وزیراعظم نے ویڈیولنک کے ذریعے بجٹ کی منظوری دے دی،3جون کو پیش ہوگا

وزیراعظم نے ویڈیولنک کے ذریعے بجٹ کی منظوری دے دی،3جون کو پیش ہوگا

اسلام آباد سے ملک الیاس:

وزیراعظم محمدنوازشریف عارضہ قلب کی وجہ سے علاج کے لئے لندن میں ہیں ،ملک بھر کی طرح راولپنڈی اسلام آباد میں بھی وزیراعظم محمدنوازشریف کی صحت کیلئے دعاؤں کا سلسلہ جاری ہے جڑواں شہروں میں مسلم لیگ ن کے مقامی رہنماؤں کی جانب سے اجتماعی طور پر دعائیں کی جارہی ہیں اس بار جہاں 28مئی کو یوم تکبیر منایا گیا وہاں وزیراعظم کی صحت یابی کیلئے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں اس کے ساتھ ساتھ خوش آئند بات یہ ہے کہ حکومت مخالف سیاسی جماعتوں کے قائدین نے بھی سیاست کو بالائے طاق رکھتے ہوئے وزیراعظم کیلئے خیرسگالی کے جذبات کااظہار کیا جس کا قوم کو بھی مثبت پیغام گیا ہے کہ سیاسی اختلافات کامطلب سیاسی دشمنی نہیں ہوتا،تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان،پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت تمام اپوزیشن رہنماؤں نے وزیراعظم کیلئے خیرسگالی کے جذبات کااظہار کیا ہے۔ایک طرف ملک بھر میں وزیراعظم کی صحت و تندرستی کیلئے دعائیں کی جارہی ہیں تو دوسری جانب سماجی رابطوں کی ویب سائٹس ٹوئیٹر ،فیس بک،لنکڈ ان پر بھی وزیراعظم محمدنوازشریف کی صحت یابی کیلئے دعائیہ پوسٹیں اپ لوڈ کی جارہی ہیں اس سلسلے میں ن لیگ کے متوالے آگے آگے ہیں۔

ایک طرف وزیراعظم کی بیماری کا سلسلہ ہے تو دوسری طرف وفاقی بجٹ پیش ہونے کو جارہا ہے ،ملک بھر کے عوام اور خصوصاً سرکاری ملازمین بجٹ سے آس امید لگائے بیٹھے ہیں کہ دیکھتے ہیں کہ اس بار یہ بجٹ ان کی امیدوں پر پورا اترتا ہے یا ہرسال کی طرح ایک بار پھر امیدوں پر پانی پھیر جائیگا،وزیرخزانہ اسحق ڈار موجودہ حکومت کا چوتھا بجٹ پیش کرینگے،عوام توقع کررہے ہیں کہ انکی بجٹ تجاویز سے غریب عوام اور پسے ہوئے پاکستانیوں کی بھلائی ہوسکے گی،سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کیا اس بار خاطرخواہ اضافہ ہوگا یا نہیں ،دوسری طرف اپوزیشن جماعتیں اس تاک میں بیٹھی ہیں کہ بجٹ میں کسی بڑے طبقے کی خواہشات سے متصادم کوئی تجویز شامل ہوتو وہ اسمبلی اور اسمبلی سے باہر سڑکوں پر نکل آئیں ،اگرچہ حکومت بھی ان ارادوں سے بخوبی آگاہ ہے مگر بجٹ کے حوالے سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ کبھی بھی عوام کی امیدوں پر پورا نہیں اترتا دیکھتے ہیں اب کی بار بجٹ کیا رنگ جماتا ہے۔بجٹ کے حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف شعبوں میں عائد محصولات کی شرح بڑھائی جائیگی تاکہ ایف بی آر اپنا ہدف 3621ارب روپے پورا کرسکے،کچھ ایکسپورٹ سیکٹرز پر سیلز ٹیکس ختم کرنیکی تجویز بھی دی گئی ہے،زرعی شعبے پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کیے جانیکا امکان ہے،گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹوکن فیس پر ٹیکس بڑھانے پر بھی غورکیا جارہا ہے ،پرچون فروشوں پر فکسڈ ٹیکس لگانے کی تجویز کو بھی حتمی شکل دی جارہی ہے ۔

وزیراعظم محمد نواز شریف نے وڈیو لنک کے ذریعے وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس سے خطاب بھی کیا،انکا کہنا تھا کہ معاشی و سیکیورٹی چیلنجوں سے نبرد آزما ہونے کیلئے مرتب کی گئی پالیسیوں اور محنت کے ثمرات حاصل ہو رہے ہیں، تمام اقتصادی اشاریوں میں بہتری آئی، افراط زر اور مالی خسارہ کم اور ٹیکس وصولیوں میں اضافہ ہوا، سیاسی رہنماؤں، میڈیا اور پوری قوم کا صحت یابی کی دعاؤں پر شکریہ ادا کرتا ہوں، میرے جسم کی تمام توانائیاں وطن کی مٹی کیلئے وقف ہیں، پاکستان غربت، جہالت اور پسماندگی کے اندھیروں سے پاک ہو گا، بجٹ میں کاشتکاروں کیلئے خصوصی پیکیج اور یوریا کھاد کی قیمتیں کم کرنے کا اعلان کیا جائے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان کی موجودہ حکومت کو چوتھا بجٹ تیار کرنے کا اعزاز حاصل ہو رہا ہے جو 3 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا،2013ء میں جب ہم نے حکومت سنبھالی تو معیشت کی صورتحال کمزور تھی، غیر مستحکم مالی خسارے، سرمایہ کاری میں کمی اور توانائی بحران جیسے مسائل کا سامنا تھا، حالات نے لوگوں کو نفسیاتی مسائل سے دوچار کر رکھا تھا لیکن وہ بڑے چیلنجوں سے گھبرائے نہیں اور قوم کو درپیش توانائی اور سیکورٹی چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے جامع منصوبہ بندی کی اور معاشی چیلنجوں سے نبرد آزما ہونے کیلئے پالیسیاں مرتب کیں اور ان پر ایمانداری سے عملدرآمد کیا اور آج تین سال بعد اپنی محنت کا ثمر حاصل کر رہے ہیں۔ آج ملکی معیشت مستحکم ہے، گروتھ ریٹ 8 سال کی بلند ترین سطح پر ہے، ہماری پالیسیاں ملک میں امن لائی ہیں، سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھ رہا ہے، تمام معاشی اشاریوں میں بہتری نظر آ رہی ہے، افراط زر اور مالی خسارہ کم ہوا ہے، ٹیکس وصولیوں میں 2013ء کے مقابلہ میں 56 فیصد اضافہ ہوا ہے جو بڑی کامیابی ہے۔ غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر فروری 2014ء کے مقابلہ میں ایک نئی بلندی 21.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، زرمبادلہ مستحکم رہے ہیں

وفاقی وزیرداخلہ کی جانب سے شناختی کارڈز کی دوبارہ تصدیق کرانے کے فیصلے نے سیاسی،سماجی،عوامی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے ،زیادہ تر لوگوں کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے بین الاقوامی سطح پرپاکستان کی جہاں نیک نامی میں اضافہ ہوگا وہاں ملک کے اندر دہشتگردی کو ختم کرنے میں بھی مدد ملے گی جبکہ کچھ ایسے بھی ہیں جو اس ساری کاروائی کو فضول مشق سمجھتے ہیں بہرحال ہر ایک کااپنا اپنا موقف ہے، وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اڑھائی کروڑ خاندانوں کے شناختی کارڈز کی دوبارہ تصدیق کیلئے مجوزہ روڈ میپ کی ابتدائی رپورٹ کی منظوری دی ہے، یہ منظوری چیئرمین نادرا کی طرف سے وزیر داخلہ کو دی گئی بریفنگ کے بعد دی گئی۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے احکامات پر نادرا نے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ کی ہنگامی بنیادوں پر تصدیق شروع کی ہے۔ اس ضمن میں اختیار کی گئی کثیر الجہتی حکمت عملی میں ایمنسٹی سکیم، ہیلپ لائن کے ذریعے کمیونٹی کو انگیج کرنے، ایس ایم ایس سروس، ریوارڈ سسٹم، ڈیٹا کے ذریعے خاندان کا پتہ چلانے، فراڈ کی نشاندہی کیلئے درخواستوں اور شہریوں کی پرو فائلنگ شامل ہیں۔ کثیر الجہتی حکمت عملی کے تحت نادرا پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے تقریباً 130 ملین موبائل فون صارفین کے سموں کی بائیو میٹرک تصدیق کے ڈیٹا کو استعمال کرے گا۔ نادرا ہر خاندان کے سربراہ کو ایک مختصر پیغام (ایس ایم ایس) ارسال کرے گا جس میں ان سے درخواست کی جائے گی کہ وہ اپنے خاندان کے افراد (فیملی ٹری) کی تصدیق کریں، پیغام ملنے کے بعد اگر فیملی کے افراد میں کوئی غلط اندراج پایا گیا تو خاندان کا سربراہ نادرا کو ’’نو‘‘ (نہیں) کا پیغام بھجوائے گا جس کے بعد نادرا خاندان کے سربراہ سے درخواست کرے گا کہ وہ قریبی نادرا دفتر جا کر اپنے خاندان کے ممبران کی دوبارہ تصدیق کرائیں، اس سے نادرا کو کسی خاندان کے اندر کسی اجنبی اور غیر شخص کی شمولیت کا سراغ لگانے میں مدد ملے گی جس کے بعد نادرا اس کا شناختی کارڈ بلاک اور اگر پاسپورٹ جاری ہوا ہو تو اسے منسوخ کرنے کی کارروائی کر سکے گا۔

مزید : ایڈیشن 1