ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ساتھ کیا ہوا؟

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ساتھ کیا ہوا؟
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ساتھ کیا ہوا؟

  


تحریر۔شاہدنذیر چودھری

میری بڑی خواہش تھی محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان سیاست میں کسی قسم کا کوئی کردار ادا نہ کریں۔اگر کوئی انہیں سلطان ایوبی بنانے کی کوشش کرے تو انہیں کوئی ایسا کردار قبول کرنے سے انکار کردینا چاہئے تھا۔عزت سادات بڑی چیز ہے۔خاص طور پر ایک ایسے سماج میں جہاں اقتدار میں آنے کے لئے نوٹوں سے ووٹ خریدنے کا رواج ہو،جہاں سیاست کا مطلب غنڈوں کی پرورش کرنا،بروکروں کی سرپرستی ،کمیشن مافیا سے گٹھ جوڑکرنااور شراب وشباب کی محفلوں سے باہمی تعلقات کو پروان چڑھانا ہو....

مشرف دور میں ایک رات انکی رہائی کے دو پروموٹرز میرے گھر تشریف لائے،ایک کوتو میں پرانا جانتا تھا لیکن دوسرے صاحب نوجوان اور تازہ دم صحافی تھے ،دونوں نے مجھے بڑی حد تک قائل کرنے کی کوشش کی کہ جس طرح مجید نظامی کی ہدایت پر میں نے وقت ٹی وی کے پروگرام دیدہ ور کا سکرپٹ لکھنا شروع کیا تھااور پھر محسن پاکستان کی رہائی کے پروگرام میں معاونت کرتا رہاہوں اسیطرح اب ڈاکٹر صاحب کو سیاست میں لانے کے لئے رائے عامہ ہموار کرنے میں رول پلے کروں۔

میں نے عرض کیا کہ مجھے نہیں معلوم آپ کا بنیادی ایجنڈا کیا ہے؟ دوسری بات یہ کہ میں کسی ایسی تحریک کا حصہ نہیں بننا چاہتا جو بعد میں ڈاکٹر صاحب کے لئے مشکلات لیکر پیدا ہو۔تیسری بات یہ کہ ڈاکٹر صاحب نے ایک روز مجھے گھر پر فون کرکے کچھ باتیں بتائی تھیں جس سے میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ وہ سیاست میں نہیں آنا چاہتے لیکن بعض لوگ ان کے لئے ” کربلا “ تیار کررہے ہیں۔اس موقع پر میں نے ڈاکٹر صاحب سے عرض کیا تھا کہ وہ بہت اچھے انشاپرداز اور صحافتی ادبی ذوق رکھتے ہیں تو انہیں کالم لکھنے چاہیئں۔اس پر ڈاکٹر صاحب نے پوچھا ” اگر میں لکھوں تو کس کے لئے ،کون مجھے معاوضہ دے گا“

میں نے کہا” آپ کسی برطانوی اخبار میں کیوں نہیں لکھتے ،معاوضہ اچھا ملے گا“

ڈاکٹر صاحب تیزی سے بولے” شاہد میاں وہ تو مجھے پاو¿نڈز میں تول دیں۔لیکن ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا۔میں اُن کے لئے نہیںلکھ سکتا جو میرے اور میرے ملک کے خون کے پیاسے ہیں۔میں نے اپنے ملک کے لئے بھوک کاٹی ہے تو ابھی مزید کاٹ لوں گا“ اسکے بعد مزید مشورہ ہوا کہ وہ کس ادارے میں کالم لکھیں گے تو انہیں اچھا معاوضہ مل سکتا ہے اور ان پیسوں سے وہ اپنے گھر کا کچن اچھی طرح چلا سکیں گے۔یہ الگ بات ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی تحریک نوائے وقت نے چلائی اور ان کاکالم جنگ میں چھپاتو مجید نظامی نے کتنا بُرا منایا۔ایک لحاظ سے مجید نظامی کا خفا ہوناجائز بھی تھا لیکن ڈاکٹر صاحب کے بقول نوائے وقت ان کے گھر کی بات تھی لیکن وہ اس سے معاوضہ نہیں لے سکتے اور نہ مجید نظامی کو اپنی کسمپرسی سے آگاہ کرسکتے تھے۔غیرت اور تعلق کا رشتہ ایساتھا۔میں نے اُس رات دونوں پروموٹرز سے معذرت کی اور کہا کہ ڈاکٹر صاحب ایک بہترین منتظم ہیں مگر وہ پاکستان ایسے ملک میں سیاست نہیں کرسکتے ۔انہیں ایسے مشورے نہ دو،لیکن یاروں نے انہیں سیاست کی دلدل میں دھکیل دیا اور پھر انہوں نے اسکا انجام بھی دیکھ لیا۔پلٹ کر دیکھا ،انکے پیچھے کوئی نہیں آرہا تھا۔ڈاکٹر صاحب کو اسکا احساس ہوا تو انہوں نے ایسے کئی پروموٹرز سے جان چھڑوا لی لیکن اس وقت تک ان کا مان اور غرور سب ٹوٹ چکا تھا۔وہ قوم کے محسن تھے ،ملک کے محافظ تھے،لیکن خود تنہا اور کمزور ہوگئے ۔اور اسکا اظہار وہ بہت سوں کرت جارہے ہیں۔پچھلے دنوں ممتاز قادری کی تحریک کو عروج دینے والے شعلہ بیاں عالم دین مولاناخادم حسین رضوی کی تقریر سنتے ہوئے میرا دل بھر آیا اور مجھے وہ وقت یاد آگیا جب ڈاکٹر صاحب سیاست میں ایٹم چلانے کا ارادہ رکھتے تھے۔مولانا خادم حسین رضوی نے حال ہی میں کراچی میں محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ساتھ ملاقات کی ہے ۔ انہوں نے دوران گفتگو ان کو کرید کرید کر کچھ ایسے سوالات کئے جنہیں بعد ازاں وہ اپنی تقریر میں بیان کرتے نظر آرہے ہیں ۔مولانا خادم حسین رضوی کی شہرت کے کئی حوالے ہیں لیکن حالیہ دور میں انکی ملی و دینی غیرت و حمیت کے لئے جاری جدوجہد نے علمائے کرام و مشائخ کرام کو نظام مصطفٰے تحریک میں سرگرم ہونے پر مجبور کردیا ہے۔ وہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو عاشق رسولﷺ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہوں نے خالصتاً اسلامی جذبہ سے متاثر ہوکر پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنایا ہے لیکن اس قلعے میں ڈاکٹر صاحب کا کوئی غمخوار نظر نہیں آرہا نہ انہیں دلاسہ دے رہا ہے۔وہ قوم پر بھی سخت خفا ہیں۔مولانا کے بقول ڈاکٹر صاحب بہت زیادہ پریشان ہیں۔انہوںنے کہا ہے کہ میں نے تو اس قوم کے لئے اپناسب کچھ پیش کردیاہے،سوچا تھا قائداعظم کے اسلامی ملک کو طاقتور بنادوں گا تو یہ ملک عزت اور وقار سے دنیا میں جئے گا۔ لیکن یہاں تو ناچنے والے،غنڈے اور بدمعاش ملک کے سربراہ بن جاتے ہیں۔

مولانا نے ڈاکٹر صاحب سے سوال کیا”آپ نے سیاسی پارٹی کیوں بنائی ،اسکا کیا فائدہ ہوا اور پھر ختم بھی کردی“

ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے جواب دیا” میں تربیت کرنا چاہتا تھا،میں نے سیاسی پارٹی بنائی،جب چلا اور پیچھے پلٹ کر دیکھا تو ایک بھی بندہ میرے ساتھ نہ کھڑا تھا۔اس قوم کا یہ حال ہوچکا ہے کہ اس قوم کی بیٹیاں اب شام کو چوراہوں پر کھڑی ہوکر اپنی عزت بیچتی ہیں ۔ایک موبائل کی خاطر ....ایک لاکھ یا پچاس ہزار روپے کے موبائل کی خاطر اپنی عزت بیچ دےں، اس قوم کی آپ کیا تربیت کریں گے۔اس بے حمیت قوم کو آپ کیا کہیں گے کہ جس کو یہ بھی نہیں پتہ کہ اسکا محسن کون ہے اور دشمن کون؟“

مولانا کا کہنا تھا کہ یہاں بلے بازوں کو ہیرو بناکر پوجاجاتا ہے اور ملک کے دفاع کو ایٹم بم سے مضبوط بنانے والے کےساتھ ہم نے کیا سلوک کیاہے۔یہاں پکوڑے سموسے اور ہریسے کھانے والے ملک کے صدر وغیرہ بن جاتے ہیں ،وہ ملک کو کیا چلائیں گے۔ ملک تو صرف ڈاکٹر قدیر جیسے ہیرو چلا سکتے ہیں۔کیا تم جانتے ہو جب ڈاکٹر قدیر ریٹائر ہوئے تو انکی پنشن صرف ساڑھے چار ہزار تھی۔دیکھو جس ملک کے اے ایس آئی انسپکٹر،ڈی سی،ایم پی اے ،ایم این اے کروڑوں روپے کھاجائیں وہاں ایک ایٹم بنانے والے کو صرف ساڑھے چارہزار پنش دی جاتی ہے۔مجھے ڈاکٹر صاحب نے قسماً کہا ہے کہ انہوں نے ایک روپے کی کرپشن نہیں کی ،تو کیا اس ملک کا حکمران ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ہونا چاہئے تھا یا پانامہ لیکس والوں کو................؟؟؟

مزید : بلاگ


loading...