’’عام آدمی‘‘ کی تلاش

’’عام آدمی‘‘ کی تلاش
 ’’عام آدمی‘‘ کی تلاش

  

خواتین و حضرات! جون کا مہینہ کئی اعتبار سے ہمارے لئے بھاری ہوتا ہے۔ ایک تو اس میں گرمی کی شدت اپنے عروج پر ہوتی ہے پھر بجلی اور پانی، جس کی اس ماہ میں بہت ضرورت ہوتی ہے، کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی ماہ جون میں ہمارے سروں پر بجٹ کی تلوار بھی لٹک رہی ہوتی ہے۔ اس مرتبہ یہ دونوں المیے یعنی گرمی اور بجٹ جون سے پہلے ہی آدھمکے۔اس سال بھی بجٹ آیا، ایک شور اور ہنگامے کے ساتھ۔ اس شور میں عام آدمی سے لے کر اسمبلی کے ممبران اور سیاست دان تک سبھی شامل تھے۔ وزیر خزانہ نے بڑی ہمت اور جرات سے قومی اسمبلی میں قہقہوں، آوازوں، آہ و پکار، تالیوں اور نعروں کی گونج میں بجٹ پیش کیا۔ وزیر موصوف پر داد و تحسین کے ڈونگرے بھی برسائے گئے، بجٹ کی کاپیاں بھی پھاڑی گئیں، واک آؤٹ بھی ہوا اب بجٹ پر ہر حوالے سے تبصرے ہو رہے ہیں۔ وزیرخزانہ نے سے باآواز بلند کہا کہ عوام پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جا رہا اور یہ بجٹ عام آدمی کی حالت بہتر بنائے گا، لہٰذا اس بجٹ کو ہم عام آدمی کے لئے بہترین بجٹ کہہ سکتے ہیں۔

خواتین و حضرات! ہم ہر سال بجٹ تقریر میں سنتے ہیں کہ یہ بجٹ عام آدمی کو متاثر نہیں کرے گا اور اس کا کوئی منفی اثر عام آدمی پر نہیں پڑے گا۔ یہ ’’عام آدمی‘‘ کون ہے؟ ہم بہت عرصے سے اس عام آدمی کی تلاش میں ہیں جس پر قومی بجٹ کا کبھی کوئی بُرا اثر نہیں پڑا اور بجٹ کے بعد اس سکھ کا سانس لیا ہو، اپنی محدود آمدنی میں خوب عیش کرنے، بلکہ گل چھرے اُڑانے کی نوید ملی ہو۔ اگر عام آدمی سکھی ہو گیا ہے تو پھر وہ کون لوگ ہیں جو بے روزگاری، غربت اور بلوں کے بوجھ سے خوف زدہ ہو کر خودکشیاں کر رہے ہیں۔ جو پانی ،بجلی گیس اور صحت کی سہولتوں کو ترس رہے ہیں۔ اپنے بچے کو نوکری دلانے کے لئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ اگر بجٹ کے عام آدمی پر مضر اثرات نہیں پڑے اور معیشت مضبوط ہوئی ہے تو پھر وہ کون عورتیں ہیں جو اپنے بچوں کی فاقہ زدگی کو دیکھتے ہوئے خود کو آگ لگا لیتی ہیں، اگرزرمبادلہ اور ڈالروں کے ذخیرے میں اضافہ ہوا ہے تو پھر وہ لوگ کون ہیں جو بیماری اور فاقوں سے تنگ آکر ریل کی پٹڑی پر اپنی جانیں دے رہے ہیں۔ چوریاں، ڈاکے، لوٹ مار، قتل وغارت اور لاقانونیت کی وجوہات کیا ہیں؟ یاد رہے کہ جب بھی پٹرول کی قیمت میں اضافہ کیا جاتا ہے تو ساتھ یہ جملہ ضرور کہا جاتا ہے کہ اس کا عام آدمی پر اثر نہیں پڑے گا۔ اب اللہ جانے بسوں، ویگنوں، رکشوں،موٹرسائیکلوں پر کون سفر کرتا ہے۔ مکانوں کے کرائے کیوں بڑھتے چلے جاتے ہیں، بے روزگاری کیوں بڑھتی چلی جا رہی ہے؟۔ان سب مصائب کا شکار کون ہوتا ہے۔۔۔ اگر وہ ایک عام آدمی نہیں ہے تو کون ہے؟ پاکستان کی 35 فیصد سے زیادہ آبادی غربت کی بکسر سے بھی نچلی سطح کی زندگی گزار رہی ہے۔ 40فیصد سے زائد آبادی ایک کمرے پر مشتمل گھروں میں رہ رہی ہے۔50فیصد گھروں میں باورچی خانہ سرے سے ہے ہی نہیں۔ صرف 30 فیصد رہائشی یونٹس میں لیٹرین کی سہولت میسر ہے۔ غربت اور کیا ہوتی ہے؟ اور غربت کی سطح سے بھی نیچے کیا سطح ہو گی۔ گویا پاکستان کی 35فیصد سے زیادہ آبادی نہ زندوں میں ہے نہ مردوں میں ۔معیشت کی ترقی کے بڑے بڑے دعوے کرنے والے ماہرین معیشت اس 35 فیصد آبادی کو کس کھاتے میں ڈالیں گے؟ کیا یہ ’’عام آدمی‘‘ نہیں۔ ان کی زندگیوں پر بجٹ اور اشیاء کی قیمتیں بڑھنے کا کوئی اثر نہیں پڑے گا؟ ان لوگوں کو نہ تو کسی اقتصادی جائزے سے دلچسپی ہے نہ اعدادوشمار سے، نہ آئی ایم ایف کی پابندیوں کا معلوم ہے نہ ورلڈ بینک سے غرض ہے۔ انہیں فقط روٹی کپڑا اور مکان درکار ہے، عزت کے ساتھ اور تحفظ کے ساتھ اور یہی ’’عام آدمی‘‘ کی پہلی اور آخری خواہش ہوتی ہے۔

ایسے ہی ایک عام آدمی کو پولیس چوری کے الزام میں پکڑ کر لے گئی۔ یہ عام آدمی فاقوں کا شکار تھا، لہٰذا کمزور اور ناتواں بھی تھا۔ پولیس کو اس کی صحت کا یہ پست معیار نشہ کرنے کی حالت لگی۔ تھانے میں تھانیدار نے مار مار کے اس سے اگلوانا چاہا کہ وہ کس چیز کا نشہ کرتا ہے اور کون کون سے لوگ اس گروپ میں اس کے ساتھ شامل ہیں۔ اس پر اس عام آدمی نے ہاتھ جوڑ کر کہا: ’’سرکار مَیں نشہ کرتا ہوں اور اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ مجھے دن میں اس نشے کی کم از کم دوبار ضرورت پڑتی ہے۔ مَیں روٹی کا نشہ کرتا ہوں۔ میرے بیوی بچے بھی اس روٹی کے نشے کی لت میں پڑ گئے ہیں۔ ہمیں یہ نشہ نہ ملے تو ہم مر جائیں گے سرکار‘‘۔ خواتین و حضرات! ہر بجٹ میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جا رہا، جبکہ ڈیوٹی اور قیمتوں میں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ کاروباری حضرات از خود بھی قیمتیں بڑھا دیتے ہیں۔ جس طرح اس رمضان کی آمد کے ساتھ ہی پھلوں، سبزیوں کی قیمتیں بڑھ گئیں اور ہر مرتبہ وزیراعظم کا رمضان پیکیج ’’ہنسی علاجِ غم‘‘ سے زیادہ نہیں ہوتا، ٹیکس لگتے ہیں اور لگتے رہیں گے، وہ بالواسطہ ہوں یا بلاواسطہ، جی ایس ٹی یا ڈیوٹی یا کوئی اور شکل۔

مزید :

کالم -