رموزِ شاعری ( 2)

رموزِ شاعری ( 2)
 رموزِ شاعری ( 2)

  

اب ہم شعر کا مکمل پوسٹ مارٹم کریں گے کہ آخرشعر بنتا کیسے ہے؟ سب سے پہلے یہ بات ذہن میں رکھئے گا کہ دنیا کا ہر شعر کسی نہ کسی ایک سانچے یعنی ’بحر‘‘ میں مزین ہوتا ہے،بلاشبہ کوئی اگر نظم معراء بھی لکھتا ہے تو وہ بھی ایک مخصوص بحر میں لکھی جاتی ہے، گویا ہر شعر کی کوئی نہ کوئی ایک ’’بحر ‘‘ضرور ہوتی ہے، جس میں وہ شعر بندھا ہوتا ہے۔

آئیے ہم شعر بنانا سیکھیں: جیسا کہ ہم اوپر ذکر کر چکے ہیں کہ شاعری دراصل ایک خداداد صلاحیت ہے اور اس کے لئے انسانی جدو جہد بہت کم ہی مفید ہوتی ہے، جب انسان کسی چیز کو بنیاد سے جان لیتا ہے، تو پھر اس کو سمجھنے میں کوئی خاص مشکل نہیں رہتی، لہٰذا ہم یہاں پر ایک شعر کی بنیاد جاننے کی کوشش کریں گے کہ آخر ایک شعر کے اجزائے ترکیبی کون کونسے ہیں؟

پہلی بات: اگر آپ کے پاس کوئی اچھا سا تخیل موجود ہے، تو آپ اسے بلا شبہ ایک شعر کا روپ دے سکتے ہیں، مگر یہاں پر یہ بات بہت ہی اہم ہے کہ اپنے خیالات کو ایک ایسے مبذون الفاظ کا روپ دیں کہ پڑھنے والا آسانی سے سمجھ جائے کہ یہ ایک شعر ہی ہے عام مقولہ ہے کہ اچھا شعر ہمیشہ یاد ہو جاتا ہے۔ ایک شعر لکھنے سے پہلے یہ جاننا انتہائی ضروری ہے کہ ’’بحر‘‘ کسے کہتے ہیں؟

بحرکی تعریف: بحر کو ہم سادہ الفاظ میں شعر کا ’’پیمانہ‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں، علاوہ ازیں ایک ایسا سانچہ جس میں مربوط انداز سے الفاظ پروئے جائیں’’ بحر‘‘ کہلاتا ہے، اْردو میں معروف بحریں انیس ہیں، جن میں سے بیشتر عربی اور فارسی سے آئی ہیں، جبکہ کل بحور کی تعداد ایک سو نو سے بھی زائد ہے، مگر زیادہ تر اْردو اور فارسی شاعری میں یہی انیس بحریں ہی مستعمل ہیں۔

سالم بحریں

ہزج

کامل

رمل

وافر

متقارب

متدارک

مدید

سالم بحر سے مراد وہ بحر جس میں چار ارکان پائے جاتے ہوں، ارکان سے مراد وہ مخصوص الفاظ جو کسی بحر کے ردھم کو ظاہر کرتے ہیں، سالم بحر کے کسی بھی رکن میں زحافات نہیں ہوتے، زحافات سے مراد بحر کے ایک یا ایک سے زیادہ ارکان سالم نہ ہوں مثال دیکھیں ۔

بحر ہزج مثمن سالم کے ارکان

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن

اب اسی بحر کی محذوف شکل ملاحظہ کریں

مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن

یہ بحر بھی ہزج کے قبیل سے ہے مگر یہ محذوف ہے مذکورہ بالا سالم بحور کی مختلف محذوف شکلیں ہیں، ذیل میں ہم سالم بحور کے سالم اور محذوف ارکان بیان کرتے ہیں ۔

بحر ہزج مثمن سالم

( مثمن سے مراد آٹھ یعنی ایک شعر میں جملہ ارکان کی تعداد آٹھ ہو گی اور سالم سے مراد ہر رکن صحت مند یعنی مکمل ہوگا)

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن

بحر کامل مثمن سالم

متفاعلن متفاعلن متفاعلن متفاعلن

بحر رمل مثمن سالم

فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن

بحر وافر مثمن سالم

مفاعلتن مفاعلتن مفاعلتن مفاعلتن

بحر متقارب مثمن سالم

فعولن فعولن فعولن فعولن

بحر متدارک مثمن سالم

فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن

بحر مدید مثمن سالم

فاعلاتن فاعلن فاعلاتن فاعلن

زحافاتِ ہزج

مثمن اخرب مکفوف محذوف

مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن

مثمن اخرب سالم

مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن

زحافاتِ رمل

مثمن مشکول

فعلات فاعلاتن فعلات فاعلاتن

مثمن مخبون محذوف

فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن

زحافاتِ متدارک

مثمن مخبون

فعلن فعلن فعلن فعلن

زحافاتِ مدید

مثمن مخبون

فعلاتن فعلن فعلاتن فعلن

زحافات مکمل کرنے سے پہلے عمومی نوعیت کی دو مستعمل معروف بحور کا ذکر کرنا نہایت ضروری ہے، جس کی صورتیں تو محذوف ہیں، لیکن وہ سالم میں شمار ہوتی ہے ۔

بحر مضارع مکفوف محذوف

مفعول فاعلات مفاعیل فاعلات

بحر خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع

فاعلاتن مفاعلن فعلن

بحر خفیف دیگر بحور کے برعکس مسدس ہے، یعنی اس کے ارکان آٹھ کی بجائے چھ ہیں، یعنی بحر خفیف کے ایک شعر میں چھ ارکان ہوتے ہیں، اسے عام اصطلاح میں " چھوٹی بحر" بھی کہا جاتا ہے۔

ذیل میں بحر کی مکمل تفہیم کے لئے درج بالا بحور میں منتخب اشعار بیان کرتے ہیں ۔

بحر ہزج مثمن سالم

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

بہت نکلے مِرے ارماں لیکن پھر بھی کم نکلے

بحر کامل مثمن سالم

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وہی وعدہ یعنی نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

بحر ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف

بے دم ہوئے بیمار دوا کیوں نہیں دیتے

تم اچھے مسیحا ہو شفا کیوں نہیں دیتے

بحر خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع

دل میں اِک لہر سی اْٹھی ہے ابھی

کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی

تقطیع : تقطیع سے مراد قطع کرنا یا ٹکڑے ٹکڑے کرنا، اصطلاح میں کسی شعر کو بحر کے اْصول کے مطابق ٹکڑے ٹکڑے کرنا تقطیع کہلاتا ہے

اْصولِ تقطیع

ہر متحرک حرف کے مقابلے میں متحرک اور ساکن کے مقابلے میں ساکن حرف آئے گا بوقتِ ضرورت حروفِ علت( ا و ی) اور دو چشمی ہائے( ھ) ہائے ہوزہ( ہ) ہمزہ( ء) جزمِ ثانی جیسے دوست کی ت اور واؤ معدولہ یعنی خواب کی و اور نون غنہ( ں) تقطیع میں گر جائیں گے علاوہ ازیں تقطیع میں تشدید(ّ ) دو حروف شمار ہو گی

مثال دیکھیں

بحر ہزج مثمن سالم

مفاعیلن

ہزاروں خوا

مفاعیلن

ہشیں ایسی

مفاعیلن

ک ہر خاہش

مفاعیلن

پ دم نکلے

تقطیع میں الفاظ کا صحیح تلفظ بنیادی حیثیت رکھتا ہے پس الفاظ کے صحیح تلفظ پر دسترس بہت ضروری ہے اگر شعر میں ایک لفظ کا تلفظ غلط استعمال کر لیا گیا تو پوری بحر ٹوٹ جائے گی۔ مثال کے طور لفظ نَرم ہے یعنی ن مفتوح ر اور م ساکن ہیں اسے آپ نَرَم یعنی ن اور ر مفتوح م ساکن نہیں استعمال کر سکتے، اگر کر لیا تو شعر کا وزن ٹوٹ جائے گا۔

مزید :

کالم -