لاکھوں بھارتی فوجیوں کی موجودگی کی وجہ سے ہرشعبہ زندگی بری طرح متاثر

لاکھوں بھارتی فوجیوں کی موجودگی کی وجہ سے ہرشعبہ زندگی بری طرح متاثر

سرینگر(این این آئی)مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ کئی دہائیوں سے لاکھوں کی تعداد میں بھارتی فوجیوں کی مسلسل موجودگی کی وجہ سے کشمیر میں ہر شعبہ زندگی پر منفی نفسیاتی اور جسمانی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ تاہم کشمیری خواتین سب سے بری طرح متاثر ہوئی ہیں ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق یہ انکشاف ’’سماجی سائنس اور مینجمنٹ‘‘ کے بین الاقوامی جریدے میں ’’کشمیری خواتین معاشرے کا سب سے غیر محفوظ حصہ ‘‘کے عنوان سے شائع 2015کے ایک ریسرچ پیپر میں کیاگیا ہے ۔محققین ارشاد احمد ارشاد اور مختار احمد ڈار نے کہا کہ کشمیری خواتین کو گزشتہ 25برس کے دوران سماجی اور تعلیمی شعبوں کے علاوہ جنسی طورپر نشانہ بنایا گیا ہے ۔

تحقیق میں کہاگیا ہے کہ بھارت کے زیر تسلط جموں وکشمیرمیں خواتین کوذہنی دباؤ اور جنگ کے اثرات کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ سروے کے دوران 112خواتین میں سے 65سے70فیصد خواتین ڈپریشن اور ذہنی صدمے کے بعد اعصابی تناؤ جیسے نفسیاتی عارضوں میں مبتلا پائی گئیں۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں تعینات بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بہت سی کشمیری خواتین کی بے حرمتیاں کیں تاہم کسی بھی اہلکار کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ رپورٹ کے مطابق 2006 کے بعد سے جموں و کشمیر میں خواتین کی بے حرمتیوں کے 1336مقدمات درج کئے گئے تاہم کسی بھی مجرم کو سزا نہیں دی گئی ۔ رپورٹ میں کنن پوشپور ہ میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیری خواتین کی اجتماعی بے حرمتیوں کے واقعے کا بھی خصوصی طورپر ذکر کیاگیا ہے ۔ امن اور تخفیف اسلحہ کیلئے کشمیر ی خواتین کے اقدامات کی اطلاعات کے مطابق 23فروری 1991کو سانحہ کنن پوشپور ہ کے تین برس بعد تک اس گاؤں کی کسی بھی لڑکی کاشادی کیلئے رشتہ نہیں مانگا گیا ۔

مزید : عالمی منظر