حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں اپنی معالج کے مشورے سے روزہ رکھ سکتی ہیں

حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں اپنی معالج کے مشورے سے روزہ رکھ سکتی ...

  

زلیخا اویس

اسلام مکمل نظام حیات ہے اس کی تعلیمات قیامت تک انسانوں کیلئے مشعل راہ ہی رہیں گی۔ اسلام دنیا کا وہ واحد مذہب ہے جس میں جنس کی کوئی تفریق نہیں ہے۔ اللہ تعالی مرد و خواتین کیلئے ان کے حقوق و فرائض متعین کردےئے ہیں۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں ایک بار پھر رمضان کی برکتیں اور رحمتیں سمیٹنے کی اللہ نے توفیق دی ہے۔مضان کا چاند دیکھنے کے ساتھ ہی خواتین کی سرگرمیوں اور ان پر کام کا بوجھ بڑھ جاتا ہے۔ اس ماہ میں گھر کے جملہ امور سے نمٹنا دل گردے کی بات ہے مگر پھر بھی خاتون خانہ اس سے خوشگوار انداز سے نمٹ لیتی ہے۔ روزے کی حالت میں گھر کے جملہ ارکان کی پسند کو مد نظر رکھتے ہوئے پکوان کرنا بھی خاتون کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے۔

حاملہ خواتین روزے رکھیں:۔عام طور پر یہ سوچا جاتا ہے کہ حاملہ خواتین کو روزہ نہیں رکھنا چاہئے کیونکہ اس طرح ان میں توانائی کی کمی ہو جانا یقینی بات ہے۔لیکن ڈاکٹرز کے مطابق دودھ پلانے والی مائیں اور حاملہ خواتین بھی روزے جیسی نعمت کا فائدہ اٹھاسکتی ہیں بشرطیکہ ادویات کا استعمال باقاعدگی سے جاری رکھا جائے۔

حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں کے لئے غذا کا خاص خیال رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔رمضان المبار ک کے مہینے میں شیر خوار بچوں کی ماؤں اور حاملہ خواتین کو روزہ رکھنے سے منع کیا جاتا ہے،کیونکہ روزہ رکھنے سے دن بھر جسم کو وہ خوراک نہیں مل پاتی جس کی ایک حاملہ اور دودھ پلانے والی ماں کو ضرورت ہوتی ہے،ڈاکٹر ثوبیہ سرور جو کہ ایک گائیناکولوجسٹ ہیں کہتی ہیں کہ حاملہ خواتین کاحمل کے شروع کے اور آخری مہینوں میں روزہ نہ رکھنا ان کی اور ان کے بچے کی صحت کے لئے بہتر ہوتا ہے،

ڈاکٹر ثوبیہ سرور کے مطابق شیر خوار بچے اپنی قدرتی غذا کے لئے اپنی ماؤں کے محتاج ہوتے ہیں،لیکن 4 مہینے سے بڑی عمر کے بچے چونکہ ماں کے دودھ کے علاوہ ٹھوس غذ ا بھی لینا شروع کر دیتے ہیں لہٰذہ ایسے بچوں کی مائیں روزہ رکھ سکتی ہیں،

رمضان المبارک کا مقدس مہینہ سال میں ایک ہی بار نصیب ہوتا ہے ،ایسے میں ہر مسلمان رمضان المبارک کے روزے رکھنے میں پیش پیش ہوتا ہے اور بلا عذر روزہ نہیں چھوڑتا،بعض حاملہ اور شیر خوار بچوں کی مائیں بھی اپنے روزہ کی مکمل پابندی کرتی ہیں اور اس معاملے میں اپنی صحت کا بھی خاص خیال نہیں رکھتیں،ایسی خواتین جو روزہ کسی صورت میں چھوڑنا نہیں چاہتیں ،ان کو مشورہ دیتے ہوئے ڈاکٹر ثوبیہ سرور کہتی ہیں،

اس ماہ عظیم میں دودھ پلانے والی مائیں اکثر یہ سوچتی رہتی ہیں کہ کیا کیا جائے‘روزے رکھے جائیں یا چھوڑ کر لخت جگر کو دودھ پلایا جائے۔ روزہ اور بچہ کو دودھ پلانا دو ایسے مسائل ہیں جن سے ہر ماں پریشان رہتی ہے وہ یہ فیصلہ کرنے سے قاصر رہتی ہے کہ کونسا قدم اٹھایا جائے۔ اسلام ‘ایسی ماؤں کو جو کہ بچوں کو دودھ پلاتی ہیں‘ روزہ نہ رکھنے کی اجازت دیتا ہے مگر ماؤں کی ایک بہت بڑی تعداد روزہ رکھنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ اگر مائیں روزہ رکھیں تو وہ جسمانی طور پر کمزور ہوجائیں گی جس سے ان کی چھاتی میں دودھ نہیں بن پائے گا جب دودھ ہی نہ آئے تو شیر خوار کیا پےئے گا۔ اگر شیر خوار کو مناسب مقدار میں ماں کا دودھ نہ ملے تو اس کی صحت بگڑنے کا قوی امکان رہتا ہے۔ اگر روزہ نہ رکھیں تو ترک صوم کا ملال رہے گا۔ یہ ایک اہم مسئلہ ہے جس سے بچہ کو دودھ پلانے والی ہر ماں پریشان کن رہتی ہے۔ ایسی ماؤں کو چاہئے کہ روزہ رکھنے سے قبل اپنے مسلم معالج اور مستند عالم دین سے ربط پیدا کریں۔ عالمہ ہے تو آپ کھل کر بات کرسکتی ہیں۔ دونوں کی آراء کو سامنے رکھتے ہوئے آپ کوئی فیصلہ کریں۔ شریعت نے دودھ پلانے والی ماؤں کو رمضان کے روزے نہ رکھنے کی اجازت دی ہے اور ان کیلئے دیگر ایام میں روزوں کا اہتمام کرنا لازمی قرار دیا ہے۔ خواتین سے التماس ہے کہ روزہ رکھنے کا فیصلہ کرنے سے قبل اپنے شیر خوار کی عمر کو بھی مد نظر رکھیں۔ بچہ ایک سال یا اس سے کچھ بڑی عمر کا ہے یا بچہ صرف ماں کے دودھ کے سوا کچھ نہیں پیتا ‘کھاتا ہے اگر ماں کا دودھ نہ ملے تو اس کی صحت بگڑنے کا خطرہ رہتا ہے تو ایسے بچوں کی مائیں روزہ نہ رکھیں یا ڈاکٹر نے یہ رپورٹ دی ہے کہ آپ کے روزے رکھنے سے بچہ کی صحت متاثر ہوسکتی ہے تو پھر ترک صوم ہی بہترین راستہ رہے گا۔ اگر ڈاکٹر یہ رپورٹ دے کہ ماں کے روزہ رکھنے سے بچہ کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا تو آپ بصد شوق روزہ رکھ سکتی ہیں۔ ماں کے روزہ رکھنے سے بچہ کو دودھ نہ ملنے سے اس کی صحت بگڑنے کا امکان ہو تو مناسب یہی ہے کہ ماں روزہ نہ رکھے۔ اس سال ماہ صیام کا آغاز گرمیوں کے آخری ایام میں ہوا ہے اس لئے روزہ کم و بیش 15 گھنٹہ کا ہورہا ہے۔ اس طویل وقفہ میں کچھ پئے اور کھائے بغیر بچہ کو دودھ پلانا شائد ممکن نہیں ہے۔ روزہ کی حالت میں جسم میں پانی کی کمی ہوتی ہے۔ توانائی کے ذرائع کم سے کم ہوجاتے ہیں۔ کمزوری بڑھ جاتی ہے ان حالات میں بچہ کو دودھ نہیں مل پائے گا۔ اگربچہ صرف ماں کے دودھ پر منحصر ہے تو پھر صورتحال سنگین ہوسکتی ہے۔ روزہ کی حالت میں کمزوری کا پیدا ہونا یقینی ہے۔ ہاں! اگرآپ چاہیں تو تجرباتی اساس پر ایک دو دن روزہ رکھ لیں اس دوران آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ آپ کے جسم میں کمزوری کتنی ہوگی اور دودھ بچہ کیلئے کافی ہوگایا نہیں۔ اگر روزہ کی حالت میں دودھ نہ آئے اور آپ کو کمزوری و نقاہت محسوس ہو تو پھر آئندہ روزہ نہ رکھیں بلکہ اپنے بچہ کو دودھ پلاتی رہیں۔ اگر آپ کے بچہ کی عمر دو سال سے زائد ہے یا اس سے ایک سال کا چھوٹا ہے اور ڈبہ بند دودھ پینے کا عادی ہے تو آپ شوق اور احتساب کے ساتھ رمضان کے روزہ رکھ سکتی ہیں۔ بچوں کو دودھ پلانے والی مائیں اللہ کی جانب سے دی گئی سہولتوں سے مکمل استفادہ کریں اور روزوں کو دیگر ایام میں مکمل کرلیں۔ یہ بات سچ ہے کہ سال بھر کے روزے ‘رمضان کے ایک روزے کے برابر نہیں ہیں مگر شرعی عذر بھی ہے کہ رمضان کے ایک ماہ کے روزے رکھنے سے بچہ کو دودھ نہیں آئے گا۔ کمزوری بڑھ جائے گی ان تمام کا اثر بچہ کی صحت پر پڑے گا۔ عقل مندی کا تقاضہ ہے کہ دودھ پلانے والی مائیں روزہ نہ رکھیں بلکہ ان روزوں کی تعداد کو دیگر دنوں میں پورا کرلیں۔

دوران حمل خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں کو کیا کھانا چاہئے اور کیا نہیں، اس بارے میں ڈاکٹر ثوبیہ سرور کاکہنا ہے حمل کے دوران صحت بخش غذا کھانا اور لگاتار جسمانی ورزش کرنا آپ اور آپ کے نشوونما پانے والے بچے کے لیے اہم ہے۔ اس سے صحت مند طور پر آپ کا وزن بڑھتا ہے، آپ کے بچے کی افزائش میں مدد ملتی ہے، صحت مند وزن والا بچہ ملتا ہے اور آپ کی بلڈ شوگر کنٹرول میں آتی ہے۔ انواع و اقسام کی غذا کھا کر، آپ کو ایسی مغذیات ملتی ہیں جن سے آپ کے بچے کی نشوونما کو تقویت ملتی ہے اور آپ زندگی سے بھرپور رہتی ہیں۔ آپ کو باضابطہ طور پر کھانا چاہیے۔ کھانا چھوڑنے سے بچنا چاہیے۔دوران حمل سمندری خوراک اور مختلف اقسام کی مچھلیاں کھانے میں احتیاط برتنی چاہیے۔ایک تو زیادہ نہ کھائیں۔دوسرا جو مچھلی کھائیں وہ اچھی طرح پکی ہونی چاہیے۔ اسی طرح مرغی یا بڑا گوشت بھی اچھی طرح پکا ا ہو کھایا جائے۔تکوں وغیرہ سے پر ہیز ضروری ہے۔اسی طرح انڈہ بھی پورا پکا ہواکھائیں۔ہاف فرائی سے بچا جائے۔ دوران حمل خواتین کو تھکاوٹ زیادہ ہو سکتی ہے،اس لئے کافی پینے میں بھی احتیاط کی جائے۔ایک دن میں دو سے زیادہ کافی کے کپ پینے سے بچا جائے۔بغیر ابلا ہوا دودھ سمیت تمام غیر صاف شدہ جوس بھی آ پ کے لیے اچھا نہیں ہے کیونکہ اس میں بیکٹیریا موجود ہوتا ہے جو ایک قسم کے جراثیم ہے۔ اس لئے ابلے ہوے دودھ کا استعمال کریں۔شراب تو ویسے ہی نہیں پینی چاہیے۔لیکن دورا ن حمل اسے پینا تو پیٹ کے اندر موجود بچے کے لیے زہر ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے بچے کے اعضاء خصوصاً دماغ پر انتہائی مضر اثرات مر تب ہو سکتے ہیں ماہرین نے حاملہ خواتین کو مشورہ دیاہے کہ وہ بعد کے پچھتانے سے بہتر ہے پہلے ہی اپنی خوراک میں احتیاط کریں۔ زیاد ہ قوت بخش ادویات سے بھی پر ہیز کا مشورہ دیا گیا ہے

دودھ پلانے والی مائیں اناج میں چاول، پاستہ یا روٹی استعمال کریں۔اس سے آپ کو توانائی نیز وٹامین بی گروپ ملتے ہیں۔ سالم اناج والی غذائیں وٹامین اور غذائی نشاستہ سے بھرپور ہوتی ہیں جو آپ کو قبض سے بچاتا ہے۔ سالم اناج کی مصنوعات منتخب کریں، جیسے خالص چاول یا میدے روٹی کی جگہ بھورا چاول، سالم گیہوں کی روٹی یا جو۔

ترکاریاں اور پھل: ترکاریاں اور پھل وٹامین اور معدنیات کے اچھے ذرائع ہیں۔ پتی دار ترکاریوں میں بھرپور مقدار میں فولک ایسڈ پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے جنین عصبی نلی کی خرابی (دماغ اور ریڑھ کی ایک قسم کی پیدائشی خلاف معمول حالت) سے متاثر ہونے سے محفوظ رہتا ہے۔ نارنجی اور کیوی جیسے پھلوں میں موجود وٹامین سی آئرن جذب کرنے میں آپ کے جسم کی مدد کرتی ہے۔ رنگین ترکاریوں اور پھلوں میں بھرپور کروٹین پائی جاتی ہے جو مناسب وٹامین اے حاصل کرنے میں آپ کی مدد کرتی ہے، جیسے کدو، ٹماٹر، اور تمام گہرے ہرے رنگ کی ترکاریاں۔

گوشت، مچھلی، انڈے اور متبادل ۔ ان میں اکثر انڈے، پھلی، ٹوفو، اخروٹ اور بیج شامل ہوتے ہیں۔ پروٹین، آئرن اور وٹامین بی 12 حاصل کرنے کے لیے اپنی غذا میں بغیر چربی کے گوشت اور مرغی نیز متعدد گوشت کا انتخاب کریں۔ مرغن مچھلی، جیسے سالمن، بحر الکاہل کی ساوری، یا سارڈین اومیگا۔ 3 ۔چربیلا تیزاب سے بھرپور ذریعہ ہیں، جیسے ڈی ایچ اے جو دماغ کو ترقی دینے کے لیے اہم ہیں۔

دودھ اور اس کے متبادل ۔ کم چکنائی والا دودھ، دہی، یا پنیر اور کیلشیم کا دیگر غیر دودھ والا ذریعہ منتخب کریں، جیسے کیلشیم کے ساتھ شامل کردہ سویا دودھ، ٹوفو، ڈبہ بند سارڈین، یا گہرے ہرے رنگ کی ترکاریاں۔پکانے کے لیے سبزی کا تیل استعمال کریں کم نمک استعمال کریں اور روزانہ بس 5 گرام یا 1 چمچہ نمک ہی استعمال کریں۔وافر مقدار میں پانی پئیں۔چینی ملی ہوئی غذا اور ٹھوس چربی، جیسے تلی ہوئی غذا، پانی ملا کر تیار کردہ نوڈلز، آئس کریم، کینڈی، بسکٹ، فواکہ، سافٹ ڈرنک یا سوڈا، اور پھل کی مشروبات میں سے کم ہی منتخب کریں۔ ان غذاؤں میں کیلوری زیادہ اور مغذیات کم پائی جاتی ہیں۔

روزہ ایک بدنی عبادت ہے،روزے کو جسم کی زکوۃٰ بھی کہا جاتا ہے،لیکن یہ عبادت اس وقت ہی صحیح طور پر ادا ہو سکتی ہے جب جسم مکمل صحت مند ہو،حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں کو اسلامی احکامات کے لحاظ روزہ نہ رکھنے کی رخصت حاصل ہے ،اور جتنے دن کے روزے چھوٹ جائیں ان کا حساب بعد کے دنوں میں پورا کر لیا جائے ،اور اس حوالے سے خواتین پر کسی قسم کا گناہ بھی نہیں،اس لئے خواتین اپنی اور اپنے بچے کی صحت کے لئے کسی بھی مستند عالم دین اور گائناکولوجسٹ سے مشورہ کرکے روزے رکھنے یا نہ رکھنے کے حوالے سے رہنمائی حاصل کر سکتی ہیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -