ترقی پذیر سے ترقی یافتہ کا سفر:فنی تعلیم کے بغیر نا ممکن

ترقی پذیر سے ترقی یافتہ کا سفر:فنی تعلیم کے بغیر نا ممکن
 ترقی پذیر سے ترقی یافتہ کا سفر:فنی تعلیم کے بغیر نا ممکن

  



عصر حاضر میں کسی بھی ملک کے لیے ترقی پذیر سے ترقی یافتہ کا سفر فنی تعلیم کے فروغ اور ٹیکنالوجی کے میدان میں فی زمانہ رونما ہونے والی تبد یلیو ں کو اپنائے بغیر ممکن نہیں۔دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک نے ترقی،خوشحالی اور کامرانی کا سفر اپنی نوجوان نسل کو تعلیم اور ہنر سے آراستہ کر کے ہی طے کیا ہے۔چین،جاپان،کوریا،ملائیشیا اور دیگر ترقی کرنے والے ممالک اس کی شاندار مثال ہیں۔بے روزگاری، جہالت،دہشت گردی،غربت اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی ایسے چیلنجز ہیں جن کا نہ صرف پاکستان کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے بلکہ اقوام عالم کی نصف سے زائد آ بادی انہی مشکلات کا شکار ہے۔قوموں کی زندگی میں اصل تبدیلی معا شی انقلاب کے بغیر ممکن نہیں اور معاشی انقلاب عوام کو تعلیم اور فنی تربیت سے آراستہ کیے بغیر کبھی رونما نہیں ہوتا۔

پاکستان جیسا ترقی پذیر ملک اس وقت تقریباً18کڑور سے زائد آبادی پر مشتمل ہے جبکہ52 فیصد سے زائد آبادی خواتین اور مجموعی طور پر 60 فیصد نو جوان نسل پر مشتمل ہیں۔نوجوانوں کو فنی تعلیم فراہم کرنے،معاشرے سے بے روزگاری کے خاتمے اور غربت اور جہالت کے اندھیروں سے چھٹکارا پانے کے لیے فنی تعلیم کے فروغ کا جو ماڈل حکومت پنجاب نے اپنایا ہے اس کی مثال نہیں ملتی،دوسرے صوبوں کو بھی اس ماڈل کو اپنانا چاہیے۔پنجاب اس وقت ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے جس کی آبادی تقریباًٍ 10کڑور کے قریب ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی تعلیم دوست پالیسیوں کی بدولت پنجاب میں نوجوانوں کو ہنر مند بنانے اور فنی تعلیم کے فروغ کے لیے ٹیوٹا( TEVTA) جامع پالیسی پر عمل پیرا ہے۔اس وقت صوبہ بھر میں ووکیشنل ٹریننگ اور ٹیکنیکل تعلیم کے فروغ کے لیے تمام اضلاع میں ٹیوٹا کے تین سو سے زائد ادارے تحصیل اور ضلع کی سطح پر کام کر رہے ہیں۔ ٹیوٹا (TEVTA )کا صوبہ بھر میں پھیلا ہوا نیٹ ورک چار سالہ ڈگری پروگرام،30 سے زائد شعبوں میں تین سالہ ایسو سی ایٹ پروگرام جبکہ متعدد شعبوں میں تین ماہ،چھ ماہ اور ایک سال کے ڈپلومہ پروگرام جاری کیے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ صنعتی ضروریات کے مطابق ہنر مند افرادی قوت تیار کرنے کے حوالے سے بیشتر صنعتوں سے معاہدے کر کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ بے روزگار اور کم تعلیم یافتہ افراد کو فنی تعلیم کے حصول کی طرف راغب کرنے کے لیے ماہا نہ وظیفہ اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔جبکہ اخوت کے تعاون سے ٹیوٹا سے فارغ التحصیل طلبا و طالبات کو آسان شرائط پر بلا سود چھوٹے قرضے فراہم کیے جارہے ہیں تا کہ ٹیوٹا سے فنی تعلیم حاصل کر کے طلبا و طالبات چھوٹے پیمانے پر کاروبا شروع کر سکیں۔اسی طرع سکلڈ لیبر مارکیٹ انفارمیشن سسٹم(SLMIS ) کے تحت مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق افرادی قوت تیار کرکے ان کا ریکارڈ قائم کیا جاتا ہے۔جس سے طلباوطالبات کو اندرون و بیرون ملک روزگار کے مواقع کے حصول میں مدد حاصل ہوتی ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے قائم کیے گئے پنجاب سکل ڈویلپمنٹ فنڈ کے ذریعے ہر سال ہزاروں افراد کو فنی تعلیم فراہم کی جا رہی ہیں۔اس وقت ٹیوٹا کے مختلف اداروں سے تعلیم یافتہ طلباوطالبات مشرق وسطیٰ اور دیگر ممالک میں نوکریاں کر رہے ہیں۔ ٹیوٹا کے چیئرمین عرفان قیصر شیخ کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کے وژن کے مطابق ٹیوٹا اس وقت متعدد منصوبوں پر کام کر رہا ہے جن میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ،بیرونی ممالک سے معاہدے،اساتذہ کی تربیت،ٹیوٹا کے اداروں میں بہتر سہولیات کی فراہمی اور زیادہ سے زیادہ تعداد میں ہنر مند افرادی قوت تیار کرنا ہے۔اس سلسلے میں ٹیوٹا دن رات کام کر رہا ہے اور سال 2018تک ان کا ادارہ پانچ لاکھ سے زائد افراد کو فنی تعلیم کے حصول کا ہدف حاصل کر لے گا۔ گذشتہ ہفتے ماڈل ٹاون لاہور میں ٹیوٹا اور پاکستان ائیر فورس کے تعاون سے ٹیوٹا کے پانچ سو اساتذہ کو ائیرفورس کے انسٹرکٹرز سے ٹریننگ مکمل کرنے پر اسناد تقسیم کی گئی۔وزیراعلیٰ پنجاب نے تقریب کی صدارت کی۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر پاکستان ائیر فورس کے اعلیٰ افسران اور قیادت کا خصو صی شکریہ ادا کیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے اس موقع پر چیئرمین ٹیوٹا عرفان قیصر شیخ کی خدمات کو بھی سراہا۔ اُمید ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب ماضی کی طرح اس بار بھی آئندہ مالی سال کے بجٹ میں محکمہ تعلیم اور خصوصاًٹیوٹا جیسے اداروں کے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کریں گے تاکہ بے روزگاری اور جہالت کے خاتمہ کے لیے جاری محروم معیشت طبقات کے منصوبے کامیابی سے جاری و ساری رہ سکیں۔

مزید : کالم