وڈیو لنک اجلاسوں میں سائبر کرائم کرنیوالوں کی دلچسپی کا کوئی سامانا نہیں تھا

وڈیو لنک اجلاسوں میں سائبر کرائم کرنیوالوں کی دلچسپی کا کوئی سامانا نہیں تھا

تجزیہ/قدرت اللہ چودھری

  کسی نہ کسی کو تو یہ معاملہ عدالت میں لے کر جانا ہی تھا، یہ سعادت پاکستان عوامی تحریک کو حاصل ہوئی ہے جس نے وزیراعظم نوازشریف کے اختیارات وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو دینے کے اقدام کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ آئین کے تحت وزیراعظم اپنے اختیارات کسی دوسرے وزیر کو نہیں سونپ سکتے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ سپیکر قومی اسمبلی کو ہدایت کرے کہ وہ نیا قائد ایوان منتخب کرنے کیلئے اجلاس بلائیں۔ اب اس پٹیشن پر کیا فیصلہ ہوتا ہے ہم کوئی رائے دینے کی پوزیشن میں نہیں، جو بھی فیصلہ ہوگا سامنے آ جائے گا۔ لیکن ایک اہم سوال یہ ہے کہ 73ء کا آئین نافذ ہوئے اب 42 برس ہوگئے ہیں اس عرصے میں بڑے بڑے نامور قانون دان پاکستان میں موجود تھے، دنیا بھر میں ان کی قانونی مہارت کا ڈنکا بجتا تھا، خود آئین بنانے والوں میں حفیظ پیرزادہ جیسے ممتاز قانونی اور آئینی ماہر شامل تھے۔ انہیں آئین بناتے وقت یہ چھوٹی سی بات بھی کیوں سمجھ نہ آئی کہ جس طرح صدر پاکستان کی ملک سے غیر حاضری کے دوران قائم مقام صدر کی گنجائش رکھی گئی‘ جس طرح چیف جسٹس کی عدم موجودگی میں قائم مقام چیف جسٹس کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے اسی طرح قائم مقام وزیراعظم کی گنجائش کیوں نہیں رکھی گئی؟ ایک ماہر آئین و قانون سے تبادلۂ خیال کے دوران انہوں نے اس نکتے پر زور دیا کہ جب صدر ملک سے باہر ہوں یا جب چیف جسٹس دستیاب نہ ہوں تو ان کی غیر موجودگی میں متبادل انتظام قائم مقام کی شکل میں کیا گیا ہے لیکن وزیراعظم کا متبادل قائم مقام کی صورت میں اس لئے نہیں رکھا گیا کہ آئین کے اندر یہ گنجائش موجود ہے کہ وزیراعظم اپنے بعض اختیارات کسی بھی ساتھی وزیر کو سونپ سکتا ہے۔ دنیا بھر کے صدور اور وزرائے اعظم سرکاری اور پرائیویٹ دوروں کے علاوہ محض تفریح کیلئے بھی اپنے خاندانوں کے ساتھ چند دن کیلئے سرکاری فرائض کو بھول کر اپنی ذاتی زندگی پر بھی توجہ دیتے ہیں۔ حکمران چاہے سپر پاور کا ہو یا تیسری دنیا کے کسی ملک کا، بہرحال انسان ہوتا ہے، اس کی انسانی ضروریات ہوتی ہیں‘ صحت کے مسائل ہوتے ہیں۔ کسی حکمران کو بھی چاہے وہ بادشاہ ہی کیوں نہ ہو انسانی مسائل درپیش ہوتے ہیں۔ امریکی صدور کی تو اپنی ذاتی جاگیریں ہیں جہاں وہ باقاعدگی سے چھٹیاں گزارنے جاتے ہیں۔ اس دوران انتہائی اہم واقعات کے سوا کسی صدر کو معمول کے ریاستی امور سے باخبر رکھنا ضروری نہیں سمجھا جاتا۔ ان ملکوں میں چونکہ عام لوگ بھی چھٹی اور تفریح کا ایک تصور رکھتے ہیں، شاید اسی وجہ سے کبھی کسی نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ صدر صاحب اپنی ذاتی جاگیر میں تفریح کیلئے کیوں گئے ہوئے ہیں؟

قائم مقام وزیراعظم کا کوئی تصور تو آئین میں موجود نہیں لیکن وزیراعظم اپنے اختیارات کسی بھی وزیر کو سونپ سکتے ہیں اور ایسا اکثر پارلیمانی جمہوریتوں میں ہوتا ہے۔ بھارت میں جب من موہن سنگھ وزیراعظم تھے تو ان کے دل کا آپریشن ہوا تھا اور انہوں نے اپنے بعض اختیارات اس وقت کے وزیر خارجہ پرناب مکھر جی کو سونپ دیئے تھے (جو اب صدر بھارت ہیں)۔ پنجاب اسمبلی کے قائد حزب اختلاف کی جانب سے باضابطہ طور پر یہ تجویز آئی ہے کہ قائم مقام وزیراعظم کیلئے آئین میں ترمیم ہونی چاہئے۔ انہیں معلوم ہے کہ کوئی بھی آئینی ترمیم طویل مراحل سے گزرنے کے بعد عمل پذیر ہوتی ہے۔ فوری طور پر تو یہ ممکن نہیں البتہ یہ تجویز وہ اپنی پارٹی کے ذریعے قومی اسمبلی یا سینیٹ میں موو کرسکتے ہیں اس پر ایوان جو بھی فیصلہ مناسب سمجھیں گے کرلیں گے، فی الحال تو یہ معاملہ ہائیکورٹ میں زیر بحث آئے گا، اس لئے فیصلے کا انتظار کرنا چاہئے۔

وزیراعظم نے گزشتہ روز لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن سے ویڈیو لنک کے ذریعے قومی اقتصادی کونسل اور وفاقی کابینہ کے الگ الگ اجلاسوں کی جو صدارت کی اسے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور ان کی پارٹی کے ایک ایم این اے عارف علوی نے الگ الگ نظر سے دیکھا ہے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ ویڈیو لنک پر وزیراعظم کا اہم اجلاس تشویشناک ہے اور اس سے سائبر جاسوس فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ غیر محفوظ ویڈیو لنک پر اجلاس سنگین خطرات کا حامل ہے۔ عارف علوی نے اس اجلاس کو مختلف زاویئے سے دیکھا اور جدید ٹیکنالوجی کے دور میں ان کی نظر وہاں تک پہنچ گئی جہاں تک عمران خان کی فکر کو رسائی نہیں مل سکی۔ عارف علوی نے کہا کہ ویڈیو لنک سے کابینہ کے اجلاس کی صدارت قابل اعتراض نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس بھی ویڈیو لنک کے ذریعے ہوتے رہتے ہیں، ایسے اجلاس ہونے چاہئیں۔ عمران خان اور عارف علوی کے خیالات میں یکسانیت نہیں تو اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں البتہ یہ بہتر تھا کہ اظہار رائے سے پہلے دونوں رہنما آپس میں مشورہ کرلیتے تاکہ پارٹی کا یکساں موقف سامنے آتا۔ جہاں تک اس خیال کا تعلق ہے کہ سائبر کرائم والے ان معاملات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو اس اجلاس میں زیر بحث آئے تو ہمارے خیال میں ان اجلاسوں میں نہ تو ایٹم بم کا کوئی نیا فارمولا زیر بحث تھا‘ جس کے لیک ہونے کا خدشہ ہوتا، نہ کوئی میزائل ٹیکنالوجی زیر بحث تھی۔ اجلاس کی پوری کارروائی پڑھ لی جائے آپ کو ایک بھی جملہ ایسا نظر نہیں آئے گا جس سے ہمارے کسی اصلی یا حقیقی دشمن کو کوئی دلچسپی ہو، نہ سائبر کرائم والوں کیلئے اس میں دلچسپی کا کوئی سامان تھا، اس لئے اس معاملے میں ہم عارف علوی کی رائے کے ساتھ ہیں۔ ہوسکے تو وہ اپنے چیئرمین کوبھی قائل کرلیں۔

مزید : تجزیہ


loading...