وزیر خزانہ سندھ حکومت کے اعتراض کا جواب دیں، کراچی سرکلر ریلوے کے لئے وزیراعظم کا وعدہ ایفا کریں

وزیر خزانہ سندھ حکومت کے اعتراض کا جواب دیں، کراچی سرکلر ریلوے کے لئے ...

یہ سطور شائع ہوں گی تو میڈیا میں وہ سب تفصیل آ چکی ہو گی جس سے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اوپن ہاٹ سرجری کے آپریشن کے دوران گزرے ہوں گے۔ اس وقت تو مُلک بھر کی طرح یہاں بھی سب ہی ان کی صحت یابی کے لئے رب کریم کی بارگاہ میں دست بددعا ہیں۔ یہ اچھی بات ہوئی ہے کہ اس وقت سیاسی اور ذاتی مخالفین نے بھی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر وزیراعظم کی صحت کے لئے دُعا کر کے اسلامی تعلیمات اور مشرقی روایات کا پاس رکھا ہے، کیا حرج ہے کہ اگر ہم باقی معاملات میں بھی تحمل رواداری اور برداشت کو معمول بنا لیں۔ وزیراعظم نے ویڈیو لنک کے ذریعے کابینہ کے اجلاس کی صدارت کر کے بجٹ کی منظوری کے تقاضے پورے کر دیئے ہیں۔ تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی جناب عارف علوی نے کہہ دیا ہے کہ وزیراعلیٰ کا ویڈیو لنک کے ذریعے کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اب جناب عمران خان صاحب کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔جہاں تک معاملہ ہے بجٹ 2016-17ء کا اس کی تفصیلات تو ہر سال کی طرح اب بھی پہلے سے سامنے آ چکی ہیں۔ وہ زمانہ تو کب کا ختم ہو چکا ہے، جب قومی اسمبلی میں بجٹ پیش ہونے سے ایک گھنٹہ پہلے بھی کسی بڑے باخبر اور بارسوخ صحافی کے لئے بجٹ تجاویز کو حاصل کرنا آسان نہ تھا۔ بھٹو کے دور میں ایک بار ایسا ہوا تھا جس کا فائدہ اُٹھا کر ایک شوگر مل مالک نے ٹیکس سے بچنے کا راستہ تلاش کر لیا تھا، جس پر مُلک میں ایک ہنگامہ برپا ہو گیا تھا، تحقیق ہوئی تو پتہ چلا کہ یہ کارنامہ کسی صحافی کا نہیں، کابینہ کے ایک وزیر کا تھا جس کی شوگر مل کے مالک سے دوستی تھی۔ بھٹو نے اس وزیر کے ساتھ کیا کِیا تھا یہ اب کوئی راز نہیں ہے۔

جب بجٹ کی راز داری کا زمانہ تھا تو صحافی بھی محتاط رہتے تھے کہ وہ کوئی ایسی خبر لیک نہ کر دیں جس سے کوئی گروپ فائدہ اٹھا پائے یا کسی کو نقصان پہنچ جائے۔ اب تو بجٹ سیشن کو قانونی تقاضے پورے کرنے کی رسمی کارروائی کے طور پر لیا جانے لگا ہے، اس کا نقصان یہ ہوا ہے کہ بجٹ پیش ہونے سے پہلے ہی اعتراض ہونے لگے ہیں۔ سندھ کا اعتراض وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی طرف سے آ گیا ہے کہ بجٹ تجاویز میں سندھ کا حصہ وزیراعظم کے وعدوں کے برعکس ہے۔وزیر خزانہ جناب اسحاق ڈار براہ کرم سندھ حکومت کے اعتراضات کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لیں اور وزیراعظم نے سندھ کے لئے جن منصوبوں اور نئی سکیموں کے لئے رقم کا مرکز کی طرف سے مہیا کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے وہ سندھ کو فراہم کریں تاکہ یہ تاثر ختم ہو کہ وزیراعظم سندھ کے پروجیکٹ کے لئے اعلان تو کر دیتے ہیں ،مگر ان پر عمل درآمد کی نوبت نہیں آتی۔

وزیراعظم نے 2013ء میں کراچی میں اعلان کیا تھا کہ وہ کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کے پروجیکٹ کو جنگی بنیادوں پر شروع کریں گے اور مکمل کریں گے، مگر تین سال گزرنے کے بعد بھی اس پر کام تو کیا شروع ہوتا۔ مرکزی حکومت اس منصوبہ سے دست بردار ہی ہو گئی اور وزیر ریلوے نے پہ پروجیکٹ سندھ حکومت کی صوابدید پر چھوڑ دیا ہے۔ اگر یہ پروجیکٹ 2013ء میں وزیراعظم کے وعدے کے مطابق وزیر ریلوے جناب سعد رفیق یہ منصوبہ جاپان کے سوفٹ لون کے ذریعے جو چالیس سال کے لئے صفر اعشاریہ ایک فیصد پر مل رہا تھا بریک تھرو کرا دیتے تو اہلِ کراچی میاں نواز شریف کے اس کارنامہ کو کبھی فراموش نہ کرتے، مگر بدقسمتی یہ ہے کہ جناب سعد رفیق نے نہ صرف اس پروجیکٹ کو شروع کرانے میں کسی مستعدی کا مظاہرہ نہیں کیا، بلکہ ریلوے کے نااہل کرپٹ اور بدعنوان افسران کے بھرے میں آ کر یہ اعلان کر بیٹھے کہ یہ منصوبہ ریلوے کی زمینوں کو فروخت کر کے بھی کیا جا سکتا ہے۔ ہمارے لئے جاپان کی شرائط کو پورا کرنا مشکل ہے، کاش حکومتِ پاکستان کوئی انکوائری کرا پائے جو یہ تحقیق کر سکے کہ اس پروجیکٹ کو شروع نہ کرانے کے پسِ پشت کون کون سی لابی سرگرم تھی اور اس سے کراچی کے باسیوں کو ایک ایسی سہولت سے محروم رکھا گیا جس کا متبادل میٹرو بس کا منصوبہ ہر گز نہیں ہو سکتا۔ چلئے آپ جاپان سے نہیں بنوانا چاہتے نہ بنوائیں،چائنہ سے اسی طرح کے سوفٹ لون لے کر بنوا دیں، مگر بنوائیں تو سہی۔ لیکن چین اتنا نرم قرضہ نہیں دیتا۔ اگر وزیراعظم کراچی اور اندرون سندھ کے لئے اعلان کردہ اپنے اپنے منصوبوں کے لئے رقم مختص بھی کر دیتے ہیں، تب بھی مسلم لیگ(ن) کا سندھ میں تنظیمی ڈھانچہ اور نیٹ ورک اتنا کمزور ہے کہ وہ سرکاری اور عوامی سطح پر سندھ کے اعتراضات کا موثر انداز میں جواب دے پائے گی اور نہ ہی دفاع کر پائے گی۔ جناب وزیراعظم نے پنجاب کے کوٹہ پر سندھ سے اپنی پارٹی کے دو سینیٹر منتخب کرائے ہیں۔ ایک سینیٹر سلیم ضیاء کی تو کراچی کے لوگ شکل بھی بھول گئے ہیں، اس نام کا کوئی آدمی کبھی سندھ میں مسلم لیگ کی حکومت میں صوبائی وزیر اور سندھ مسلم لیگ کا سیکرٹری جنرل ہوا کرتا تھا۔ وہ تو اب کسی ٹاک شوز میں بھی نظر نہیں آتے، خدا جانے کہیں ان کی صحت تو خراب نہیں ہے۔ دوسرے سینیٹر جناب نہال ہاشمی کا درشن ٹی وی ٹاک شوز میں ضرور ہوتا ہے یا وزیراعظم سندھ کے دورے پر تشریف لائیں تو وہ سرگرم نظر آتے ہیں۔ تنظیم کا برا حال جو پہلے تھا اب بھی ویسا ہی ہے۔ اگرچہ اب سندھ مسلم لیگ کے صدر اسماعیل راہو انتخاب جیت کر سندھ اسمبلی میں پہنچ گئے ہیں دیکھئے وہ تنظیم میں کتنی جان ڈال پاتے ہیں۔

اب ذکر کرتے ہیں لاڑکانہ ڈسٹرکٹ بار کی اِس تقریب کا جس میں چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس انور ظہیر جمالی نے لاڑکانہ ڈسٹرکٹ بار کے صدر بابو سرفراز جتوئی کی طرف سے عربی نسل کا نایاب قیمتی گھوڑا اور نایاب نسل کا بہت قیمتی بکرا تحفے میں وصول نہ کرنے کا اعلان کر کے عدلیہ کے وقار کو بحال رکھا۔حیرت ہے کہ لاڑکانہ ڈسٹرکٹ بار کے صدر نے اپنے سینئر ساتھیوں کے صائب مشورہ کے باوجود سیاسی لیڈروں کی طرح چیف جسٹس کو بھی لاکھوں روپے مالیت کے قیمتی تحائف پیش کرنے کی جسارت کر کے خود کو بھی رسوا کیا اور اپنی بار کی روایات کو بھی پامال کیا۔ یہ ہوتا ہے اس کا نقصان جب بار میں بھی سیاسی جماعتوں کے عہدیدار منتخب ہو جاتے ہیں۔بابو سرفراز جتوئی مسلم لیگ (ن) لاڑکانہ کے ضلعی صدر بھی ہیں وہ وکالت تو واجبی سی کرتے ہیں ان کی اصل مصروفیت سیاحت اور نایاب نسل کے جانوروں کی فارمنگ ہے۔ 2011-12ء میں میاں محمد نواز شریف لاڑکانہ آئے تھے تو بابو سرفراز جتوئی نے میاں صاحب کو بھی نایاب عربی نسل کا گھوڑا تحفے میں پیش کیا تھا جو انہوں نے قبول کر لیا تھا۔ چیف جسٹس کو پیش کرنے سے ان کے ساتھیوں نے باز رکھنے کی کوشش کی تھی، مگر وہ نہ مانے۔ اچھا ہوا چیف جسٹس نے قبول نہ کرنے کی وجوہات بھی بتا دیں کہ چیف جسٹس کوئی قیمتی تحفہ وصول نہیں کر سکتا ہے، دس ہزار روپے سے زیادہ کا جو بھی تحفہ ہو گا وہ قومی خزانے میں جمع کرانا ہو گا، ہمارے سرکاری عمال اور سیاسی زعما کو چیف جسٹس کے انکار میں وہ پیغام پڑھ لینا چاہئے، جو وہ تحائف کے نام پر رشوت وصول کرنے والوں کو دے رہے ہیں۔

کرپٹ رشوت خور سرکاری عمال اپنے ناجائز اثاثوں کو جائز ثابت کرنے کے لئے تحائف کا سہارا لیا کرتے ہیں یا سسرال سے جہیز میں ملنے کا جواز پیش کیا کرتے ہیں یا پرائز بانڈ میں انعام نکال لیا کرتے ہیں۔ چیف جسٹس نے تحائف کا راستہ تو بند کر دیا ہے۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی تواتر کے ساتھ اصلاح احوال کی طرف طاقتور بااثر اشرافیہ اور حکمرانوں کو متوجہ بھی کر رہے ہیں اور وارننگ بھی دے رہے ہیں، خدارا اس پر کان دھر لیں۔ چیف جسٹس نے لاڑکانہ میں کہا ہے کہ ’’کرپشن اور بیڈ گورننس ختم کرنے کے لئے آسمان سے فرشتے نہیں آئیں گے، مُلک میں 30سال ڈنڈے کے زور پر حکومت کی گئی، قبلہ درست کر لیں تو مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ذاتی مفادات کے لئے قانون سازی کی گئی، کسی کے خلاف کارروائی ہوتی ہے تو بڑی لابی بچانے آ جاتی ہے، کوئی ادارہ ذمہ داری پوری کرنے میں کامیاب نہیں ہوا، ہم درست ہو جائیں تو ہماری آنے والی نسلیں اقوام عالم میں سر فخر سے اُٹھا کر چل سکیں گی۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ہمارے اندر بھی خامیاں ہیں جن کو درست کرنا ہو گا۔ آزادی کے30سال مارشل لاء حکومت کی نذر ہو گئے۔ قبل ازیں بھی وہ کیسوں کی سماعت کے دوران اپنے ریمارکس میں نظام حکومت اور امورِ مملکت آئین کی روح کے مطابق قانون کی پاسداری کے ساتھ چلانے کی تلقین کرتے رہے ہیں اور وارننگ بھی دیتے رہے ہیں۔ انہوں نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ٹی وی ٹاک شوز میں جمہوریت کے مقابلے میں متوازی نظام کو فروغ دینے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا تنقید تو ہر ایک کا حق ہے مگر یہ تو ایجنڈا ہے۔ نظریہ صرف پاکستان اور قائداعظمؒ کا ہے۔ ہماری قیادت اس آواز پر کان دھرے ۔

مزید : ایڈیشن 1