چاہ بہار بندرگاہ سے کوئی خطرہ نہیں، گوادر انفراسٹرکچر میں 5سال آگے ہے: احسن اقبال

چاہ بہار بندرگاہ سے کوئی خطرہ نہیں، گوادر انفراسٹرکچر میں 5سال آگے ہے: احسن ...
چاہ بہار بندرگاہ سے کوئی خطرہ نہیں، گوادر انفراسٹرکچر میں 5سال آگے ہے: احسن اقبال

  


اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت کی سمت بلندیوں کی جانب گامزن ہے۔ 2013ءکے مقابلے میں 2016ءکا پاکستان بدل چکا ہے لیکن ابھی کچھ محاذوں پر چیلنجز درپیش ہیں، آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ (پی ایس ڈی پی) پر وزارت منصوبہ بندی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے تین برسوں میں 747 ارب روپے مالیت کے 610 ایسے ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کیا جو کئی سال سے سفید ہاتھی بن چکے تھے جبکہ وزارت منصوبہ بندی نے سخت کنٹرول اور پیشہ وارانہ سکروٹنی سے بہت سے منصوبوں کی حقیقی لاگت متعین کرکے 570 ارب روپے بچائے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی بندرگاہ چاہ بہار سے پاکستان کو کوئی خطرہ نہیں، اس علاقے میں جتنی اہمیت گوادر کی بندرگاہ کی ہے اتنی کسی اور بندرگاہ کی نہیں، گوادر میں انفراسٹرکچر کی ترقی چاہ بہار سے 5سال آگے ہے، ہم کسی سے مقابلہ کررہے ہین اور نہ خوفزدہ ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ خطے میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری ہو۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی راہداری پاکستان کیلئے قدرت کا انمول تحفہ ہے، اس کیلئے مکمل یکجہتی سے کام کرنے کی ضرورت ہے، 46 ارب ڈالر میں سے 30 ارب ڈالر کے منصوبوں پر اس سال کام کا آغاز ہوجائے گا۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ قومی اقتصادی کونسل آئندہ مالی سال کیلئے 1675 ارب روپے کی منظوری دے چکی ہے، وفاقی بجٹ کی بھی کابینہ نے منظوری دے دی۔

احسن اقبال نے کہا کہ حکومت نے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اہم فیصلے کئے، اس وقت پاکستان کی معیشت کی سمت اٹھان کی جانب ہے، یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کی اقتصادی شرح نمو گزشتہ 8 برسوں میں بلند ترین سطح 71.4 پر ہے، 5.5فیصد کارواں برس کا ہدف حاصل نہ ہوسکنے کی بڑی وجہ کپاس کی فصل کا متاثر ہونا ہے، آئندہ برس اقتصادی شرح نمو کا ہدف 70.5 فیصد رکھا گیا ہے اور زراعت پر خصوصی توجہ دے کر اسے حاصل کرلیا جائے گا، صنعتی شعبے کی ترقی کا مومنٹم برقرار رکھا جائے گا، توانائی کی صورتحال مزید بہتر ہوگی، مئی 2017ءتک 3600 میگا واٹ مزید بجلی سسٹم میں آجائے گی، جبکہ 2018ءتک 10 ہزار بجلی سسٹم میں آجائے گی جس سے توانائی کا بحران ختم ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وژن 2025ءکے تحت نالج اکنامی کے ذریعے پاکستان کی یونیورسٹیوں میں تعلیم کی نئی لہر پیدا کی، آئندہ سال کیلئے 21 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، پسماندہ علاقوں میں نئی یونیورسٹیاں تعمیر کی جائیں گی، اگلے دس برسوں میں ملک میں 10 ہزار پی ایچ ڈی پیدا کریں گے، جبکہ ٹیکنالوجی ریسرچ فنڈ قائم کیا ہے اور اس کے لئے ایک ارب روپے مختص کئے ہیں، صوبوں اور وزارتوں نے 1800 ارب روپے کی ڈیمانڈ کی تھی لیکن اس کو 800 ارب روپے میں پورا کرنا تھا اس کے لئے ترجیحی منصوبوں کو شامل کیا گیا ہے، آئی ڈی پیز کیلئے 100 ارب روپے، یوتھ پروگرام 20، گیس انفراسٹرکچر کیلئے 25ارب روپے رکھے ہیں، 468 ارب روپے کے انفراسٹرکچر کے منصوبے رکھے ہیں جن میں توانائی، سڑکیں، پانی اور فزیکل پلاننگ کے منصوبے شامل ہیں، 260 ارب روپے ٹرانسپورٹ اور ریلوے کیلئے رکھے ہیں، پانی کیلئے 33ارب روپے، سوشل سیکٹر 89، فاٹا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر 42، سائنس و ٹیکنالوجی 9، ایرا 7 اور خصوصی وفاقی پروگرام کے لئے 28ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، چین پاکستان اقتصادی راہداری کے بارے میں وفاقی وزیر نے بتایا کہ مغربی روٹ کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت پر بعض لوگ سیاست چمکانے کی کوشش کررہے ہیں، حکومت کاشتکاروں کے پیداواری اخراجات کو کم کرنے کی کوشش کررہی ہے، وفاقی بجٹ میں کسانوں کو ریلیف دیں گے، یوریا کھاد کی قیمتوں کو کم کیا جائے گا، برآمدات کا شعبہ بھی ایک چیلنج ہے اس میں بھی اصلاحات کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ترقیاتی بجٹ پر کوءی کٹ نہیں لگایا، گردشی قرضوں کی بڑی وجہ سبسڈی ہے، تھر کوئلہ سے جون 2018ءتک بحالی اور تعمیر نوکا پروگرام مکمل ہوجائے گا، اسلام آباد میں کیڈ کو اس برس دو منصوبے دئیے ہیں، ایک منصوبہ اسلام آباد کے علاقے میں سکولوں کو جدید بنانے کا ہے جبکہ دوسرا منصوبہ سمارٹ سکولوں کا ہے جس کے تحت سکولوں کو ٹیکنالوجی بیس بنایا جائے گا اور اسلام آباد کے 24 سکولوں میں کمپیوٹر کے ذریعے تعلیم دی جائے گی۔

مزید : قومی