’’سفرنامہ کیلاش ‘‘روحانی سلسلہ کے معروف گدی نشین اور سیاست دان کا ’’مٹتی کافر تہذیب ‘‘ کا آنکھوں دیکھا حال (قسط نمبر 3)

’’سفرنامہ کیلاش ‘‘روحانی سلسلہ کے معروف گدی نشین اور سیاست دان کا ’’مٹتی ...
’’سفرنامہ کیلاش ‘‘روحانی سلسلہ کے معروف گدی نشین اور سیاست دان کا ’’مٹتی کافر تہذیب ‘‘ کا آنکھوں دیکھا حال (قسط نمبر 3)

  


پیر زادہ ثاقب خورشید عالم پاکستان کے مشہور روحانی سلسلہ کے گدی نشین اور سیاسی رہنما ہیں ، خوبصورت  مقامات کی سیر و  سیاحت کے دلدادہ پیر زادہ صاحب نے  حالیہ دنوں میں’’وادی کیلاش ‘‘ کی جنت نظیر وادی کا انتخاب کیا ،کئی دنوں تک وہاں کے سالانہ میلے اوربَل کھاتے پہاڑی سلسلوں کا طواف کرنے کے بعد واپس اسلام آباد لوٹے ہیں ۔’’روزنامہ پاکستان ‘‘ کے لئے   انہوں نے ’’وادی کیلاش‘‘ کا سفرنامہ شروع کیاہے جسے ہم اپنے قارئین کی دلچسپی کے لئے قسط وار شائع کر رہے ہیں۔’’سفر نامہ کیلاش ‘‘ کی تیسری  قسط حاضر خدمت ہے )

دوسری قسط پڑھنے کے لئے کلک کریں

ہوٹل فارنرز ٹورسٹ ان میں داخل ہوئے ، استقبالیہ پہ ایک خوش مزاج خان صاحب سے ملاقات ہوئی ، میرے ہمراہ آئے سنتریوں نے تھانیدار صاحب کا پیغام اسے دیا ،جسے سن کے انکی خوش مزاجی اور بڑھ گئی اور رجسٹر میں ضروری اندراج وغیرہ کرنے کے بعد انہوں نے دوسرے کمروں سے ذرا ہٹ کے کونے میں پرانی طرز تعمیر کا ایک پرانا سا ہٹ ہمیں دکھایا۔۔۔

ہٹ ”دیار “کی لکڑی سے تیار کیا گیا تھا، کمرے سے ملحقہ پرانی طرز کا غسل خانہ و بیت الخلا بھی موجود تھا اور سب سے بڑھ کر اس میں گرم ٹھنڈے پانی کی سہولت بھی دستیاب تھی جو کہ عمومی طور پہ” سرد علاقوں“ میں ایک نعمت ہے کیونکہ گیس موجود نہ ہونے کی وجہ سے یہاں ایساگیزر نصب تھا جس میں لکڑیاں استعمال ہوتی ہیں۔۔دو پرانے سنگل بیڈ ، دو کرسیاں اور فرش پہ جا بجا پھٹا ہوا دری نما قالین ، اس کمرہ کا کل اثاثہ تھا۔۔۔۔نمی کی وجہ یا غالباً سارا سال بند رہنے سے ہٹ میں عجیب سی بُو تھی۔۔اگرچہ تھانیدار صاحب کی مہربانی سے ہوٹل والے نے کرایہ سات ہزار سے کم کر کے چار ہزار کر دیا تھا لیکن کمرے کی حالت کے اعتبار سے یہ کرایہ پھر بھی زیادہ تھا، لیکن میلے کے وجہ سے بمبوریت گاوں میں اور کہیں کمرہ ملنا ناممکن تھا اور دوسری بات یہ کہ سارے سال میں مقامی باشندوں کیلئے کمائی کے بس یہی دن تھے اس لئے میں نے یہاں ہی رہائش اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔۔

ہوٹل میں موجود واحد ویٹر ایک کیلاش لڑکا تھا جو کہ اپنی سبز آنکھوں اور شکل و صورت کے اعتبار سے بالکل کسی ہالی ووڈ فلم کا ہیرو نظر آتا تھا۔۔

وہ میرا سامان گاڑی سے کمرے میں لایا اور آتے ہی فوجی سٹائل میں ماتھے پہ ہاتھ رکھ کر سلام ٹھوکا۔۔

سلام صاب !!!

کیسا ہے صاب ؟؟

ِدیر سے آیا اے صاب ؟؟ایک ہی سانس میں اس نے تین سوال میری طرف اچھالے ۔۔۔۔

نہیں یار اسلام آباد سے آیا ہوں۔۔۔تم کیلاش ہو ؟؟

ہاں صاب۔۔کیلاش اے اور میں کاپر اے صاب۔۔۔

ارے تم تو بالکل انگریز لگتے ہو۔۔

جی صاب امّ یونانی اے۔امارا باپ دادا یونان سے آیا تھا ادھر پہاڑوں میں۔۔ادھر بمبوریت میں ایمبیسی سے یونان والا بہت بڑا بڑا افسر لوگ آتا اے ہمیں دیکھنے کے واسطے۔۔۔ اس نے امّارے لئے ادھر بہت کام بھی کیا ہے۔۔

وہ بالکل امّارے جیسا اے۔۔

ویٹر نے مسکراتے ہوئے فخریہ طور پہ اپنا شجرہ بیان کرنا شروع کر دیا

تم جتنے دن بھی یاں رُکے گا َامّ تماری خدمت کرے گا صاب۔۔کوئی بھی چیز چاہئے تو حکم کرو صاب۔۔

شکریہ یار۔فی الحال جلدی سے ہوٹل سے باہر جا کر چشمے کا ٹھنڈا پانی لے کر آو۔۔

کھانا کیا کھائے گا صاب ؟؟؟

جو بھی ملے گا ہم کھائے گا بس جلدی سے لے آو۔۔

دال تیار اے صاب وہ لے آوں ؟؟

بس یار جو بھی ہی فوراً لے آو  بس کھانا گرم ہونا چاہئیے۔میں نے بھوک سے بے تاب ہو کر کہا

ٹھیک صاب ابھی آیا ۔۔۔۔

وہ جیسے ہی کمرے سے باہر گیا میں نے اپنا سامان کھولا۔۔۔۔ ہوٹل کا بستر اگرچہ بظاہر صاف نظر آ رھا تھا لیکن میں نے اس پہ اپنا سلیپنگ بیگ وغیرہ بچھایا۔۔ایک ٹی شرٹ اور شارٹ بیگ سے نکالی اور فوراً غسل خانہ کی جانب لپکا۔۔۔

کئی گھنٹوں کے مسلسل سفر کی وجہ سے بری حالت ہو رہی تھی۔۔ کافی دیر تک ٹھنڈے پانی سے نہانے کے بعد کپڑے تبدیل کر کے باہر آیا تو کھانا تیار ہو چکا تھا۔۔میرے کہنے پہ کھانا ویٹر نے” ہٹ “کے سامنے موجود لان میں پڑی لوہے کی سفید میز پہ لگا دیا۔۔

بغیر تڑکے کی دیسی مسور کی گرما گرم لیکن ذائقے دار دال کے ساتھ دیسی آٹے کی بڑی بڑی جہازی سائز کی 2 روٹیاں اور تازہ کٹے کھیرے،ٹماٹر اور پیاز پہ مشتمل سلاد نے بھوک کو اور چمکا دیا۔۔

پیاز کھیرا اور ٹماٹر رس سے بھرے ہوئے تھے۔ کئی گھنٹے پہلے (دِیر )میں کھانا کھایا تھا، بھوک کی وجہ سے میں کھانے پہ ٹوٹ پڑا اور پلیٹ صاف کرکے ہی دم لیا۔۔

ویٹر چپ چاپ پاس کھڑا مجھے ندیدوں کی طرح کھاتے دیکھتا رہا۔۔۔۔

اور کھانا لائے صاب ؟؟ اس نے پوچھا

نہیں یار شکریہ۔۔۔۔ مزہ آ گیا کھانے کا، کس نے بنایا ہے ؟؟

َامّ نے خود بنایا صاب۔ادہر ہوٹل میں َامّ دو بندوں کا عملہ ہے، سب کام َامّ خود کرتا اے۔۔۔

پانی چشمے سے لائے ہونا؟؟جی صاب ادہرپاس ہی ہوٹل کے پیچھے تازہ پانی کا چشمہ اے۔۔۔۔

ویسے صاب اگر تم بولو تو َامّ تمارے لئے دوسرا پانی کا بندوبست کرے ؟؟

دوسرا پانی ؟؟

کیا مطلب ؟؟

ارے صاب وہ دوسرا والا” مزیدار پانی“

ویٹر نے ایک آنکھ دباتے ہوئے ذومعنی لہجے میں کہا

َامّارے اپنے گھر کا بنا ہوا اے۔۔ خالص اپنے گھر کے انگوروں کا شراب بناتا اے امّ۔تم پیئے گا تو مزہ آجائے گا مہنگا بھی نئیں اے۔پانچ سو روپے کا بوتل اے وائن کا۔۔۔۔۔

امارا عید اے ،تو امّ بھی خوشی کرتا اے، ادھر سارا گاوں خوشی کرتا اے، سب پیتا اے۔۔۔۔

ارے نہیں یار۔میں مسلمان ہوں اور میرے مذہب میں حرام ہے۔۔میں نے جواب دیا

صاب سب مسلمان پیتا اے۔ ادھر سب لوگ آتا اے۔لاہور سے ،کراچی سے۔ تمارا اسلام آباد سے۔۔سب پیتا اے

ادہر سب کمروں میں امّ نے بوتل دیا ہے۔۔ ابھی تو ختم ہونے والا اے۔اگر چاہئیے تو ابھی بول دو بعد میں مہنگا ہو جائے گا۔۔امّارے پاس چرس بھی ہے بالکل خالص والا اگر تمہیں چاہئیے تو بولو۔۔

ارے یار تمہیں بولا تو ہے نہیں چاہئیے۔۔ میں سگار کے علاوہ کچھ نہیں پیتا ہے۔اور وہ میں ساتھ لایا ہوں اس لئیے تمہارا شکریہ۔۔۔

اچھا صاب۔وہ کچھ مایوس ہو کر بولا۔۔چلو تمارا مرضی پھر بھی اگر کوئی چیز چاہئیے تو بتانا۔۔

میں نے اسے ٹپ دی تو اس نے خوش ہو کر ایک بار پھر فوجی انداز میں سیلوٹ کیا اور چلا گیا۔۔۔

اسکے جانے کے بعد میں نے سگار سلگایا اور ایک طویل کش لیتے ہوئے ہوٹل کا جائزہ لیا۔۔ ہوٹل میں سات آٹھ کمرے تھے اور ہر کمرے کے آگے ایک چھوٹا سا لان تھا۔سیزن کی آمد کی وجہ سے تازہ رنگ و روغن کیا گیا تھا۔

سب سے خوبصورت چیز میرے کمرے کی کھڑکی کے بالکل سامنے لان کے وسط میں

سرخ گلابوں کی جنگلی بیل تھی۔۔بالکل عمیرہ احمد کی ناول "امر بیل "جیسی !!

اور اس بیل پہ شوخ سرخ رنگ کے بے شمار گلاب

زندگی کی تمام رعنائیوں سے بھرپور یہ بیل جو کہ گلابوں کے بوجھ سے دوہری ہو رہی تھی۔۔

شام رات میں ڈھلنے کے ساتھ ہی فضا میں خنکی بڑھ گئی تھی۔ میں اٹھ کر اندر کمرے میں آگیا۔

وضو کیا اور اپنی طرف سے خود ہی کمرے میں قبلہ کا تعین کر کے کارپٹ پہ اپنے ساتھ لائی گرم چادر بچھائی اور اپنے رب کریم کے حضور سربسجود ہو گیا ۔۔۔۔۔جو کہ کل کائنات کا تنہا خالق و مالک ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو کہ سب سے بڑا مصور ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

جس نے کائنات کی کینوس پہ لاتعداد رنگ اس خوبصورتی سے بکھیر دئیے کہ ہر رنگ لاجواب ۔۔۔۔۔

ہر شے اپنی مثال آپ ۔۔۔۔۔۔۔

بادل۔ بارش۔پہاڑ۔برف۔دریا۔دھرتی۔پھول۔ رنگ اور خوشبو۔

میں اور آپ سب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہر شے اس عظیم الشان مصور کا ایک شاہکار ، جسکی آج تک کوئی نقل نہیں بنا سکا اور نہ ہی بنا پائے گا ، کیونکہ تمام شاہکاروں کی تکمیل پہ

احسن تقویم کی مہر ثبت ہے ۔۔۔۔۔۔۔

اللّہ اکبر  ۔۔۔۔۔۔۔

عشا کی فرض نماز کی ادائیگی کے ساتھ سارے دن کی قضا نمازیں ادا کیں۔۔

نمازیں ادا کرکے دروازے کی چٹخنی لگائی۔۔ اور سلیپنگ بیگ میں لیٹ گیا۔۔ سلیپنگ بیگ سے ایک مانوس سی خوشبو آ رہی تھی۔۔

غالباً گزشتہ گرمیوں میں میرے اس سلیپنگ بیگ کے ساتھ گزرے  ’’دیوسائی‘‘ کے رنگ برنگے پھولوں والے ہرے بھرے میدانوں کی مہک  ۔۔۔۔

یا پھر ’’فیری میڈو ‘‘کی گھنی ٹھنڈی سبز گھاس کییا  ’’بیال کیمپ ‘‘میں موجود دیار کی لکڑی والے برادے کی ۔۔۔۔

یا’’ نانگا پربت ‘‘کے بیس کیمپ میں موت جیسی ٹھنڈک والی برف کی ۔۔۔۔۔

یا پھر ’’استور کی ’’راما وادی ‘‘کے نزدیک ندی کنارے میری اس سلیپنگ بیگ کے ساتھ گزری ایک رات کی مہک ۔۔۔ جس ندی کے پانیوں میں درختوں کے عکس ساکت ہیں۔۔۔۔۔جس کی گیلی مٹی کی خوشبو میں آج بھی محسوس کر سکتا ہوں۔۔۔۔

پتا نہیں یہ محض میرے تخیل کی پرواز تھی یا حقیقت ؟؟؟؟

لیکن لانڈری سے دھل کر آئے اپنے اس کول مین کے سلیپنگ بیگ سے میں ان سب  جگہوں کی مٹی کی خوشبووں کو محسوس کر رھا تھا۔۔

بمبوریت گاوں چاروں طرف سے پہاڑوں میں گھرا ہوا تھا اور ان بڑے بڑے پہاڑوں کی چوٹیوں برف سے ڈھکی ہوئیں تھیں اور میں اپنے سلیپنگ بیگ میں لیٹے ہوئے ان ٹھنڈی ہواوں کو محسوس کو سکتا تھا۔

جو کہ یہاں سے کوسوں ِمیلوں دور اسلام آباد میں واقع میرے گھر کے بند بیڈ روم میں موجود میٹسوبشی کی چِلڈ کولنگ میں نہیں محسوس کی جا سکتی تھی۔۔

کمرہ میں موجود واحد بلب جو کہ ہوٹل کے نزدیک واقع تند و تیز ندی کے پانی سے بنی ہوئی ٹربائن کی بجلی سے جل بجھ رھا تھا۔۔

کسی مفلس کی حیات کی طرح ۔۔۔۔ٹمٹما رہا تھا۔۔اور میں چپ چاپ بستر پہ لیٹا اسے تک رھا تھا ، بالکل ویسے جیسے سب کسی خاموش تماشائی کی طرح مفلس کو تکتے رہتے ہیں اور اسکی زندگی کا بلب ٹمٹماتا رہتا ہے اور پھر مدھم ہوتے ہوتے ایک دم تاریک ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

سانسوں کی ٹربائن جو  رک جاتی ہے ۔۔

زندگی سے تھک ہار کے۔۔حالات کی تند و تیز لہروں کے تھپیڑوں کے وار سہتے سہتے۔۔۔

رات گہری ہوتی چلی گئی اور اس ٹمٹماتے بلب کو تکتے تکتے جانے کب نیند نے مجھے اپنی آغوش میں لے لیا۔۔

                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                     (جاری ہے )

مزید : بلاگ