پارلیمینٹ کی بالادستی کے لئے درخشاں روایات قائم کریں

پارلیمینٹ کی بالادستی کے لئے درخشاں روایات قائم کریں

  

قومی اسمبلی میں منگل کے روز بھی ہنگامہ آرائی کا سلسلہ جاری رہا، رانا تنویر حسین کی تقریر کے دوران پی ٹی آئی کے ارکان شور مچاتے اور نعرے لگاتے رہے، قائد حزبِ اختلاف سید خورشید شاہ نے اپنا یہ موقف دہرایا کہ وہ اس وقت تک بجٹ پر بحث نہیں کریں گے، جب تک ان کی تقریر لائیو نشر نہیں کی جائے گی۔ اپوزیشن نے اجلاس کا بائیکاٹ کر کے باہر اجلاس کرنے اور بجٹ اجلاس میں نہ آنے کا اعلان کیا، دفاعی پیداوار کے وزیر رانا تنویر حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کے کسی بھی دور میں قائد حزبِ اختلاف کی تقریر کبھی لائیو کاسٹ نہیں کی گئی،اِس لئے اب خورشید شاہ کا انکار ناقابلِ فہم ہے یا پھر وہ ٹریپ ہو گئے ہیں یا اس کے پیچھے کوئی اور مقاصد ہیں۔ خورشید شاہ نے کہا کہ سپیکر حکومتی دباؤ میں آ گئے ہیں،کوئی پرچی آ گئی ہو گی۔ سپیکر نے اس پر کہا مَیں روزے سے ہوں کوئی پرچی نہیں آئی، جس پر شاہ صاحب نے کہا کوئی آنکھ کا اشارہ ہو گیا ہو گا، ہمیں جمہوریت بہت عزیز ہے غیر جمہوری اقدام سے تکلیف ہوتی ہے۔ آپ نے پہلی مرتبہ روایات توڑی ہیں اِس بجٹ کو کون مانے گا۔ روایت یہ ہے کہ بجٹ پر بحث کا آغاز قائدِ حزبِ اختلاف کی تقریر سے ہوتا ہے،لیکن اب کی بار جب جناب خورشید شاہ کو بحث کا آغاز کرنے کے لئے کہا گیا تو انہوں نے اصرار کیا جس طرح وزیر خزانہ کی تقریر براہِ راست ٹی وی پر نشر کی گئی اسی طرح اُن کا خطاب بھی لائیو ٹیلی کاسٹ کیا جائے،لیکن سپیکر نے ان کا یہ موقف تسلیم نہیں کیا۔ خورشید شاہ بھی اِس بات پر زور دیتے رہے کہ وہ اس وقت تک بحث کا آغاز نہیں کریں گے جب تک یہ براہِ راست ٹیلی کاسٹ نہ ہو گی جس پر سپیکر نے حکومتی ارکان سے بحث کا آغاز کر دیا، پیپلزپارٹی نے کورم کی نشاندی کر دی جب گنتی کی گئی تو کورم پورا تھا یوں اجلاس جاری رہا۔

دوسری جانب سینیٹ میں چیئرمین نے وزراء کی غیر حاضری کا سخت نوٹس لیا اور کہا ایسی صورت میں پارلیمینٹ کو بند کیوں نہ کر دیں۔ اس سے پہلے وہ اس مسئلے پر کام چھوڑ کر چلے گئے تھے، بعد میں انہیں راضی کیا گیا۔ انہوں نے اسلامی عسکری اتحاد کے دائرہ کار کی تفصیلات فراہم نہ کرنے پر دفاع اور خارجہ سیکرٹریوں کو ایوانِ بالا کا استحقاق مجروح کرنے کا ذمے دار قرار دے دیا، ان کا کہنا تھادونوں وزارتیں معلومات کی فراہمی سے معذرت کر رہی ہیں۔انہوں نے وزیر دفاع اور مشیر خارجہ کو طلب کر لیا۔ پارلیمینٹ کے دونوں ایوانوں میں بجٹ پیش کر دیا گیا ہے اور قوم امید کر رہی ہے کہ اُس کے نمائندے بجٹ پر بحث کے دوران بجٹ کی خوبیوں اور خامیوں کو سامنے لائیں گے، حکومتی ارکان سے تو خیر مخالفانہ تقریروں کی توقع نہیں،لیکن اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے بھی لگتا ہے بجٹ پر کوئی تیاری نہیں کی،بلکہ مشاہدے میں یہ بات آئی کہ بجٹ پیش کرتے ہوئے جو کئی کلو گرام وزنی دستاویزات فاضل ارکان کی خدمت میں پیش کی گئیں وہ بھی کسی نے نہیں دیکھیں، بیشتر نے تو ان پلندوں کا ربن تک کھولنے کا تکلف نہ کیا، اب تصور کیا جا سکتا ہے کہ بغیر کسی تیاری، بغیر کسی ہوم ورک اور دستاویزات کو دیکھے، بلکہ سونگھے جو تقریریں ہوں گی اُن کا معیار تو پھر وہی ہو گا جس کا مشاہدہ ہو رہا ہے، حکومت کے خلاف گو، گو کا نعرہ لگانے میں چونکہ کوئی محنت نہیں لگتی، اِس لئے بجٹ کے متعلق کچھ کہنے کی بجائے ایسی نعرہ بازی پر گزارہ کیا جا سکتا ہے۔اپوزیشن ارکان کا تو فرض یہ ہے کہ وہ تیاری کر کے آئیں اور بجٹ کو بہتر بنانے کے لئے اپنا حصہ ڈالیں، شکوے کرتے رہنے کی بجائے اپنے حصے کی شمع جلانے پر توجہ دیں لیکن اس کام میں چونکہ کچھ اعداد و شمار جمع کرنے پڑتے ہیں، تھوڑا بہت مطالعہ کرنا پڑتا ہے، مغز ماری بھی ہوتی ہے اِس لئے ہمارے نمائندے سوچتے ہیں کون اِس مشقت میں پڑے، ویسے بھی سنجیدہ تقریروں کا ماحول اسمبلی میں کبھی کبھار ہی دیکھنے میں آتا ہے اسمبلی کے اندر جو تقریریں بھی ہوتی ہیں خبریں بنوانے کے لئے کی جاتی ہیں۔ بائیکاٹ اور واک آؤٹ کی خبر نمایاں ہو جاتی ہے، گو گو کے نعرے بھی میڈیا اور اخبارات میں زیادہ آسانی سے جگہ پا لیتے ہیں اس کے برعکس اگر کوئی رکن تیاری کر کے آئے، بجٹ کے محاسن اور معائب پر روشنی ڈالے، ایسی تجویزیں دیں جو بجٹ میں شامل کی جا سکیں، تو ایسی ’’بور‘‘ تقریر کو نہ ارکان سننا پسند کرتے ہیں اور نہ ہی میڈیا میں جگہ پاتی ہیں، اِس لئے جس جنس کی ڈیمانڈ ہی نہیں اس پر محنت کون کرے؟ اِس لئے ہر فاضل رُکن ہوا کے رُخ کے ساتھ بہتا چلا جاتا ہے۔

فاضل قائد حزبِ اختلاف نے ’’لائیو خطاب‘‘ کی جو شرط رکھی ہے، ہمیں اس سے کوئی اختلاف نہیں، وہ جو ارشادات روزانہ فرماتے ہیں بغیر کسی رکاوٹ یا ردوبدل کے لوگوں تک پہنچ جاتے ہیں وہ کون سی بات ہے جو وہ کہنا چاہتے ہوں اور اُس نے الیکٹرانک یا پرنٹ میڈیا میں جگہ نہ پائی ہو،جو انہوں نے کہا وہ میڈیا پر نشر ہو گیا، اور پرنٹ میڈیا میں چھپ بھی گیا اب بھی اسمبلی میں وہ جو کچھ فرمائیں گے اگر براہِ راست نشر نہ بھی ہو تب بھی اُن کی تقریر کے تھوڑی دیر بعد نیوز چینلوں پر جگہ پا جائے گا، ایسے میں اگر خورشید شاہ کی لائیو ٹیلی کاسٹ کی شرط بھی پوری کر دی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ ان کی جو شعلہ بیانیاں روزانہ اخبارات کی زینت بنتی ہیں، اس سے زیادہ انہوں نے اور کیا کہہ لینا ہے کہ لائیو ٹیلی کاسٹ سے پرہیز کیا جا رہا ہے؟ رانا تنویر حسین کا موقف یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کی حکومتوں میں کبھی قائد حزب اختلاف کو یہ سہولت نہیں دی گئی، اگرچہ رانا صاحب کی بات درست ہے تاہم اگر پیپلزپارٹی کی حکومتیں اپنے ادوار میں حزبِ اختلاف کو ایسی سہولت نہیں دے سکیں تو مسلم لیگ(ن) کی حکومت تو پہل کر سکتی ہے۔ اگر پیپلزپارٹی کے ادوارِ حکومت کے حوالے دےئے جائیں گے تو وہ زیادہ خوشگوار نہیں ہیں اسی اسمبلی سے اپنے وقت کے قائد حزب اختلاف اور بعض دوسرے ارکان کو سارجنٹ ایٹ آرمز کے ذریعے اٹھا کر باہر پھنکوا دیا گیا تھا تو کیا آئندہ کوئی حکومت اس بری مثال پر عمل کرنا چاہے گی؟ ہرگز نہیں، غیر جمہوری اور آمرانہ روایات کو بھول کر درخشاں روایات قائم کرنی چاہئیں، بلکہ اُن کا حوالہ بھی نہیں دینا چاہئے، کیونکہ اگر اُن ادوار کا حوالہ دیا جائے گا تو روشن جمہوری چہرہ سامنے نہیں آئے گا اور کسی نہ کسی کے جذبات کو ٹھیس بھی پہنچے گی۔

حکومت اور اپوزیشن دونوں کا فرض ہے کہ وہ درخشاں پارلیمانی روایات قائم کریں اور اُنہیں مستحکم بنائیں، کبھی کبھار شور شرابے اور احتجاج میں بھی کوئی ہرج نہیں،لیکن حزبِ اختلاف کو ہر وقت تتے توے پر نہیں بیٹھے رہنا چاہئے۔ فاضل ارکان کا فرض ہے کہ اُنہیں قومی خزانے سے جو مراعات ملتی ہیں اُن کے بدلے میں کچھ ڈلیور بھی کریں اور اپنی تقریروں میں شعلہ بیانی سے ہٹ کر تھوڑی سی سنجیدگی بھی شامل کر لیں جس میں قوم کا بھلا تجویز کیا گیا ہو۔ بحث مباحثے کا معیار بھی اگر بلند ہو جائے تو اس سے پارلیمینٹ کے وقار میں کمی نہیں اضافہ ہی ہو گا۔چیئرمین سینیٹ کو اکثر یہ شکایت رہتی ہے کہ وزراء سینیٹ میں نہیں آتے اس شکایت کا بھی ازالہ کر دینا چاہئے اور وزیراعظم ارکان کابینہ کو ہدایت کریں کہ وہ پارلیمینٹ کے دونوں ایوانوں کی کارکردگی بہتر بنانے کی طرف بھی توجہ دیں، پارلیمینٹ کے سنجیدہ ایوانوں کو ٹی وی ٹاک شو سمجھنا مناسب نہیں، ہر وقت ہاؤ ہو کا ماحول بنائے رکھنے سے ارکانِ پارلیمینٹ کی عزت میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا ہے۔

مزید :

اداریہ -