قوم کی اجتماعی کوششوں سے ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ ممکن ہے ، چیئر مین نیب

قوم کی اجتماعی کوششوں سے ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ ممکن ہے ، چیئر مین نیب

اسلام آباد(مانیٹر نگ ڈیسک) چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری نے کہا ہے کہ کرپشن ایک لعنت ہے ، قوم کی اجتماعی کوششوں سے ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ ممکن ہے، نیب پاکستان کو کرپشن سے پاک کرنے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑے گا، بدعنوانی کے خاتمے اور اس برائی سے بچانے کے لئے اپنے مقصد کے حصول کے لئے بھرپور کوششیں کر رہا ہے،نیب میں سخت قواعد و ضوابط اور بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پر عملدرآمد کیا جاتا ہے۔ وہ منگل کو یہاں نیب کراچی بیورو کے دورہ کے دوران افسران سے خطاب کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناحؒ نے پاکستان کی آئین ساز اسمبلی میں اپنے خطاب سے بدعنوانی کو بڑی برائی قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بدعنوانی سے نہ صرف لوگوں کے حقوق متاثر ہوتے ہیں بلکہ اس سے ناانصافی اور بداعتمادی کو فروغ ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کو ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کے لئے قائم کیا گیا جو ملک سے بدعنوانی کے خاتمے اور اس برائی سے بچانے کے لئے اپنے مقصد کے حصول کے لئے بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔ نیب شکایات کی بنیاد پر کارروائی کرتا ہے، نیب میں مقدمات کو نمٹانے کے لئے شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائری اور انویسٹی گیشن کے مراحل پر مشتمل ہے، نیب میں سخت قواعد و ضوابط اور بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پر عملدرآمد کیا جاتا ہے۔موجودہ چیئرمین نیب نے 2014ء میں نیب میں اصلاحات کا عمل شروع کیا، ادارے کی خامیوں کا جائزہ لیا گیا اور تمام شعبوں کو ازسر نو فعال کیا گیا جس کے مثبت نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں اور ان اصلاحات پر 2016ء میں بھی عملدرآمد جاری رہے گا۔ چیئر مین نیب نے کہا کہ مقدمات پر افسران کے اثرورسوخ کے امکانات سے بچنے کیلئے مشترکہ تفتیشی ٹیم کا طریقہ کار اپنایا گیا ہے جس میں دو انویسٹی گیشن آفیسر اور ایک لیگل کنسلسٹنٹ مل کر کام کرتے ہیں تا کہ شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جا سکے۔ بلاتفریق معیار کے حصول کو یقینی بنانے کے لئے کام کرنے کا معیاری طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔ اے ایس او پیز نیب کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہے جہاں سے متعلقہ افراد معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے مقدمات کو نمٹانے کے لئے وقت کا تعین کیا ہے اس کے تحت شکایات کی جانچ پڑتال کے لئے دو مہینے، انکوائری انویسٹی گیشن کے لئے چار چار مہینے رکھے گئے ہیں، کیس کے شروع ہونے سے لے کر قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10ماہ کا عرصہ مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب میں اپنے قیام سے لے کر اب تک 276ارب روپے بدعنوان عناصر سے وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملزم لوٹی گئی رقم واپس کرنے پر رضامند ہو تو نیب اس کی وصولی کو ترجیح دیتا ہے ، مقدمے کے ابتدائی مرحلے انکوائری کے وقت ملزمان کو رضاکارانہ واپسی کی سہولت حاصل ہے۔ اگر ملزم اصل رقم کے ساتھ کابور شرح کے ساتھ واجب الادا رقم کی ادائیگی کی خواہش ظاہر کرتا ہے تو قانون کے مطابق اسے ایسا کرنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کراچی ڈائریکٹر جنرل کرنل (ر) سراج النعیم کی سربراہی میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ انہوں نے نیب افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنی کارکردگی میں مزید بہتری لائیں اور وہ ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے مزید محنت اور لگن سے کام کریں۔

مزید : صفحہ اول