وزیراعظم کی علالت

وزیراعظم کی علالت
وزیراعظم کی علالت

  


ایک دور وہ بھی تھا جب لوگ اپنے اور اپنے احباب کے لئے درد دل کی دعا کیا کرتے تھے۔ مگر جب سے دل کے پیچیدہ امراض اور بائی پاس آپریشن جیسے معاملات سامنے آئے ہیں اس کے بعد سے دل کی سلامتی کے لئے ہاتھ اٹھائے جاتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق میاں محمد نوازشریف کا دل اب اتنا خراب ہو گیا تھا کہ اس کے لئے آپریشن ناگزیرہو گیا ۔ میاں نوازشریف لندن سے کاروبار مملکت چلا رہے ہیں۔ سکائپ کے ذریعے بجٹ کی منظوری دی جا رہی ہے۔ غالب کو دل ناداں سے شکایت تھی کہ نجانے اسے کیا ہو گیا ہے اور اب اس درد کی دوا کیا ہو گی؟ مگر میاں نوازشریف کے درددل سے نجانے عمران خان کو کیا ہو گیا ہے۔ اس موقعہ پر وہ غمگسار یا چارہ ساز بننے کی بجائے اپوزیشن لیڈر بننے پر اصرار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نوازشریف کی بیماری سے ایک اور آئینی بحران پیدا ہو گیا ہے اور اگر جمہوریت ڈی ریل ہوئی تو ذمہ دار نوازشریف ہوں گے۔ یعنی خان صاحب کے مطابق اگر اب جمہوریت کو خطرہ ہے تو اس کی وجہ جناب نوازشریف کا درددل ہو گا۔ عمران خان کی اس دلیل سے ہمیں میر کا شعر یاد آ گیا

مگس کو باغ میں جانے نہ دیجو

کہ ناحق خون پروانے کا ہو گا

اس میں شاعر نے کہا کہ شہد کی مکھی کو باغ میں نہیں جانا چاہیے کیونکہ اس سے پروانے کا خون ہو گا۔ اس شعر کی وضاحت کچھ یوں کی جاتی ہے کہ اگر شہد کی مکھی باغ میں جائے گی تو شہد کا چھتہ بھی بنائے گی اور اگر شہد کا چھتہ بنے گا تو پھر اس چھتے سے کوئی نہ کوئی موم بھی حاصل کرے گا۔ اس موم سے موم بتیاں بنیں گی اور جب یہ موم بتیاں روشن ہوں گی تو پروانے اس کو دیکھ کر آئیں گے اور اپنی جان قربان کر بیٹھیں گے۔

میاں نوازشریف تیسری مرتبہ ملک کے وزیراعظم بنے ہیں۔ ان سے پہلے بھی اس عہدے پر متعدد شخصیات فائز رہ چکی ہیں۔ سب نے اچھے کام بھی کئے ہیں جو تاریخ کا حصہ ہیں اور ان ہی میں سے چند نے ایسے کام بھی کئے ہیں کہ انہیں یاد کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔ مگر مشرقی روایات یہ رہی ہے کہ جب کوئی شخص بیمار ہو تو اس کی بیمارپرسی کی جاتی ہے۔ صلیبی جنگوں کے دوران انگریز بادشاہ رچرڈ شیردل بیمار ہو گیا۔ صلاح الدین ایوبی نے اس کے لئے اپنا طبیب بھجوایا۔ اس کی صحت یابی کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ مغربی لٹریچر میں صلاح الدین ایوبی کو اچھے لفظوں میں یاد کیا جاتا ہے اور ایک نقاد کے مطابق جب رچرڈ شیردل کی تعریف کی جاتی ہے تو صلاح الدین ایوبی کے رویے کو بھی سراہا جاتا ہے۔ میاں نوازشریف اور عمران خان کے درمیان کوئی صلیبی جنگ نہیں ہو رہی ۔ عمران خان صاحب کو اپنی باری کا شدت سے انتظار ہے اور وہ اپنی اس خواہش کا سرعام اظہار کر چکے ہیں کہ ’’میاں صاحب جان دیو ساڈی واری آن دیو۔‘‘ ان کی بجائے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کے رویے کو خاصا معقول قرار دیا جا سکتا ہے۔ جہاں عمران خان وزیراعظم کی بیماری سے بحران پیدا ہونے کا تذکرہ کر رہے ہیں وہاں خورشید شاہ کہہ رہے ہیں کہ وزیراعظم کی بیماری کو بہانہ بنا کر بجٹ منسوخ نہیں کرنے دیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کہیں نہیں لکھا کہ وزیراعظم ہو گا تو بجٹ پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا ہے کہ کسی کی بیماری پر منفی سیاست نہیں کرنی چاہیے۔ جناب خورشید شاہ نے بجٹ سے اچھی توقعات وابستہ کرنے سے پرہیز کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ کے مزدور دوست ہونے کی توقع نہیں۔

چرچل نے کہا تھا کہ اپوزیشن کا فرض ہے کہ وہ حکومت کی ہر معاملے میں مخالفت کرے اور اگر کسی مرحلے پر اسے حکومت کی حمایت کرنی پڑ جائے تو یہ حمایت کک (KICK) کی بجائے(KISS) کی صورت میں نہیں۔ ہمارے ہاں سرعام کک اور کس دونوں کو کوئی اچھا نہیں سمجھا جاتا ہے۔ خورشید شاہ حکومت پر جس طرح تنقید کر رہے ہیں ان پر فرینڈلی اپوزیشن کا الزام لگایا جا سکتا ہے۔ مگر عمران خان جس طرح میاں نوازشریف کی بیماری کو سیاسی مسئلہ بنا رہے ہیں وہ کچھ زیادہ ہی مخالفانہ حرکت ہے۔ ملک بھر میں میاں نوازشریف کی صحت یابی کے لئے دعائیں کی جا رہی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے کارکن ہی ان کے لئے دعائیں نہیں کر رہے وطن عزیز میں ان کے سیاسی مخالفین بھی ان کی صحت یابی کے لئے دعاگو ہیں۔مسیحی برادری نے وزیراعظم کی جلد صحت یابی کے لئے یوم دعا منایا ہے۔ گرجاگھروں میں خصوصی دعائیہ تقاریب کا اہتمام ہوا ہے۔ پاکستان ہندوکونسل نے وزیراعظم کی جلد صحت یابی کے لئے خصوصی پرارتھنا کی اپیل کی ہے۔ افغان صدر اشرف غنی ان کے لئے دعا گو ہیں۔ میاں شہبازشریف اپنے بھائی اور قائد کے پاس پہنچ چکے ہیں۔

جناب نوازشریف کی بیماری کے حوالے سے بعض لوگ سوشل میڈیا پر بھی افسوسناک مہم چلا رہے ہیں۔ بعض دل جلے انہیں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی سے علاج کرانے کا مشورہ دے رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ انہیں وارننگ دے رہے ہیں کہ ان کے ساتھ کیسا سلوک ہو گا۔ بعض لوگ وزیراعظم کی بیماری کے حوالے سے پاکستان کے لئے آئینی مسائل پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمارے ہاں تو صدر اور وزیراعظم کو چھٹی کر نے کی عادت نہیں ہے لیکن امریکی صدر اور برطانوی وزیراعظم اپنی گوناگوں عالمی مصروفیات سے وقت نکال کر چھٹی پر بھی جاتے ہیں۔ تفریحی مقامات پر وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ مزے کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ حال ہی میں ویت نام کے دورے کے دوران صدر اوباما ویت نام کے شہر ہنوئی کے ایک عام سے ریستوران میں چلے گئے وہاں انہوں نے 6 ڈالر کا کھانا کھایا۔ اس 6 ڈالر کے کھانے کو میڈیا میں بے پناہ پبلسٹی دی گئی۔ کسی اپوزیشن لیڈر نے 6 ڈالر کے کھانے کے حوالے سے ان پر حملہ کرنے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی صدر اوباما کے ساتھ اس کے خاندان کا کوئی فرد تھا اور نہ وہاں ویسی صورتحال پیدا ہوئی جیسی ایک ریستوران میں بل گیٹس کے لئے پیدا ہوئی تھی۔ بل گیٹس نے جب ایک ویٹر کو پانچ ڈالر کی ٹپ دی اور اس نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ ان کی بیٹی نے پانچ سو ڈالر کی ٹپ دی ہے۔ تواس پر بل گیٹس نے کہاکہ وہ ایک غریب آدمی کے بیٹے ہیں جبکہ ان کی بیٹی کا باپ دنیا کا امیر ترین شخص ہے۔

پاکستان میں لیڈروں کے بیمار ہونے کی خبروں کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی روایت خاصی پرانی ہے۔ قدرت اللہ شہاب لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ پاکستان ٹائمز نے گورنرپنجاب کی علالت کی خبر شائع کر دی۔ یہ خبر معمول کے مطابق رپورٹر نے دی تھی۔ مگراس خبر کو پڑھ کر نواب کالا باغ کو غصہ آ گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹائمز کا مالک چوہدری ظہور الٰہی چونکہ خود گورنرپنجاب بننا چاہتا ہے اس لئے جان بوجھ کر وہ یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ گورنر پنجاب اپنے فرائض کی ادائیگی کے اہل نہیں رہے۔ اس کے بعد نواب کالاباغ نے چوہدری ظہور الٰہی کے ساتھ جو سلوک کیا وہ ہماری سیاسی تاریخ کا ایک شرمناک باب ہے۔ جناب عمران خان کو ایک اچھے اپوزیشن لیڈر کے طور پر میاں نوازشریف کی صحت یابی کے لئے دعا کرنی چاہیے اور اگر ممکن ہو تو خیرسگالی کے جذبات کے اظہار کے لئے گلدستہ بھی بھجوانا چاہیے۔ پاکستان میں سیاست تو ہو رہی ہے اور ہوتی رہے گی مگر اچھی سیاسی روایات کو جو زوال آ رہا ہے یہ ایک بڑا المیہ ہے۔ ایسے موقع پر نوابزادہ نصراللہ خان بہت یاد آتے ہیں جو جلسوں میں اپنے سیاسی مخالفین پر خوب گرجتے اور برستے تھے مگر ہرسال انہیں آم بھجوانا نہیں بھولتے تھے۔

مزید : کالم