حکومت صنعت و تجارت کے لیے رعایتی ایس آر اوز ہرگز واپس نہ لے

حکومت صنعت و تجارت کے لیے رعایتی ایس آر اوز ہرگز واپس نہ لے

لاہور (کامر س رپورٹر) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شیخ محمد ارشد نے حکومت پر زور دیا ہے کہ صنعت و تجارت کے لیے رعایتی ایس آر اوز ہرگز واپس نہ لے وگرنہ اس سے کاروباری حالات بہت خراب ہوجائیں گے۔ یہ کاروباری شعبے کے لیے مسائل پیدا کرنے کا نہیں بلکہ سنبھالا دینے کا وقت ہے۔ وقار احمد میاں کی سربراہی میں مختلف مارکیٹوں کے نمائندوں پر مشتمل وفد سے خطاب کرتے ہوئے لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق حکومت وفاقی بجٹ کے موقع پر کسٹمز ڈیوٹی، سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے متعلق 130ارب روپے حجم کے ایس آر اوزواپس لینے کی منصوبہ بندی کررہی ہے جو کاروباری شعبے کے لیے کوئی اچھی خبر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ رعایتی ایس آر او واپس لینے سے نہ صرف بالآخر معیشت کو نقصان ہوگا بلکہ کاروباری شعبے کی پیداواری لاگت بڑھ جائے گی ، اس وقت جب کاروباری شعبہ ریفنڈ کلیمز میں تاخیر اور دیگر بہت سے مسائل کی وجہ سے پریشان ہے، رعایتی ایس آر اوز کی واپسی زہرقاتل ثابت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ بجٹ دستاویز مرتب کی جاچکی ہے لیکن ابھی بھی کاروباری برادری کی تجاویز کے لیے بہت گنجائش ہے کیونکہ بجٹ کا اعلان ہونے کے بعد یہ بحث اور منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے وفد کو آگاہ کیا کہ لاہور چیمبر نے پالیسی کاریڈورز کو بینک اکاؤنٹس تک ایف بی آر حکام کی رسائی، ودہولڈنگ ٹیکس اور چھاپوں کے معاملے پر کاروباری برادری کے تحفظات سے آگاہ کیا اور مشاورت سے مرتب کی گئی تجاویز بھجوائی ہیں۔ انہوں نے کہا لاہور چیمبر نے ایف بی آر پر زور دیا ہے کہ تاجروں کے بینک اکاؤنٹس تک رسائی جیسے اقدامات سے گریز کرے اور عرصہ دراز سے زیر التوا انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کے ریفنڈ کلیمز جلد از جلد ادا کرے۔ انہوں نے بتایا کہ لاہور چیمبر نے تاجر برادری پر دوہرے ٹیکسوں کے بوجھ ، سمگلنگ اور پنجاب انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس جیسے معاملات بھی بھرپور طریقے سے اٹھائے ہیں۔ پنجاب حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ پنجاب انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس فوراً واپس لے جس نے تاجروں کو اضطراب میں مبتلا کردیا ہے۔ اگر یہ سیس واپس نہ ہوا تو پنجاب سے کاروباری سرگرمیوں کا ایک بڑا حصہ دیگر صوبوں میں منتقل ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے وفد کو لاہور چیمبر کی دیگر بجٹ تجاویز کے بارے میں بھی تفصیل سے آگاہ کیا۔ وفد کے سربراہ وقار احمد میاں نے حکام بالا کی توجہ مارکیٹوں کی طرف مبذول کراتے ہوئے کہا کہ تاجروں کو کم از کم بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے وفاقی بجٹ میں صحت و تعلیم کے شعبوں پر بھی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس موقع پر خواجہ عامر، ہارون اروڑہ، صفدر بٹ، عبدالرزاق، محمد انور بوبی، خلیل عبیر، حافظ رضوان بٹ، وقاص بٹ، میاں سعید، میاں وسیم، شاہد ،محمد نادر و دیگر موجود تھے۔

مزید : کامرس