ملامنصور کی ہلاکت کے بعد طالبان کی کارروائیوں میں تیای ، ہلمند میں 57افغان فوجی ہلاک

ملامنصور کی ہلاکت کے بعد طالبان کی کارروائیوں میں تیای ، ہلمند میں 57افغان ...

 کابل(اے این این) افغان طالبان کے سابق امیر ملا منصور کی ہلاکت اور نئی قیادت کے انتخاب کے بعد افغانستان میں طالبان نے عسکری کارروائیاں تیز کر دیں،ہلمند میں تازہ لڑائی کے دوران افغان آرمی کے 57فوجی ہلاک،37زخمی،افغان فورسز سے چار چوکیاں چھین کر قبضہ کر لیا،قندوز میں 45مسافر اغوا،16کو گولیاں مار دی گئیں ،ابتداء میں تین بسوں اور تین وینوں پر سوار230مسافروں کو اغواء کیا گیا جن میں سے جانچ پڑتال کے بعد 185کو رہا کر دیا گیا۔افغان حکام کے مطابق افغانستان میں طالبان نے ملا منصور کی ہلاکت اور طالبان کی نئی قیادت کے انتخاب کے بعد ملک میں طالبان کی عسکری سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے ۔ ایک ہفتے کے دوران لڑائی میں شدت آگئی ہے، جب طالبان نے تین اضلاع میں مربوط حملوں کا ایک سلسلہ جاری رکھا، جن میں نادِ علی، گریشک اور مرجع شامل ہیں۔افغان فوج کے ترجمان میجر جنرل عصمت اللہ دولتزئی نے بتایا ہے کہ زیادہ تر ہلاکتیں نادِ علی اور گریشک میں واقع ہوئیں۔ طالبا ن صوبائی دارلحکومت لشکرگاہ میں پیر اور منگل کی درمیانی شب رات بھر لڑائی جاری رکھی، جہاں طالبان نے مرجع سے ملنے والی مرکزی سڑک پر واقع سکیورٹی کی چار چوکیوں پر قبضہ جما لیا ہے۔اعلی افغان کمانڈروں نے بتایا ہے کہ اس وقت لشکرگاہ میں شدید لڑائی جاری ہے۔لیکن، انھوں نے طالبان کو پسپا کرنے کا عہد کر رکھا ہے، اور کہا ہے کہ قومی سلامتی کی افواج نے باغیوں کو شدید جانی نقصان پہنچایا ہے۔ تاہم، اس ضمن میں، کوئی اعداد جاری نہیں کیے گئے۔یلمند افغانستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں پوست کی کاشت ہوتی ہے۔طالبان کے نئے سربراہ کے طور پر ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کی تقرری کے بعد طالبان نے حملے تیز کردیے ہیں۔ ان کے پیش رو، ملا منصور 21 مئی کو پاکستان میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے۔ناقدین کا خیال ہے کہ ہیب اللہ کی قیادت میں اس سال موسم گرما کے دوران افغانستان میں لڑائی اور خونریزی میں اضافہ ہوگا، جنھیں عام طور پر ایک قدامت پسند عالمِ دین سمجھتا جاتا ہے، چونکہ وہ میدان جنگ کے ذریعے اپنے اختیار کو تقویت دینا چاہین گے، تاکہ یہ تاثر ختم ہو کہ ان کے پیش رو کی ہلاکت سے طالبان کمزور پڑ گئے ہیں۔ادھر ایک اہم پیش رفت کے طور پر پیر کو طالبان نواز علما کی ایک کلیدی کونسل نے ہیبت اللہ کی بیعت کا اعلان کیا۔ امریکی نشریاتی ادارے کو بھجے گئے ایک بیان میں کونسل کے سربراہ مولوی احمد ربانی نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ اعلی عہدے کے لیے ہیبت اللہ کے متفقہ انتخاب کو مدِ نظر رکھ کر کیا گیا ہے۔ کونسل نے منصور کے نام کی توثیق سے انکار کر رکھا تھا، جن کی قیادت پر طالبان کے حلقوں کے اندر بھی اختلاف تھا۔دریں اثناء افغان میڈیا کے مطابق افغانستان کے شہر قندوز میں طالبان نے 45 مسافر وں کو اغوا کرلیا، غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ان مسافروں میں 16 افراد کو مار دیاگیا ہے۔ طالبان نے منگل کی صبح شہر قندوز میں مسافروں کی تین بسوں اور تین وینوں کو روکا،اس مقصد کیلئے انہوں نے راستے میں ایک پوسٹ بھی قائم کر رکھی تھی۔ابتدا میں طالبان نے 230 مسافروں کو اغوا کیا ،جس میں سے بعد میں 85 مسافروں کو آزاد کردیا گیا ۔افغان حکام کے مطابق 45 مسافر اب بھی طالبان کی قید میں ہیں جبکہ ان میں سے 16 مسافروں کو مارے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔

مزید : علاقائی