دہشتگردوں کے ساتھ بم دیکھ کر بھاگنے والے پولیس اہلکاروں کی تلاش

دہشتگردوں کے ساتھ بم دیکھ کر بھاگنے والے پولیس اہلکاروں کی تلاش
دہشتگردوں کے ساتھ بم دیکھ کر بھاگنے والے پولیس اہلکاروں کی تلاش

  


کراچی (ویب دیسک) کراچی میں سٹیل ملزم کے باہر سڑک پر پریشر ککر بم کی موجودگی اور پھر ریموٹ کنٹرول سے دھماکے کی واردات نے شہر میں پولیسنگ سسٹم پر کئی سوال اٹھا دئیے ہیں۔

روزنامہ جنگ کے مطابق انسپکٹر جنرل پولیس سندھ اے ڈی خواجہ کا کہنا ہے کہ اس امر کی تحقیقات کررہے ہیں۔ سٹیل ٹاﺅن میں بم دھماکے سے قبل نشاندہی کرنے کی صورت میں گزرنے والی پولیس نے فوری اقدامات کیوں نہیں کئے۔ پولیس بم دھماکے کے کو رکواسکتی تھی لیکن بم کو دیکھ کر پولیس اہلکار گزرتے رہے اور شہریوں کی مدد کے لئے کوئی نہ رکا البتہ بم پھٹنے کے بعد پولیس، رینجرز اور دیگر ایجنسیوں کے قافلے پہنچ گئے۔ کراچی میں پاکستان سٹیل ملز کے قریب نیشنل ہائی وے کی گرین بیلٹ پر شاپنگ بیگ میں مشکوک پریشر ککر پیر کی صبح 8بجے ہی دیکھ لیا گیا تھا۔ کچھ شہریوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر شاپنگ بیگ کھول کر دیکھا اور حقیقت میں بم ہونے کی وجہ سے علاقے کے لوگوں کو آگاہ کیا جو اس مقام سے دور چلے گئے۔ ایسی صورتحال میں دنیا بھر میں کیا کیا جاتا ہے؟ یہی ناں کہ فوراً فون کرکے پولیس کو طلب کیا جاتا ہے۔

عینی شاہدین بم کے آس پاس موجود لوگوں کو یہ سب کچھ کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی اور سب کی جان میں جان آئی کیونکہ کسی فلمی سین کی طرح ہوٹر بجاتے ہوئے پولیس موبائل میں کئی پولیس اہلکاروں کی نفری خود ہی وہاں پہنچ گئی۔ لوگوں نے پولیس اہلکاروں کو وہاں نصب بم کے بارے میں بتانا شروع کیا، مگر یہ کیا؟ بم کو دیکھ کر پولیس موبائل میں موجود اہلکار فوراً چلتے بنے۔

مزید : کراچی