آل پاکستان بزنس فورم کی 500ارب کے نئے ٹیکسوں کی مخالفت

آل پاکستان بزنس فورم کی 500ارب کے نئے ٹیکسوں کی مخالفت

لاہور (کامرس رپورٹر)آل پاکستان بزنس فورم کے صدر نے حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں500ارب روپے کے نئے ٹیکسوں کے نفاذ کے منصوبے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ان نئے مجوزہ ٹیکسوں کی مخالفت کی ہے ۔آل پاکستان بزنس فورم کے صدر ابراہیم قریشی کا کہنا ہے کہ عوام اور تاجر برادری حکومت کے کسی ایسے فیصلے کو قبول نہیں کرے گی اور نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے نہ صرف مہنگائی میں اضافہ ہوگا بلکہ کرپشن کی راہیں بھی ہموار ہوں گی ۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو عوام پر بوجھ ڈالنے کے بجائے ایف بی آر میں اصلاحات کا عمل شروع کرنا چاہیئے ۔

جس کے نتیجے میں حکومتی آمدنی کھربوں میں پہنچ سکتی ہے ۔ابراہیم قریشی کا کہنا تھاکہ ٹیکس اتھارٹیز کو خودمختاری دینے والے ممالک نے اپنی وصولیوں میں 40تا120فیصد تک اضافہ کیا ہے اور پاکستان کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیئے۔اس وقت ایک اندازے کے مطابق ملک میں دس لاکھ افراد ٹیکس ریٹرن فائل کرتے ہیں جبکہ 1990میں ٹیکس ریٹرن فائل کرنے والوں کی تعداد16لاکھ تھی اور یہ رجحان لوگوں کی ٹیکس نظام پر عدم اعتماد کو ظاہر کرتا ہے ۔آل پاکستا ن بزنس فورم کے صدر کا کہنا تھا کہ پانچ لاکھ اور زائد ٹیکس ادا کرنے والوں کی تعداد35ہزار کے قریب ہے اور آمدن کے حصول کیلئے حکومت کی توجہ کا مرکز بھی یہی ٹیکس گذار ہیں،ان افراد کو آڈٹ،نوٹسز اور چھاپوں کے ذریعے ہراساں کرکے دیگرٹیکس دینے کے خواہشمند افراد کو نہایت ہی منفی پیغام دیا جارہا ہے ۔ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان کے چاروں صوبوں میں کاروبار کرنے والے صنعتکاروں کو 95بار ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے جبکہ دستاویزات کی تیاری میں انہیں سالانہ598گھنٹے صرف کرنا پڑتے ہیں جبکہ اس کے برعکس سنگاپور میں صنعتکار سال میں محض6بار ٹیکس ادا کرتے ہیں اور ملائشیا میں صنعتکار سال میں14بار ٹیکس ادا کرتے ہیں ۔

مزید : کامرس