جندول ،تحصیل ثمر باغ میں بجلی بندش سے گونا گوں مسائل کا سامنا

جندول ،تحصیل ثمر باغ میں بجلی بندش سے گونا گوں مسائل کا سامنا

جندول(نمائندہ پاکستان) تحصیل ثمر باغ میں بجلی گذشتہ تین دنوں سے معطل ، تعلیمی اداروں، سرکاری و غیر سرکاری دفاتر ہسپتالوں گھروں اور مذہبی مقامات سمیت بجلی کے روزگاروں سے وابستہ افراد شدید تکلیف سے دوچار ،پبلک مقامات پر منتخب سیاسی نمائندوں پر بھی سوالات اٹھائیں جانے لگیں ، تفصیلات کے مطابق تحصیل ثمر باغ کے چھ یونین کونسلوں درنگال ،کامبٹ ،ثمر باغ ،صدبر کلے،معیار اور مسکینی درہ میں گذشتہ تین دنوں سے بجلی مکمل غائب ہیں جس کی وجہ سے شدید گرمی میں ایک طرف عوام پانی کے بوند بوند کو ترس رہے ہیں تو دوسری جانب تعلیمی اداروں میں شدید گرمی ،ہسپتالوں میں بجلی بندش کی وجہ سے سہولیات کی معطلی ، بجلی کے روزگار سے وابستہ افراد بے روزگار ا ور مساجد و گھریلوں صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا ہیں اس کے علاوہ پبلک مقامات پر عوام منتخب سیاسی نمائندگان پر شدید سوالات اٹھا رہے ہیں بجلی بندش کے حوالہ سے محکمہ واپڈاء کا موقف ہے کہ تیمرگرہ تا ثمر باغ کے لائن پر مرمت کا کام جاری ہے اس وجہ سے بجلی کے مزید بھی کئی روز تک بند رہنے کے امکانات ہیں میڈیاں کی جانب سے تحصیل ناظم ثمر باغ سعید احمد باچہ سے رابطہ کرنے پر ان کا کہنا تھا کہ لائن پرمرمت کا کام جاری ہے لیکن واپڈاء حکام کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کچھ وقت کیلئے اہلیان علاقہ کو بجلی فراہم کریں تاکہ لوگ کچھ حد تک پانی اور دیگر ضروریات پوری کر سکے ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلہ میں انہوں نے واپڈاء حکام سے بات بھی کی تھی اور مزید بھی کرینگے انہوں نے کہا کہ وہ عوام کے منتخب نمائندے ہیں اور عوام کیساتھ کھڑے ہونگے ، عوامی حلقوں کا کہنا تھا کہ واپڈاء حکام اور منتخب نمائندگان کوچاہئے تھا کہ وہ بجلی لائن کی مرمت کا کام گرمی کے موسم سے پہلے مکمل کرتے تو آج یہ دن نہیں دیکھنا پڑتا اور یا عوام کو مشکلات سے بچھانے کیلئے لائن کے مرمت کے دوران بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے کوئی متبادل بندوبست کرتے ، اہلیان علاقہ کا کہنا تھا کہ تحصیل ثمر باغ میں جنگل کا قانون ہے اس لئے کہ کوئی کچھ بھی کسی طرح بھی کرے کوئی پوچھنے والا نہیں ،ان کا کہنا کہ مالداروں نے اپنے لئے سولر سسٹم خرید کر اپنی ضروریات پوری کر لی ہے مگر غریب عوام سہولیت کے فقدان کاشکار ہیں انہوں نے محکمہ واپڈاء اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ تحصیل ثمر باغ میں بجلی بندش کا نوٹس لیا جائے اور چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر تحصیل ثمر باغ کی بجلی بحال کی جائے ورنہ عوام بجلی میٹر اتار کر کنڈے لگا دینگے اور بل داخل کرنے کا بائیکاٹ کرنے سمیت واپڈاء دفاتر کو تالیں لگا کر اہلکاروں کو تحصیل سے بے دخل کر دینگے ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر