عمران خان نے اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے صوبائی حکومت کی ناکامی کا اعتراف کر لیا

عمران خان نے اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے صوبائی حکومت کی ناکامی کا ...

تحر یک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی صوبائی حکومت کی کوتاہیوں کمزوریوں اور ناکامیوں کا اعتراف کیا ہے عمران خان نے نہ صرف اپنی حکومت کی بعض محازوں پر ناکامی کا اعتراف کیا ہے بلکہ اس ناکامی کا ذمہ دار خود اپنی ذات کو قرار دیا ہے پاکستان کی سیاست میںآج تک ایک بات دیکھی اور سنی گئی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن سمیت تمام سیاستدان اور بیوروکرٹیس اپنی ناکامیاں دوسرے کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں اور دوسروں کی کامیابیوں کا کریڈٹ خود لینے کی کوشش کرتے ہیں شاید پاکستان کی سیاست میں پہلی مرتبہ یہ واقعہ رونما ہوا کہ کسی لیڈر نے نہ صرف اپنی حکومت کی ناکامی کا اعتراف کیا بلکہ اس ناکامی کی ذمہ داری کسی پر ڈالنے کی بجائے خود قبول کی عمران خان اور مسلم لیگ کی وفاقی حکومت کے کبھی بھی خوشگوار تعلقات نہیں رہے صوبائی حکومت نے اپنے حقوق کے حصول کے لئے وفاقی حکومت کے خلاف متعدد بار عملی احتجاج بھی کیا وزیراعلٰی پرویز خٹک متعدد بار یہ الزام لگا چکے ہیں کہ وفاقی حکومت خیبر پختون خوا کے میگا پراجیکٹس میں روڑے اٹکا رہی ہے اس پس منظر میں اگر عمران خان اپنی صوبائی حکومت کی ناکامی کی ذمہ داری وفاقی حکومت پرعائد کر دیتے تو اس میں کوئی مفائقہ نہ ہوتا مگر عمران خان نے حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ناکامی کی وجوہات اس طرح سے بیان کیں کہ تحریک انصاف کے لئے حکومت کرنے کا یہ پہلا تجربہ تھا جو کہ بالکل نیا تھا دوئم یہ کہ تحریک انصاف کے وزراء اور ایم پی ایز پہلی مرتبہ منتخب ہو کر اسمبلی پہنچے جہنیں کسی قسم کا تجربہ نہ تھا تیسری بات یہ کہ حکومت کا پہلا سال انہوں عمران خان نے ہسپتال میں گزارا جب وہ ایک انتخابی جلسے کے سٹیج سے گر کر زخمی ہو گئے تھے دوسرا سال دھرنوں میں ضائع ہو گیا اب وہ یعنی عمران خان حکومتی معاملات کی طرف توجہ دینے لگے ہیں۔میڈیا کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے عمران خان نے اپنی صوبائی حکومت کی بعض کامیابیوں کا بھی تذکرہ کیا جو کہ بالکل اسی طرح سچ ہے جس طرح انہوں نے کھلے دل کے ساتھ ناکامیوں کا اعتراف کیا۔

عمران خان نے دعوی کیا کہ ان کی حکومت تھانہ کلچر میں نمایاں تبدیلی لے آئی اور پولیس کو عوام دوست پولیس بنا دیا عمران خان کا یہ دعوی حقیقت پر مبنی ہے اور پشاور سمیت خیبر پختون خوا کے لاکھوں عوام اس بات کے گواہ ہیں کہ خیبر پختون خوا کی پولیس نہ صرف پاکستان میں ایک مثالی پولیس بن گئی ہے بلکہ ہماری پولیس کا مقابلہ کسی بھی مہذب ملک کی پولیس کے ساتھ کیا جا سکتا ہے عمران خان نے تعلیم کے شعبے میں بھی کئی اہم اصلاحات اور کامیابیوں کا ذکر کیا مثلا طلبا کی انڈوئمنٹ میں اضافہ اور اساتذہ کی بروقت حاضری وغیرہ عمران خان کے اس دعوئے پر بھی اتفاق کیا جا سکتا ہے انہوں نے محکمہ صحت خصوصا ہسپتالوں میں طبی سہولیات کی فراہمی بارے حکومت کی کامیابی کے دعوئے کئے تاہم ان کے اس دعوئے پر اختلاف رائے کی گنجائش موجود ہے ہسپتالوں میں علاج معالجے اور فیسوں میں اضافے کے متعلق خبروں اور اطلاعات سے عام آدمی خاصا پریشان اور تشویش میں مبتلا دکھائی دیتا ہے عمران خان نے اپنی مستقبل کی ترجحات بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ سال کے بجٹ میں تعلیم پر خصوصی توجہ دیں گے اور گزشتہ سال کے مقابلے میں اضافی فنڈ مختص کرنیگے ۔عمران خان نے آنے والے وقتوں میں ممکنہ طور پر پیدا ہونے والی قحط سالی کے پیش نظر بلین ٹری منصوبے کو اہم قرار دیا جو کہ خیبر پختون خواہ کو بنجر ہونے سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کرئے گا عمران خان آئندہ آنے والے بجٹ میں خیبر پختون خوا میں مثالی کام کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ممکنہ طور پر موجودہ تمام حکومتوں کے لیے یہ اخری بجٹ بھی ہو سکتا ہے ۔

وزیر اعظم نواز شریف کی علالت اور علاج کے لئے لند منتقلی کے بعد عمران خان کا جلسوں کا زور ٹوٹ گیا اور وہ اب پوری طرح صوبائی حکومت کی کارکردگی پرتوجہ دے رہے ہیں خیبر پختون خوا کا آئندہ سال کا بجٹ رواں ہفتے کے اختتام تک پیش کئے جانے کا امکان ہے ابتدائی طور پر موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق خیبر پختون خوا کے نئے بجٹ بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کے لئے 113ارب 50 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں جاری منصوبوں کے لئے 60 ارب سے زائد اور نئے منصوبوں کے لئے 53 ارب 56 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں سی پیک مغربی روٹ کے لئے 75 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ترقیاتی فنڈز کی مد میں اضلاع کو 33 ارب دئیے جائینگے ۔زراعت کے شعبے کے لئے ایک ارب 69 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں ترقیاتی منصوبوں کے لئے مختص 113ارب 50 کروڑ روپے سڑکوں اور شاہراہوں کی تعمیر میں خرچ کئے جائیں گے ۔

وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے بجٹ کے حوالے سے عوام کو نوید سناتے ہوئے کہا کہ خیبر پختون خواکا بجٹ عوام دوست بجٹ ہو گا ۔غریبوں کے لئے بڑی خوشحبریاں لا رہے ہیں ایک کروڑ غریب خاندان ہیلتھ انشورنس سکیم میں شامل ہونگے۔ہر خاندان کو سالانہ ایک لاکھ 75 ہزار روپے کی مفت طبی سہولیات دی جائینگی۔چھوٹے زمینداروں کے لئے مفت کھاد اور سولر ٹیوب ویل سکیم کا اجرا کیا جائے گا وزیر اعلیٰ نے حسب معمول اپنی حکومت کی کارکردگی پیش کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختون خوا میں میرٹ کا بول بالا کر دیا حکمران احتساب سے بھاگ رہے ہیں با شعور عوام ملکی اثاثے لوٹنے والوں کو معاف نہیں کریں گئے وغیرہ وغیرہ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک جب بھی اپنی کارکردگی بیان کرتے ہیں وہ اپنی ناک کے نیچے ہونے والی دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگ کو بھول جاتے ہیں گزشتہ ہفتے بھی ایف سی کے ایک آفیسر سمیت 3 اہلکاروں کو ٹازگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا اس ٹارگٹ کلنگ کی یہ سنگین واردات رینگ ردڈ کے بارونق علاقے میں کئی لوگوں کی موجودگی میں ہوئی کراچی میں جب ٹریفک پولیس کے تین اہلکاروں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا تو پورا سندھ چیخ اٹھا ہر طرف شور مچ گیا وزیر اعلیٰ گورنر اور کورکمانڈر ڈی جی رینجر سمیت سیاسی شخیصات نے اس واقعے کی مذمت کی لواحقین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ۔ مگر پشاور میں ایف سی آفیسر سمیت 3 جوانوں کے جسد خاکی خاموشی کے ساتھ اٹھا کر سپرد خاک کر دیئے گئے ۔ حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی باجوڑ میں امن کمیٹی کے رکن کو نشانہ بنایا گیا۔

صوبائی حکومت نے جہاں بعض معاملات میں قابل تعریف کامیابیاں حاصل کی ہیں وہاں بعض معاملات میں ناکام بھی ثابت ہوئی جس میں ٹارگٹ کلنگ کی روک تھام کے لئے موثر اقدامات کا نہ اٹھانا سرفہرست ہے،اس بات کا اعتراف عمران خان نے خود اسلام آباد کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں کیا یہ کیمپ خیبر پختون خوا میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف 20 روز سے جاری ہے کیمپ کے دورے کے موقعہ پر عمران خان کو ہونے والی ٹارگٹ کلنگ کے بارے میں اعداد و شمار بھی بتائے گئے انہوں نے حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ مجھے اس قسم کی کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں ۔صوبائی حکومت دہشتگردی کے خلاف کاروائی کے لئے فوج کو مکمل اختیار دینے سے گریز کر رہی ہے جبکہ ٹارگٹیڈآپریشن سے دہشت گردی کو روکنا ممکن نظر نہیں آتا ۔ٹارگٹ کلنگ کے طوفان میں بجٹ کی طرح رمضان کی بھی آمد امد ہے وفاقی حکومت پوری طرح کوشش کر رہی ہے اس مرتبہ پورے ملک میں ایک ہی دفعہ رمضان اور عید منائی جائے اس سلسلے میں وفاقی وزیر مذہبی سردار محمد یوسف نے پشاور کا دورہ کیا اور مسجد قاسم علی خان کی رویت ہلال کمیٹی کے سربراہ مفتی شہاب الدین پوپلزئی کے ساتھ ملاقات کی اور متفقہ عیدین منانے کے لئے مذاکرات کئے ان مذاکرات اور کاوشوں کا کیا نتیجہ نکلتا ہے یہ پوری قوم اگلے چند دنوں میں خود دیکھ لے گی ۔

مزید : ایڈیشن 1