حریت پسند وں پر کالے قانون کا نفاذ ظالمانہ کاروائیاں ہیں، تحریک حریت

حریت پسند وں پر کالے قانون کا نفاذ ظالمانہ کاروائیاں ہیں، تحریک حریت

سرینگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں تحریک حریت جموں وکشمیر نے محبوبہ مفتی کی زیرقیادت کٹھ پتلی حکومت کی طرف سے حریت پسند رہنماؤں اور کارکنوں کے گھروں پر مسلسل چھاپے مارنے،انہیں گرفتار کرنے اور ان پر کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کرنے کی کاروائیوں کو ظالمانہ اور جابرانہ قرار دے کر ان کی شدید مذمت کی ہے۔

کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق تحریک حریت کے ترجمان نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہا کہ محبوبہ مفتی کی کٹھ پتلی حکومت بھارتی حکومت کے خفیہ منصوبوں اور خاکوں میں رنگ بھرنے کی بھرپور تیاری کرچکی ہے اور ان منصوبوں پر عملدرآمدمیں وہ آزادی پسندوں کو سب سے بڑی رُکاوٹ سمجھتی ہے اس لیے وسیع پیمانے پر ان کی گرفتاریاں عمل لائی جارہی ہیں۔ تحریک حریت نے کہا کہ کٹھ پتلی حکومت کشمیری عوام کے ساتھ فریب اور دھوکہ کرکے بھارتی فوجیوں اور پنڈتوں کے لیے علیحدہ کالونیاں تعمیر کرنے کی تیاری کرچُکی ہے اسی لیے وادی کشمیر کو جیل خانے میں تبدیل کیا جارہا ہے۔ تحریک حریت نے محمد اشرف صحرائی، شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، راجہ معراج الدین، ایاز اکبر، الطاف احمد شاہ، محمد اشرف لایا، ظفر حبیب، بشیر احمد شیخ، بلال احمد ایتو رفیع آباد اورپرویز احمد سوپور کو مسلسل نظربند رکھنے اور عبدالغنی بٹ سوپور، نذیر احمد، رئیس احمد میر اور دیگر کارکنوں کے گھروں پر مسلسل چھاپے مارنے کی شدید مذمت کی۔ ترجمان نے جنگلات منڈی اسلام آباد کے عاطف حسین شیخ پر پبلک سیفٹی ایکٹ لگانے، فیصل احمد ہرناگ اور خطیب احمد کو بلاجواز گرفتار کرنے کی بھی مذمت کی۔

مزید : عالمی منظر


loading...