پلڈا ٹ کا قومی اسمبلی کے تیسرے پارلیمانی سال کی کارکردگی کا سکورکارڈ جاری

پلڈا ٹ کا قومی اسمبلی کے تیسرے پارلیمانی سال کی کارکردگی کا سکورکارڈ جاری

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)پلڈاٹ نے قومی اسمبلی کے تیسر ے پارلیمانی سال کی کاکردگی اسکور کارڈ جاری کر دیا، دوسرے سال کے مقابلے میں تیسرے پارلیمانی سال میں پانچ فیصد پواینٹ کاکردگی میں کمی واقع ہوئی ہے۔پلڈاٹ کی جانب سے جاری کردہ قومی اسمبلی کے تیسرے پارلیمانی سال کی کارکردگی کے اسکور کار ڈ کے مطابق 2015-16میں قومی اسمبلی کی احتساب سے متعلق کارکردگی 32 فیصد کے ساتھ گراوٹ کا شکار رہی ہے جبکہ قانون سازی کی اہلیت کی کارکردگی 51سے ساتھ بہترین رہی۔ اراکین قومی اسمبلی ایوان میں 61فیصد فی اجلاس رہی جبکہ 17اجلاس کورم پورا نہ ہونے کے باوجود چلایا گیا۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے تیسرے پارلیمانی سال میں حاضری فقط پانچ فیصد رہی جبکہ آل پاکستان مسلم لیگ افتخار الدین 85فیصد کے ساتھ بہترین حاضری والے رکن پارلیمنٹ رہے۔پلڈاٹ کی جانب سے چودھویں قومی اسمبلی کے تیسر ے پارلیمانی کے دوران مجموعی طورپر کارکردگی48 سے کم ہوکر43 فیصد پوائنٹ کے ساتھ پانچ فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ تیرھویں قومی اسمبلی کے پانچ سالوں کی مجموعی کارکردگی کے مقابلے میں کمی واقع ہوئی ہے جو 49فیصد تھی۔تیسرے پارلیمانی سال کے دوران احتساب قومی اسمبلی کی کاکردگی کا مایوس کن پہلو رہا ہے جس کیلئے فقط 32فیصد پوائنٹس دیئے گئے ہیں ۔ پلڈاٹ سفارش کرتی ہے کہ قومی اسمبلی کو اپنے اراکین کے قواعد و ضوابط تیار اور بھر پور طور پر اسکا اطلاق کرے ۔ پارلیمان کو اختیار دیا جائے کہ وہ اراکین کا احتساب کرسکے ۔اراکین کواپنے مفادات ظاہر کرناچاہیے تاکہ اس میں تصادم کی صورتحال پیدا نہ ہوسکے اس کیلئے ایک اراکین کے مفادات کا ایک فنانشل رجسٹر تعینات رکھا جانا چاہیے ۔ اراکین پارلیمان کی حاضری کے بغیر خاطرخواہ کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی۔ تیسر ے پارلیمانی سال ارکین پارلیمان کی حاضری 61فیصد رہی ہے ۔ اوسطا 340میں سے 206اراکین پارلیمان ہی موجود رہتے ہیں ۔ اگرچہ 103اجلاس میں سے 17اجلاسوں میں کورم پورا نہ ہونے کے باجود چلتا رہا۔ وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کی تیسرے پارلیمانی سال میں حاضری فقط دس فیصد رہی ہے جو گذشتہ سال کے مطابق میں 26فیصد کمی واقع ہوئی کیونکہ دوسرے پارلیمانی سال میں 36فیصد اراکین کی حاضری رہی ہے ۔ سینیٹ فقط ایک مرتبہ حاضر ہوئے تاہم قومی اسمبلی میں حاضری بہتر رہی ہے ۔ پانامہ لیکس اسکینڈ ل کے بعد جس میں حز ب اختلاف نے وزیر اعظم کی جانب سے ایوان میں سوالوں کے جواب آنے تک بائیکارٹ کیا۔ وزیر اعظم کی ایوان میں عدم حاضری پر احتجاج کرنے والوں میں حزب اختلاف کے رہنماؤں میں عمران خان بھی شامل ہیں جنہوں کی پورے سال حاضری فقط 5فیصد رہی ہے ۔ آل پاکستان مسلم لیگ کے افتخار الدین 85فیصد قائد حزب اختلاف 73فیصد حاضر ی رہی ہے ۔عوام کی نمائندگی میں قومی اسمبلی نے 50فیصد پوائنٹس اسکور حاصل کیا ہے ۔ انتظامیہ پر نگرانی میں کی مد میں تیسر ے پارلیمانی سال کے دوران 44فیصد پوائنٹس حاصل کئے ہیں ۔قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کی سربراہی میں پبلک آکاؤنٹس کمیٹی کے 118اجلاس منعقد ہوئے ۔ قانون سازی میں قومی اسمبلی کی کارکردگی قدر ے بہتر رہی جس میں سب سے زیادہ 51فیصد اسکور حاصل کیا۔ 42مسودہائے پیش ہوئے گذشتہ سال کے مقابلے میں 62فیصد بہتری آئی ہے ۔ بائیسویں آئینی ترمیم پیش ہونے والے دن کو ہی منظور کر لی گئی ۔ شفافیت کی مد میں قومی اسمبلی نے 46فیصد اسکور حاصل کیا ہے جبکہ خارجہ پالیسی میں مداخلت کی مد میں 41فیصد سے لیکر 34فیصدپوائنٹس کمی واقع ہوئی ہے ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر