادف ہے ۔یہ سرچارجز ایکولائزیشن سرچارج، ڈیٹ سروسنگ سرچارج، یونیورسل اوبلیگیشن فنڈ سرچارج اور نیلم جہلم سرچارج کے نام پربجلی کے بلوں کے ذریعے وصول کئے جارہے تھے ۔یہ سرچارجز نیپرا ایکٹ مجریہ1997ءکے سیکشن 31(5)کے تحت عائد کئے جاتے تھے ،فاضل بنچ نے اس سیکشن کو کالعدم کرکے بجلی کے بلوں پر سرچارج عائد کرنے کا حکومتی اختیار ختم کردیا ہے ۔

مزید :

لاہور -