پاکستان جیسے غریب ملک میں سالانہ 365 ارب روپے سگریٹ نوشی پر اڑا دیئے جاتے ہیں: فیصل آبادچیمبر

پاکستان جیسے غریب ملک میں سالانہ 365 ارب روپے سگریٹ نوشی پر اڑا دیئے جاتے ہیں: ...

  

فیصل آباد (بیورورپورٹ) تمباکو نوشی کے خاتمے کیلئے حکومت اور معاشرے کو ایسے مثبت اقدامات اٹھانے ہونگے جن کی وجہ سے حقیقی معنوں میں تمباکو نوشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کا خاتمہ کیا جا سکے۔ یہ بات فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی قائمہ کمیٹی برائے انسداد تمباکو نوشی کے چیئرمین ڈاکٹر جعفر حسن مبارک نے تمباکو نوشی کے خاتمہ کے عالمی دن کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ انتہائی محتاط اندازوں کے مطابق پاکستان میں تمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد 1 کروڑہے۔ ان میں سے ہر شخص روزانہ کم از کم ایک سو روپیہ سگریٹوں پر ضائع کرتا ہے ۔ اس طرح پاکستان جیسے غریب ملک میں سالانہ 365 ارب روپے سگریٹ نوشی پر اڑا دیئے جاتے ہیں جو پاکستان کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ فیصل آباد میں سگریٹ نوشی کے رجحان کے خاتمے کیلئے تعلیمی اداروں میں سگریٹ نوشی ترک کریں اور پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط بنانے کے عنوان سے ایک مہم شروع کی گئی ہے جس کے دوران تعلیمی اداروں میں بڑے پیمانے پر لیکچر دیئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ موسم گرما کی تعطیلات کی وجہ سے یہ سلسلہ وقتی طور پر معطل ہے تاہم تعلیمی ادارے کھلتے ہی لیکچر دینے کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا جائیگا۔ ڈاکٹر جعفر مبارک نے کہا کہ حالیہ وفاقی بجٹ میں سگریٹوں کی فروخت پر ڈیوٹی کو مزید بڑھانے کا فیصلہ اگرچہ حوصلہ افزاء ہے لیکن عملی طور پر ایسے اقدامات سے سگریٹ نوشی میں کمی نہیں ہوئی۔ اس لئے ضروری ہے کہ سگریٹوں کی فروخت پر مزید ٹیکس لگانے کے ساتھ ساتھ ایسے اقدامات اٹھائے جائیں جن کے نتیجے میں حقیقی معنوں میں سگریٹ نوشی کی حوصلہ شکنی ہوسکے۔

مزید :

کامرس -