حکومت پوری ادائیگی کر کے نجی پاور والوں سے پوری بجلی کیوں نہیں لیتی؟ اس میں کیا راز ہے؟

حکومت پوری ادائیگی کر کے نجی پاور والوں سے پوری بجلی کیوں نہیں لیتی؟ اس میں ...

شوکت اشفاق:

وزیر مملکت برائے پانی و بجلی چودھری عابد شیر علی کے بارے میں آج تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ ملتان کیوں آتے ہیں؟ ’’بظاہر‘‘ ان کا دورہ واپڈا اور میپکو کے معاملات کی دیکھ بھال ہوتا ہے لیکن ایک ان کے آنے سے پہلے اور ایک ان کے جانے کے بعد‘‘ میپکو ریجن سے صارفین کو لوڈ شیڈنگ کے جس عذاب سے گزرنا پڑتا ہے وہ بھی اپنی جگہ ایک مثال ہے، مگر اس مرتبہ کے دورہ ملتان میں تو انہوں نے کمال ہی کر دیا اور انتہائی ڈھٹائی اور مغروریت سے نہ صرف میپکو کی میٹنگ میں بلکہ میڈیا کے سامنے بھی بلندآہنگ سے اعلان کیا کہ اس مرتبہ رمضان شریف میں شہروں میں کم از کم 6گھنٹے جبکہ دیہاتوں میں کم از کم 8سے 10گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہو گی ’’کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیاء ہوتی ہے‘‘ لیکن شاید کم از کم یہ وزیر موصوف تو اس سے نابلد ہیں ان میں اتنی فرعونیت،کہ اگر فرعون کے خاندان کا کوئی فرد زندہ ہوتا تو ’’ممی‘‘ بننے کی بجائے موت کو ترجیح دیتا، وہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے کی آمد سے قبل ایسا اذیت دینے والا اعلان کر رہے ہیں، حالانکہ قبل ازیں وفاقی حکومت کے وزرا سمیت خود وزیراعظم میاں نواز شریف نے یہ اعلان کر رکھا تھا کہ کیونکہ ہم نے بجلی کی پیدوار میں اضافہ کر لیا ہے تو اس مرتبہ کم از کم رمضان شریف میں لوڈ شیڈنگ کم ہو گی، مگر کیا کہنے اس وزیر موصوف کے جو اپنی تمام وزارت کو چھوڑ کر ہر پندرہ دن کے بعد نہ جانے ملتان کیا لینے آتے ہیں اس کا کچھ اندازہ میپکو بورڈ آف ڈائریکٹرز کو توڑنا اور پھر اس کی تشکیل نو سے لگاا جا سکتا ہے، جس کے پیچھے صارفین کے میپکو کے پاس جمع 12ارب روپے کا حساب بھی ہے،جس میں سے 11ارب روپے تو سیدھے سیدھے وفاقی حکومت کے نا معلوم فنڈ میں منتقل ہوئے ہیں،جبکہ ایک ارب روپے متفرقہ اخراجات میں ڈال کر سابقہ بورڈ آف ڈائریکٹرز سے منظوری دلوانے کی کوشش کی گئی تھی، لیکن ایسا ہو نہ سکا اور بورڈ کو توڑ کر نیا تشکیل دے دیا گیا جس میں بھی میپکو کے قواعدوضوابط کو پس پشت ڈال کر بورڈ کے پرائیویٹ، یعنی پبلک کی طرف سے 2ارکان کو کم کر کے ان کی جگہ سرکار کے ملازمین کو باضابطہ بلحاظ عہدہ رکن نامزد کر دیا گیا، یعنی آئندہ متفرق اخراجات کے اربو ں روپے کی منظوری کوئی مسئلہ نہیں رہے گی۔ اور نہ لوڈشیڈنگ کے لئے کم از کم بورڈ کے اندر چیخ و پکار ہو گی وزیر موصوف کو شاید معلوم ہے کہ جو وہ کہہ رہے ہیں وہ نہ صرف سراسر جھوٹ ہے، بلکہ اگر تکنیکی جائزہ لیا جائے تو سرکاری اعدادو شمار کے مطابق واپڈا کے پاس سرکاری اور پرائیویٹ بجلی کی پیدوار تقریباً 25ہزار میگا واٹ ہے۔ واضح رہے کہ سرکاری اعدادوشمار ہیں، جبکہ اس وقت ملک بھر میں بجلی کی زیادہ سے زیادہ کھپت 17000میگا واٹ ہے،یعنی حکومت کے پاس 8000میگا واٹ بجلی سر پلس ہے تو پھر لوڈ شیڈنگ کیسی؟ اقتصادی ماہرین بھی اس پر پریشان ہیں کہ ان کے تجزیے غلط کیوں ہو رہے ہیں کیونکہ حکومت پرائیویٹ بجلی پیدا کرنے والے تمام یونٹس مالکان کو ان کی بجلی پیدا کرنے کی استعدادکے عین مطابق ادائیگی کر رہی ہے تو پھر عوام کو بجلی پوری کیوں نہیں مل رہی ہے صاف ظاہر ہے کہ اس حوالے سے کہیں نہ کہیں ایک بڑی رقم کی بد عنوانی ہو رہی ہے جو مل بانٹ کر کھائی جا رہی ہے اور عوام کو ذلیل و رسوا کرنے کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے یہ تو بجلی کے بارے میں ہے اور حکومت کے بارے میں کوئی مثبت قدم اٹھاتے ابھی تو نظر نہیں آتی ایسا کب ہو گا اس کا انتظار ہی رہے گا، لیکن دوسری طرف حکومت نے رمضان المبارک کی آمد پر مستحقین کے لئے گزشتہ برسوں کی طرح اس دفعہ بھی خصوصی رمضان پیکیج کا اعلان کیا ہے جو وفاقی حکومت کی طرف سے الگ سے ہے، جبکہ صوبائی حکومت کی طرف سے الگ سے ہے وفاقی حکومت اپنا پیکیج یوٹیلٹی سٹورز کے ذریعے عوام تک پہنچانے کی کوشش کرتی ہے، جبکہ صوبائی حکومت کا سول انتظامیہ کے ذریعے پتہ نہیں کون سے عوام کو یہ سہولت فراہم کرتی ہے یوٹیلٹی سٹورز کی تو پھر بھی سمجھ آتی ہے کہ وہاں کچھ نہ کچھ غریبوں کی پہنچ ہو ہی جاتی ہے جو ہے ذرا مشکل، لیکن پھر بھی جو سامان اوپن مارکیٹ میں پبلک سے بکنے سے بچ جاتا ہے وہ ’’بچا‘‘ کچھ عوام حاصل کر لیتے ہیں، لیکن اس کی دسترس بھی 30 سے 35فیصد سے زیادہ کی ہی ہوگی دوسری طرف صوبائی حکومت کا پیکیج تو ایک بہت بھیانک اور بڑا خوفناک مذاق ہے جو ہر ضلع کی انتظامیہ اپنے ماتحتوں اور اہلکاروں کے ساتھ مل کرکرتی ہے اور محض سستے رمضان بازار لگانے کی مد میں اربوں روپے کے بجٹ کا تقریباً 50فیصد تو انتظامی اخراجات پر خرچ کر دیتے ہیں۔ٹینٹ، کرسیاں، قناعتیں ، میزیں اور اس قسم کی اشیاء کا بل کروڑوں میں بنتا ہے، جبکہ اس بازار میں جو کچھ بکتا ہے وہ کم از کم ایک ذی شعور شہری تو خرید نہیں سکتا ،یعنی یہ ایک اتنا بڑا دھوکہ ہوتا ہے جس پر حکومت بھی کچھ نہیں کر سکتی۔

مزید : ایڈیشن 1