عزیز حامد مدنی، ایک انفرادیت پسند شاعر! (1)

عزیز حامد مدنی، ایک انفرادیت پسند شاعر! (1)
عزیز حامد مدنی، ایک انفرادیت پسند شاعر! (1)

  


تازہ ہَوا بہار کی دل کا ملال لے گئی

پائے جنوں سے حلقۂ گردشِ حال لے گئی،

عزیز حامد مدنی کے بھرپور تعارف کے لئے یہ ایک شعر ہی کافی ہے، مگر انہوں نے ایسے بیسیوں شعر کہے وہ درحقیقت انفرادیت پسند، شاعرِ باکمال تھے۔ بہت عمدہ شعر کہتے تھے اور بہت بُرا پڑھتے تھے، ریڈیو سے تمام عمر وابستگی رہی مگر وہ ریڈیو کے مائیک کے لئے موزوں نہ تھے۔عام پبلک مشاعروں میں بھی کلام سُناتے تو اپنا کلام ایسی بے دلی سے پڑھتے جیسے یہ کلام اُن کا اپنا نہ ہو۔ یوں لگتا تھا گویا گھاس کاٹ رہے ہوں۔

اس انفرادیت پسند، شاعرِ بے بدل کا اصل نام عزیز حامد تھا وہ رائے پور۔ مدھیہ پردیش ]انڈیا[ میں محمد حامد ساقی کے ہاں15 یا 21جون1922ء کو پیدا ہوئے۔ یہ وہ تاریخ و سنہِ پیدائش ہے جو تذکرہ نویسوں نے لکھی اور اُن کے سرکاری کاغذوں میں ملتی ہے۔ جبکہ میرے نام ایک ذاتی خط میں انہوں نے اپنی اصل تاریخِ پیدائش 14اپریل1926ء لکھی تھی۔

یہ خط انہوں نے مجھے اُن دِنوں لکھا تھا جب مَیں اکادمی ادبیاتِ پاکستان کی ’’اہلِ قلم ڈائریکٹری‘‘ مرتب کر رہا تھا، مجھے نہیں معلوم کہ بعد کے مرتبیُّن نے یہ تصحیح رواء رکھی یا نہیں۔ مدنی صاحب کا کہنا یہ تھا کہ ملازمت کے جلد حصول کے لئے تاریخِ پیدائش میں یا سکول میں داخلہ دلواتے ہوئے اس زمانے میں دو چار برس کا اضافہ کر دیا جاتا تھا۔ وہ22فروری1948ء کو پاکستان آئے ، انہوں نے ایم اے انگریزی ناگپور یونیورسٹی سے کیا اور سندھ مسلم کالج کراچی میں انگریزی کے لیکچرار ہو گئے تھے،مگر زیڈ اے بخاری کے ایماء پر ریڈیو پاکستان سے منسلک ہو گئے اُن کی شاعری کی انفردیت کو اُس وقت قبول کر لیا گیا تھا، جب رائے پور میں1946ء میں انہوں نے ایک بڑے مشاعرے میں اپنی نظم ’’آج کی رات کے بعد‘‘ کے عنوان سے سُنا کر سامعین کی توجہ اپنی جانب کھینچی تھی۔

عزیز حامد مدنی کے والد گرامی محمد حامد ساقی بھی شاعر تھے، وہ مولانا شبلی نعمانی کے شاگرد اور مولانا محمد علی جوہر کے دوستوں میں سے تھے۔ مشہور ادیب، نقاد، محقق، مترجم ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری بھی اُن کے عزیزوں میں سے تھے۔رائے پور کے ایک اور شاعر ادیب رائے پوری بھی تھے، جو نعت گوئی کے حوالے سے مشہور و مقبول رہے اُن کی ایک نعت کا مطلع لازوال ہے:

خدا کا ذکر کرے، ذکرِ مصطفےٰ نہ کرے!

ہمارے مُنہ میں ہو ایسی زباں خدا نہ کرے

عزیز حامد مدنی کے والد گرامی اُنہیں CSP افسر بنانا چاہتے تھے، مگر انہوں نے ریڈیو اور شاعری کو پسند کیا۔مدنی صاحب نے اگرچہ غزلیں بھی کہیں اور خوب کہیں، مگر اُن کی مجموعی پہچان ایک نظم گو شاعر کے طور پر ہے، وہ شروع شروع میں غالب کی طرح خاصے مشکل اور ادَق اشعار کہتے تھے۔ اُن کا ریڈیو کا ابتدائی زمانہ تھا کہ کسی نے مولانا چراغ حسن حسرت سے اُن کا تعارف کرایا کہ یہ بھی شعر کہتے ہیں، چراغ حسن حسرت اُن کے افسر تھے۔ ڈ رتے، جھجکتے لجاتے ، شرماتے عزیز حامد مدنی نے ایک شعر سُنایا۔اس میں کچھ خوفناک، ہولناک قسم کے حشرات الارض مثلاً ’’کژدم‘‘ کا ذکر تھا۔ شعر سُن کر مولانا چراغ حسن حسرت نے کہا:’’مولانا‘‘! یہ آپ شعر کہتے ہیں یا بچوں کو ڈراتے ہیں؟‘‘۔

شاید اِسی پہلی کڑی تنقید کا اثر ہو گا کہ عزیز حامد مدنی نے حتیٰ الامکان مشکل گوئی سے پرہیز کیا، پھر بھی ایسے ایسے اشعار اُن کے ہاں ملتے ہیں اور خوبصورت انداز میں ملتے ہیں، جنھیں سمجھنے کے لئے سوچنا بھی پڑھتا ہے۔ مثلاً کچھ اشعار ملاحظہ ہوں:

طلسمِ خواب زُلیخا و دامِ بردہ فروش

ہزار طرح کے قِصے سفر میں ہوتے ہیں

***

اک تازہ مُہر، لب سے جُنوں مانگتا ہے عشق

جُنبش بدن کی سلسلہ آمیز ابھی سے ہے

شاید کہ محرمانہ بھی اُٹّھے تِری نگاہ،

ویسے تری نگاہ دِل آویز ابھی سے ہے،

اک تازہ تر سوادِ محبت میں لے چلی،

وہ بُوئے پیرہن کہ جُنوں خیز ابھی سے ہے

عزیز حامد مدنی کی سانولی سلونی شخصیت بڑی دل آویز تھی۔ آواز میں نسوانیت تھی، ثقلِ سماعت کے سبب یا محض عادتاً پہلی بار مخاطب ہونے پر گویا کچھ سن، سمجھ نہ پاتے تھے۔’’جی‘‘ اور ’’جے‘‘ کے درمیان کی ایک لفظی آواز سے مخاطب کو متوجہ کرتے تھے۔ گویا زبانِ حال سے کہہ رہے ہوں کہ ’’ پھر فرمایئے! کیا کہہ رہے تھے آپ؟‘‘ لیکن اپنے دفتری کام کاج میں نہایت چاق و چوبند تھے۔ افسر بننا بھی چاہتے تو ’’افسری‘‘ کبھی نہ جھاڑ سکتے۔ اکثر مطالعے میں منہمک رہتے، زیادہ مطالعہ انگلش لٹریچر کا کرتے، ہمیشہ کوئی نہ کوئی انگریزی کتاب ہاتھ میں یا دفتر کی میز پر مَیں نے ضرور دیکھی، اُردو ادب کا بھی گہرا مطالعہ کِیا ہُوا تھا۔ شیکسپیئر کے ڈراموں کے اُردو میں کامیاب منظوم تراجم بھی کئے۔

عزیز حامد مدنی کی مطبوعہ شعری کتب میں ’’چشم نگراں‘‘۔ ’’دشتِ امکاں‘‘ ’’نخلِ گماں‘‘ اور ’’مِژگانِ خُوں فشاں‘‘ یاد گار ہیں۔ ان کے علاوہ فیض احمد فیض پر ایک خصوصی مطالعہ ’’آج بازار میں پا بہ جَولاں چلو‘‘ کے نام سے مطبوعہ شکل میں سرمایۂ ادب ہے۔تنقیدی کام میں ’’جدید اُردو شاعری‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب قابلِ ذکر ہے۔(جاری ہے)

عزیز حامد مدنی تمام عمر مجرّ د رہے۔کتابوں سے ہی شروع سے آخر تک تعلق برقرار رکھا۔ لکھنا پڑھنا زندگی بھر اُن کا اوڑھنا بچھونا رہا۔ لکھتے کم، پڑھتے زیادہ رہے۔ تاہم عشق، معاشقے انہوں نے بھی کئے مگر ریڈیو کے ایک دو اور’’کرانک بیچلر‘‘ افسر شاعروں شاد امرتسری اور احمد ظفر کی طرح کی زندگی بھی بسر نہیں کی۔احمد ظفر کی یک طرفہ محبوبہ مشہور گلوکارا انیقہ بانو تھیں جن سے حسرتِ وصال لئے احمد ظفر دُنیا سے ہی رخصت ہو گئے، ایک بار اچانک وہ انیقہ کے گھر گئے اور جب اُس نے دروازہ کھولا تو دیکھ کر بیہوش ہو گئے اور اس نے جھٹ دروازے کے پٹ بند کر دیئے۔ ریڈیو پاکستان سے وابستہ دو بہنوں سے ملنے کے لئے جب عزیز حامد مدنی ]کنٹرولر ہوم پی بی سی[ اسلام آباد سے سیٹلائٹ ٹاؤن راولپنڈی تشریف لاتے تو آتے جاتے مجھ سے بھی مڈ بھیڑ ہو جاتی، میری سسرالی کوٹھی ان دونوں بہنوں کی کرایے کی کوٹھی سے بالکل جُڑی ہوئی تھی۔!

عزیز حامد مدنی نے اپنی عام معاشرتی زندگی میں عملی طور پر بہار کے مختلف رنگ دیکھے نہ دیکھے مگر ابتدا سے آخر تک ’’بہار‘‘ کا استعارا اُن کے کلام میں توانا رہا۔ چنانچہ امجد اسلام امجد نے جب مختلف شاعروں پر بھرپور پروگرام ٹی وی سے کئے تو ’’بہار‘‘ کے استعارے کے چکر میں احمد فراز کا یہ مشہور زمانہ شعر ابتدائی تعارف میں ہی عزیز حامد مدنی کو بخش دیا کہ:

مَیں تیرا نام نہ لوں پھر بھی لوگ پہچانیں

کہ آپ اپنا تعارف ہَوا بہار کی ہے

مدنی صاحب ابتدائی غزلوں میں سے بعض اشعار تو ضرب المثل بن گئے!

زمزمہ پیرا کوئی خونیں نوا ہو جائے گا

جب بہار آئے گی زخمِ دل ہرا ہو جائے گا

***

تازہ ہوا بہار کی دِل کا ملال لے گئی

پائے جنوں سے حلقۂ گردشِ حال لے گئی

***

فراق سے بھی گئے ہم وصال سے بھی گئے

سُبک ہوئے ہیں تو عیشِ ملال سے بھی گئے؟

وہ لوگ جن سے تری بزم میں تھے ہنگامے

گئے تو کیا تری بزمِ خیال سے بھی گئے

چراغِ بزم ابھی جانِ انجمن نہ بُجھا!

کہ یہ بُجھا تو تِرے خدوخال سے بھی گئے

عزیز حامد مدنی نے وفات سے دو تین گھنٹے قبل بھی کچھ شعر کہے۔دو شعر یوں ہیں:

سارے مزاج آشنا بیٹھے رہے بہار کے

تیز ہوا دکھا گئی ہاتھ کئی کٹار کے

خانۂ عشق میں ضرور چاہئے کوئی یاد گار

پیرہنِ سفر زدہ رکھ تو دیا اتار کے

عزیز حامد مدنی نے جہاں نظمیں،غزلیں لکھیں، وہیں نعتیں بھی لکھیں۔ نعت کا ایک مطلع ہے:

مرحبا سیّدِؐ والا یہ اُفق تابی بھی

حرف کا طاق ہُوا جاتا ہے محرابی بھی

نظم گوئی میں الگ شناخت، الگ پہچان کے باوجود مدنی صاحب کی غزل گوئی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ بقول فضل کریم فضلی:

نظم ہے اپنی جگہ خوب مگر ہائے غزل۔

چند شعر اور مختلف غزلوں کے ملاحظہ ہوں:

خوں ہُوا دل کہ پشیمانِ صداقت ہے وفا

خوش ہُوا جی کہ چلو آج تمہارے ہوئے لوگ

یہ بھی کیا رنگ ہے اے نرگسِ خواب آلودہ

بے ارادے ترے جادو کے ہیں مارے ہوئے لوگ

***

کرم کا اَور ہے امکاں کُھلے تو بات چلے

اِس التفات کا عنواں کھلے تو بات چلے

کچھ اب کے ہم بھی کہیں اُس کی داستانِ وصال

مگر وہ زلفِ پریشاں کھلے تو بات چلے

***

ہَوا کی نرم رَوی سے جواں ہُوا ہے کوئی

فریبِ تنگ قبائی کا وقت ہے کہ نہیں

***

ہزار وقت کے پَر تو نظر میں ہوتے ہیں

ہم ایک سایۂ وحشت اثر میں ہوتے ہیں

وہی ہیں آج بھی اُس جسم نازنیں کے خطوط

جو شاخِ گُل میں ، جو مَوجِ گُہر میں ہوتے ہیں

گزر رہا ہے تو آنکھیں چُرا کے یُوں نہ گزر

غلط بیاں بھی بہت رہگزر میں ہوتے ہیں

توانا لب و لہجے، الگ تھلگ آواز کے حامل، انفرادیت پسند، بلکہ حقیقتاً منفرد شاعر، عزیز حامد مدنی نے 23اپریل1991ء کو کراچی میں آخری سانس لی اور پھر اس جہانِ فانی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے منُہ موڑ کر پرانا قبرستان، لیاقت آباد کراچی میں زمیں اُوڑھ کر سو گئے:

جانے والے جاتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں

وہ حقیقت میں کبھی ہم سے جُدا ہوتے نہیں

مزید : کالم