موسم کی سختی،لوڈشیڈنگ اور ہم!

موسم کی سختی،لوڈشیڈنگ اور ہم!
 موسم کی سختی،لوڈشیڈنگ اور ہم!

  

یہ اللہ کی مہربانی ہے کہ وہ اپنے بندوں کی تکلیف کا بھی احساس ہے اور انسان کے اپنے ہاتھوں سے کئے گئے الٹے کاموں کے باوجود خود ہی سہولت بھی بہم پہنچا دیتا ہے۔ دو چار روز سے سورج اپنا رنگ دکھا رہا اور پارہ بھی45سنٹی گریڈ کو چھونے لگا، زیادہ گرم علاقوں میں تو درجہ حرارت50 تک چلا گیا، قدرت کو ہی رحم آیا اور لوڈشیڈنگ کے اس دور میں مغربی ہواؤں کو ہدایت کر دی، جنہوں نے شمال مغرب کی طرف سے جنوب کا رُخ کیا اور تیز ہواؤں کے ساتھ بادل امڈ آئے، پھر بارش ہوئی، بلکہ اولے بھی پڑے اور شمال سے وسطی پنجاب تک آندھی بھی آئی، درجہ حرارت میں کمی ہوئی اور روزہ داروں نے سُکھ کا سانس لیا محکمہ موسمیات کے مطابق رمضان المبارک میں یہ چھیڑ چھاڑ جاری رہے گی، گرمی میں شدت آئے گی اور پھر ایسے ہی جھکڑ اور بارش تکلیف سے نجات دلائے گی۔ ہم نے انسان کے ہاتھوں انسان کی تکلیف کا ذکر کیا تو بات موسم ہی سے متعلق ہے، کہ خطے ہی میں نہیں، پوری دُنیا میں موسم تبدیل ہوئے ہیں اور اس کا سبب سائنس دانوں کے نزدیک ماحولیاتی آلودگی ہے جو انسانی ترقی کے باعث پیدا ہونے والی گیسوں کے باعث ہے اور اس سے اوزان کی تہہ میں سوراخ ہو گیا جو بتدریج بڑھنے کی طرف مائل ہے۔ اوزان اس چادر یا کور کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے سورج کی حدت کو محدود کرنے کے لئے خلا میں تان رکھا ہے۔ سورج کی حدت ایک طرح سے مقید ہے، لیکن انسانی خامی کی وجہ سے اس اوزان میں سوراخ ہوا اس سے زمین تک سورج کی حدت بڑھ چکی ہے اور اگر آلودگی(گیسوں) کو نابود نہ کیا گیا تو اس میں اضافہ ہو گا جو درجہ حرارت میں بھی بتدریج اضافے کا باعث بنے گا، اس کو روکنے ہی کے لئے آلودگی سے تحفظ کی بات کی جاتی ہے۔

اِس سلسلے میں اگر ہم اپنے مُلک کی بات کریں تو یہاں ہم سرکاری، نجی اور ذاتی طور پر فضائی آلودگی میں اضافے کا باعث بنتے ہیں، سرکاری طور پر خود سرکاری محکموں اور اداروں میں خیال نہیں رکھا جاتا اور دھوئیں سے آلودگی بڑھتی ہے، جبکہ نجی صنعتکار بچت کے لئے قانون کی خلاف ورزی کرتے اور ٹریٹمنٹ پلانٹ نہیں لگاتے، حتیٰ کہ یہاں تو ہسپتالوں کی باقیات (ویسٹ) بھی مناسب اور مروج طریقے سے ٹھکانے نہیں لگائی جائی، عام شہری شعوری غفلت کا ثبوت دیتے اور کوڑے کو آگ لگا دیتے ہیں ایسا ہر روز اور ہر علاقے میں ہوتا ہے۔ یہ تو آلودگی پھیلانے کی بات ہے تو یہاں اسے ختم اور کم کرنے کے دعوؤں کے باوجود کوئی کوشش ہی نہیں کی جاتی، صنعتوں کی آلودگی پر کوئی کارروائی نہیں اور ٹریٹمنٹ پلانٹ لگوانے پر زور نہیں دیا جاتا، بلکہ الٹا خود بھی کوئلے والے بجلی گھر لگا رہے ہیں، یہاں گزارش کریں کہ ترقی کے لئے بعض مشکلات برداشت کرنا پڑتی ہیں، لیکن یہ بھی تو درست نہیں کہ مشکلات میں اضافہ کیا جائے اور کسی کا سدِ باب نہ ہو، اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ایک دوست کے اندازے کے مطابق صرف لاہور اور گردونواح میں ٹریفک کی سہولت کے لئے پل، فلائی اوور، میٹرو بس، میٹرو ٹرین اور سڑکوں کی توسیع کی گئی۔

یہ صاحب کہتے ہیں کہ اس زد میں قریباً ایک کروڑ درخت آئے (دروغ برگردن راوی) جو کاٹے گئے اور عدالت عالیہ کے ساتھ کئے گئے وعدے کے باوجود اتنی تعداد میں نئے درخت نہیں لگائے گئے، بلکہ حالیہ سیزن میں تو شجر کاری بھی مناسب طور پر نہیں کی گئی، اس کی مثال مصطفےٰ ٹاؤن وحدت روڈ بھی ہے، جس کی مرکزی گرین بیلٹ سے پارکوں تک میں ایک بھی پودا نہیں لگایا گیا، الٹا پہلے سے موجود درختوں کی بڑی بڑی شاخیں کاٹ کر سایہ کم کیا گیا ہے۔ یہی صورتِ حال مجموعی ہے اور پورے ملک میں شجرکاری مہم مناسب طور پر عمل پذیر نہیں ہوئی۔اس سلسلے میں یہ عرض کر دیں کہ40سے45 سنٹی گریڈ تک درجہ حرارت پنجاب میں معمول کی بات ہے،لیکن اتنی شدت محسوس نہیں ہوتی تھی جتنی اب ہے کہ ماضی میں مکانات کی چھتیں اونچی(14سے16فٹ) ہوتی تھیں، اندرون شہر کے مکانات ہوا دار اور چھوٹی اینٹ کے تھے جبکہ یہ لاہور درختوں سے مالا مال تھا، تجربہ کرنا ہو تواب بھی دیہات میں چلے جائیں جہاں آپ کو قدیمی اور روائتی بڑ(بوڑھ) کا کوئی درخت ضرور مل جائے گا اس کی چھاؤں میں 45 سے47ڈگری والا موسم بھی تکلیف نہیں دیتا، افسوس اب تو دیہات میں بھی درخت نہیں رہے، اس کے علاوہ ہم موسم کے لحاظ سے روایتی شجر کاری ختم کر کے جدید پودے لا کر درخت بناچکے جو بارہ ماہ سرسبز تو رہتے ہیں،لیکن سورج کی شدت سے تحفظ نہیں دے پاتے۔

اب ان حالات میں اگر بجلی بھی نہ ملے تو حالات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اے سی تو چھوڑیں،پنکھے کی سہولت نہیں رہتی اور گرمی سے برا حال ہو جاتا ہے، اب رمضان المبارک کا مقدس مہینہ ہے،روزہ دار یوں بھی نازک مزاج ہو جاتے ہیں،لیکن گرمی کی شدت اور بجلی کمپنیوں کی طرف سے بجلی کی بندش تو حقیقتاً برا حال کر دیتی ہے جو کر رہی ہے، اس سلسلے میں کوتاہی اور محکموں کی غلط بیانی کا بھی اندازہ لگانا ہو گا۔ حکومت کی طرف سے اعداد و شمار سامنے ہونے کے باوجود سیاسی نعرہ لگا دیا جاتا اور فرمان جاری ہوتا ہے کہ سحر اور افطار کے وقت لوڈشیڈنگ نہیں ہو گی، لیکن یہ زمینی حقائق سے روگردانی ہے، حکومت خود کہتی ہے کہ رسد اور مانگ (سپلائی اور ڈیمانڈ) میں پانچ ہزار میگاواٹ سے زیادہ کا فرق ہے اب آپ خود اندازہ لگائیں کہ جب فرق اتنا زیادہ ہے تو پورے مُلک میں بیک وقت (سحر+افطار) بجلی کیسے مہیا کی جا سکتی ہے کہ شارٹ فال پانچ ہزار میگاواٹ سے زیادہ ہے، پھر محکمہ بجلی ہی کی طرف سے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ95فیصد شہری علاقوں میں سحری اور افطار کے وقت لوڈشیڈنگ نہیں کی جا رہی۔ بہم رسانی میں پانچ ہزار میگاواٹ سے زیادہ فرق ہونے کے باعث یہ کیسے ممکن ہے؟ اس کا حل یہ نکالا ہے کہ دیہات برقی رو سے محروم کر دیئے جاتے ہیں جہاں بارہ بارہ گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے یا پھر مرمت اور تکنیکی خرابی کے ’’باعث‘‘ کئی گرڈ بند کر دیئے جاتے ہیں اور اب تو حالات یہ ہیں کہ تیز ہوا، جھکڑ اور آندھی بھی شروع ہوتے ہی خود گرڈ بند کر دیئے جاتے ہیں کہ آندھی سے تاریں آپس میں ٹکرا کر بڑا حادثہ نہ کریں کہ تاریں ڈھیلی اور لٹکی ہوئی ہیں۔ یوں بھی یہ تانبے کی نہیں، سلور کی ہیں جو تیز کسنے سے بھی ٹوٹ جاتی ہیں۔ حکومت اور محکمے کو خود احساس کرنا چاہئے، عوام کو دلاسہ ہی نہیں دینا چاہئے اور واضح طور پر صورتِ حال سے آگاہ رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے اور ایسا کریں ورنہ مظاہرے تو جائز ہیں آپ خود بھی تسلیم کرتے ہیں، حقائق سے آگاہ کریں۔

مزید :

کالم -