خطے میں تبدیلیوں کا عمل ، افغانستان اورپاکستان کے درمیان آمدورفت میں نظم وضبط لایا جائیگا

خطے میں تبدیلیوں کا عمل ، افغانستان اورپاکستان کے درمیان آمدورفت میں نظم ...

تجزیہ :چودھری خادم حسین

’’ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں‘‘ خطے میں تبدیلیوں کا عمل جاری ہے۔ چین کے ساتھ تعاون سے ترقیاتی منصوبے شروع ہیں تو دشمنان ملک بھی خاموش نہیں بیٹھے اور تخریب کاری کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ امر ثابت ہو چکا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ نے افغانستان میں اپنے ٹھکانے بنا کر ایجنٹ تیار کئے اور پاکستان مخالف حضرات کو تربیت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ حال ہی میں افغان باشندوں کی رنگے ہاتھوں گرفتاری نے کئی راز افشا کئے۔ اب افغان مہاجرین کی سرزمین پاک پر موجودگی پر بھی سوال اٹھنے لگا۔ حالانکہ یہ کوئی سربستہ راز نہیں کہ افغان باشندے کیمپوں تک محدود نہیں رہے تھے۔ ان میں سے صاحب ثروت حضرات نے تو پشاور، اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، کراچی اور کوئٹہ میں جائیدادیں خریدیں اور کاروبار جمائے ہوئے ہیں جبکہ سینکڑوں نے شناختی دستاویزات حاصل کرکے پاسپورٹ بنوائے اور پاکستانی بن کر بیرونی ممالک میں جا کر گم ہو گئے یا بس گئے۔ اس سلسلے میں حال ہی میں ملاں اختر منصور کی موت اور ان کے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ نے یہ سب منظر عام پر لاکھڑا کیا اور اب وہ کارروائی شروع ہوئی جو پہلے ہو جانا چاہیے تھی۔ نادرا کی طرف سے شناختی کارڈوں کی تصدیق کا سلسلہ شروع ہونے والا ہے تو ادھر پاک افغان سرحد پر آمد و رفت کو بھی باقاعدہ بنانا ضروری ہوگیا، آج (یکم جون) سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان آمد و رفت میں باقاعدگی ہو گی اور کوئی بھی شخص شناختی دستاویزات اور اجازت کے بغیر ادھر سے ادھر آ جا نہیں سکے گا۔ اس کے لئے باقاعدہ پاسپورٹ اور ویزے / اجازت نامے کی ضرورت ہو گی البتہ طور خم کے آر پار شنواری قبائل کو اتنی سہولت دی گئی ہے کہ وہ پرمٹ پر اس سرحد سے آ جا سکیں گے۔شنواری قبائل طورخم کے دونوں طرف بستے ہیں، آپس میں رشتہ داریاں ہیں، بچے تعلیم حاصل کرنے آتے اور پھر واپس جاتے ہیں ان کے لئے صرف شناخت کافی ہوتی تھی تاہم اب ان سب کو بھی پرمٹ بنوانا ہوگا جو ان کی رہائش کا ضامن ہوگا اور یہ قبائل ایسے پرمٹ پر آ جا سکیں گے۔

پاکستان کی طرف سے یہ سب مجبوری میں کیا جا رہا ہے اب اس امر پر بھی غور کیا گیا اور حکومت پر دباؤ ہے کہ افغان مہاجرین کے قیام کی مدت میں اضافہ نہ کیا جائے اور اقوام متحدہ پر زور دے کر ان کو واپس ان کے وطن (افغانستان) بھجوایا جائے۔ دوسری طرف افغانستان کی طرف سے اپنے اندرونی حالات کی روشنی میں یہ درخواست کی جا رہی ہے کہ ان کو مزید چار سال مہاجر کی حیثیت سے رکھا جائے ۔ پاکستان میں رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی تعدادکے بارے میں بھی اختلاف ہے کہا جاتا ہے کہ 20 لاکھ یا 25لاکھ ہیں جبکہ حقیقتاً ان کی تعداد 30 لاکھ سے زیادہ ہے اور ان میں سے جو رجسٹرڈ ہیں وہ بھی کیمپوں میں مقیم نہیں ہیں۔ پاکستان موجودہ حالات میں اب ان کی موجودگی برداشت کرنے پر تیار نہیں کہ یہاں تو خود اپنے شہریوں کی پھر سے شناخت شروع کی جا رہی ہے۔ خیال یہ ہے کہ مہاجروں کی واپسی کے بعد ہی ممکن ہوگا کہ نئے سرے سے شناختی کارڈو ں کی تصدیق سے پتہ چلے کہ کون باہر سے آیا اور کون پاکستانی ہے۔

ان حالات میں افغانستان سے بھی بات چیت ہو رہی ہے۔ ایک اطلاع کے مطابق پاکستان کی طرف سے مزید رعایت مشکل ہے اور چار سال کی توسیع تو ممکن ہی نہیں، بعض حلقے زیادہ سے زیادہ مزید ایک سال کی توسیع کے حق میں ہیں تاہم یہ بھی مشروط کہ اس عرصہ میں مہاجرین کی واپسی کے انتظامات ہوں اور وہ بتدریج جاتے رہیں اور ایک سال میں یہ واپسی مکمل ہوجائے۔ماضی میں کئی خاندان عالمی اور پاکستانی امداد لے کر واپس گئے لیکن پھر سے سرحد پار کرکے آ گئے تھے اور یہ مسئلہ جوں کا توں موجود ہے۔

ایک طرف یہ حالات ہیں تو دوسری طرف ہم سیاسی طور پر دست و گریبان ہیں، ایک دوسرے کو برداشت کرنے پر تیار نہیں، جمہوریت کا ذکر کیا اور نام لیا جاتا ہے لیکن جمہوری طرز عمل اختیار نہیں کیاجاتا جس میں برداشت اور تحمل کا ہونا لازمی ہے۔

وزیراعظم محمد نوازشریف دل کے بائی پاس جیسے اہم آپریشن سے گزرے ہیں وہ کچھ عرصہ آرام کے بعد عملی کام شروع کر سکیں گے، اس عرصہ میں پاناما لیکس پارلیمانی کمیٹی کو اپنا کام مکمل کرنا چاہیے۔ ملک کے اندر کرپشن اور احتساب کا اتنا ذکرہو چکا کہ اب ہر کوئی ذہنی طور پر احتسابی عمل کا خواہش مند ہے اور اسے شروع ہونا چاہیے۔سیاست دان حضرات کو ذرا اپنی ناک کے نیچے بھی دیکھنا ہوگا کہ مختلف نوع کی جو سازشیں وقوع پذیر ہونے کی اطلاعات ہیں وہ سب کے لئے تشویشناک ہیں کہ قومی سیاسی جماعتوں کو سکیڑ کر چھوٹے چھوٹے سیاسی گروہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں جو ملکی استحکام کے حق میں نہیں کہ مستقبل اور ملک کا بھلا قومی جماعتوں میں ہے، اس سلسلے میں ان سب کو سوچنا ہوگا اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کرکے سیاسی اور جمہوری عمل کی طرف بڑھنا ہوگا۔ ہر ایک کو ان افواہوں اور کھسر پھسر کو سمجھ کر سدِباب کرنا ہوگا۔ اس وقت تمام محب وطن عناصر کا اتفاق رائے ضروری ہے اور یہ سب پاناما لیکس والی پارلیمانی کمیٹی بھی کر سکتی ہے سیاسی ماحول کو ٹھنڈا کرنا ضروری ہے ، جو کمشن اور احتسابی ادارے کے قیام کے ذریعے بھی ممکن ہے ، سیاست کو امتحان میں پاس ہونا ہوگا۔

مزید : تجزیہ