آٹھ ہزار لیپ ٹاپ کی خرابی کا ذمہ دار کون؟

آٹھ ہزار لیپ ٹاپ کی خرابی کا ذمہ دار کون؟

  

یہ خبر تشویش کا باعث ہے کہ ناقص حکمتِ عملی کے باعث15کروڑ روپے مالیت کے آٹھ ہزار لیپ ٹاپ ہائر ایجوکیشن کے سٹور میں پڑے پڑے خراب ہو گئے۔یہ لیپ ٹاپ ذہین اور محنتی طالب علموں میں تقسیم کرنے کے لئے2014ء میں رکھوائے گئے تھے،لیکن ان کے تقسیم کرنے کی نوبت ہی نہ آئی۔خبر کے مطابق حکومتی پالیسی وضع نہ ہونے کی وجہ سے گزشتہ دو سال کے دوران لیپ ٹاپ طالب علموں میں تقسیم ہی نہ کئے جا سکے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے سٹور میں پڑے ہوئے لیپ ٹاپ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (پی آئی ٹی بی) کو ’’ای روز گار سکیم‘‘ کے تحت لینے کی پیشکش کی۔جب پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے عملے نے لیپ ٹاپ چیک کئے تو پتا چلا کہ تمام لیپ ٹاپ آؤٹ آف ڈیٹ ہو چکے تھے، جبکہ3600 لیپ ٹاپ ایسے تھے، جن کی بیٹریاں استعمال نہ ہونے کی وجہ سے خراب ہو چکی ہیں۔ ہائر ایجوکیشن حکام نے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ سے لیپ ٹاپ مرمت کرنے کی درخواست کی تو بورڈ حکام نے بتایا کہ اُن کے پاس مرمت کے لئے کوئی فنڈز نہیں ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کے سٹور روم میں خراب ہو جانے والے آٹھ ہزار لیپ ٹاپس کی مالیت 15کروڑ بتائی گئی ہے اِس نقصان کا ذمے دار کون ہے یہ ابھی تک نہیں بتایا گیا۔اگر یہ لیپ ٹاپ خرید ہی لئے گئے تھے تو پھر تین سال تک حکومت کی طرف سے تقسیم کرنے کی پالیسی کو حتمی شکل کیوں نہ دی گئی؟ وزیراعلیٰ شہباز شریف کی طرف سے طالب علموں میں لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کا سلسلہ کئی سال سے جاری ہے۔خصوصاً پنجاب میں اس سکیم کے بڑے چرچے ہوتے رہے ہیں۔ اگر یہ لیپ ٹاپ تقسیم کر دیئے جاتے تو ہزاروں طالب علم مستفید ہو سکتے تھے جن حکام کی وجہ سے یہ نقصان ہُوا ہے، اُن کے خلاف کارروائی بھی ہونی چاہئے، جہاں تک ہائر ایجوکیشن اور پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی ذمے داریوں کا تعلق ہے، اُن کے بارے میں بھی وضاحت کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید :

اداریہ -