تعطیلات میں بچوں کی تربیت

تعطیلات میں بچوں کی تربیت

  

ڈاکٹر بشریٰ تسنیم

آج کے عدیم الفرصت دور میں اگر خوش قسمتی سے فرصت کے کچھ لمحات میسر آ جائیں اور اہلِ خانہ مل جل کر کچھ وقت گزار سکیں تو بلاشبہ یہ اللہ تعالیٰ کی کسی نعمت سے کم نہیں۔

لہٰذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے مطابق فرصت کو غنیمت جانتے ہوئے کے ان لمحات کو بہترین انداز میں صرف کرنا چاہیے۔ بالخصوص انفرادی اصلاح،گھر کے ماحول کی بہتری، بچوں کی تربیت اور کردار سازی کے لیے باقاعدہ منصوبہ بنا کرایک مربوط پروگرام ترتیب دینا چاہیے۔

ہمارا حال یہ ہے کہ ہم فرصت کے لمحات کی صحیح معنوں میں قدر نہیں کرتے۔ ملک کے بعض حصوں میں ہر سال گرمیوں کی اور بعض علاقوں میں سردیوں کی طویل چھٹیاں آتی ہیں۔ ان کی آمد جہاں طالب علموں، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے کارکنان کے لیے باعثِ مسرت ہوتی ہے، وہاں گھر کی خواتین کی ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہو جاتاہے اور وہ اس قیمتی وقت کو کما حقہ استعمال نہیں کر سکتیں اور نہ ان دنوں ہی سے فیض یاب ہو پاتی ہیں۔ چھوٹے بچوں کی مائیں اور خصوصاً لڑکوں کے والدین ذہنی دباؤ کا شکار رہتے ہیں۔ اس ضمن میں چند عملی نکات پیش خدمت ہیں:

پہلا مرحلہ شب و روز کے لیے نظام الاوقات کا تعین ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے پیش نظر کہ صبح کے وقت میں برکت ہے، اپنے دن کا آغاز نمازِ فجر سے کیجیے۔ نمازِ فجر کے بعد ہی سے دن بھر کی سرگرمیوں کا آغاز کیجیے۔ یہ بہترین اور بابرکت وقت سونے کی نذرنہ کریں۔ عام طور پر تعطیلات کاآغاز ہوتے ہی بچوں کا رات کے وقت جاگنے اور صبح دیر سے اٹھنے کا معمول بن جاتا ہے جوکہ نامناسب اور خلافِ فطرت ہے۔ اس میں میڈیا کا کردار بھی نمایاں ہے کہ لوگ رات گئے اسے دیکھنے میں مصروف رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے رات آرام و سکون کے لیے اور دن کام کے لیے بنایا ہے، اس کے لیے والدین خود عملی نمونہ پیش کریں۔

بچوں کی عمر، تعلیم، مصروفیات کو مد نظر رکھ کربچوں سے مشاورت کر کے سونے کے اوقات کا تعین کر لیاجائے اور اس پہ کاربند بھی رہا جائے۔رشتہ دار بہنوں بھائیوں کے سامنے اس بات کا اظہار نہ کریں کہ ‘‘لمبی چھٹیاں ہو گئی ہیں، اب تو ہر وقت بچے سر پہ سوار رہیں گے۔’’ اگر اپنے بچوں کا استقبال ان جملوں سے کریں گی تو آپ کے اور بچوں کے درمیان پہلے دن ہی دْوری پیدا ہو جائے گی۔ اور وہ وقت جو آپ کے حسنِ استقبال سے بچوں کے دلوں میں بہار لا سکتا تھا ضائع ہو جائے گا۔بچوں کے ساتھ مل کر ہر ہفتے کا پروگرام ترتیب دیجیے۔ان کے ذہن اور دلچسپیوں کے مطابق ذمہ داریاں بانٹ دیجیے۔

فجر کی نماز کے لیے اْٹھنے پہ انعام دیا جا سکتا ہے۔ ایک بھائی یا بہن کی فجر کے وقت اٹھانے کی ذمہ داری لگائیے اور پھر اس کو تبدیل کرتے رہیے تاکہ سب کو ذمہ داری کا احساس ہو،اور ایک دوسرے کے درمیان مروت اور نیکی میں تعاون کا جذبہ پیدا ہو۔ اجتماعی مطالعے کی ایک مختصر نشست بھی ہوسکتی ہے جس میں چند آیات کی مختصر تفسیر، ایک حدیث کا مطالعہ یا اسلامی لٹریچر سے کچھ انتخاب کیا جاسکتا ہے۔ عملی رہنمائی کے طور پر روز مرہ کی دعائیں، نماز اور اس کاترجمہ، مختصر سورتیں وغیرہ تھوڑی تھوڑی کر کے یاد کرائی جائیں۔ گھر کے افراد کے ساتھ ‘آج کے ایجنڈے’ پہ بات ہو۔ سب اپنی اہم مصروفیات کے بارے میں دوسروں کو آگاہ کریں۔ اپنے کام کے سلسلے میں ایک دوسرے سے مشورہ طلب کریں اور تعاون کی پیشکش کریں۔گزشتہ کل کا جائزہ بھی لیا جائے کہ اپنے آج کو گزشتہ کل سے کیسے بہتر بنایا جائے۔ اس طرح اپنا جائزہ و احتساب اور مشورہ دینے اور قبول کرنے کی تربیت بھی ہو گی۔ اگر چندمنٹ بھی مل کر بیٹھیں گے تو اس کی برکت کے اثرات بہت جلد محسوس ہونے لگیں گے۔

نمازِفجر ادا کر کے جلد از جلد سونے کی غیر فطری روایت نے انسانی روح کا حسن غارت کر دیاہے۔ نماز فجر کے بعد سونا ناگزیر ہو تو بھی دوبارہ اٹھنے کا وقت مقرر کر دیا جائے۔

چھٹیوں میں سب اہلِ خانہ ناشتہ اور دونوں وقت کا کھانا ایک ساتھ کھائیں تو باہمی محبت میں اضافہ ہو گا۔ بچوں اور بچیوں کو جس قدر ہو سکے اپنے قریب رکھیے۔ کمپیوٹر ایسی جگہ پررکھیے جہاں آپ اس پہ نظر رکھ سکیں۔ اگر آپ کو کمپیوٹر سے کوئی لگاؤ نہیں تو اس کی تھوڑی بہت مشق آپ کو کرنی چاہیے۔ جب چھوٹے بچوں میں یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم اپنے والدین سے زیادہ کچھ جانتے ہیں تو ایک احساس برتری پیدا ہوتا ہے۔ دوسرا اکثر بچے اپنی ماؤں کواندھیرے میں رکھتے ہیں کہ ہم کام کر رہے ہیں، حالانکہ وہ جو کچھ کر رہے ہوتے ہیں مائیں ان سے غافل ہوتی ہیں۔ کمپیوٹر نے اس دور کے ماں باپ کو سخت امتحان میں مبتلا کر دیاہے۔ اکثر ماں باپ نے اس آزمائش و امتحان میں کامیاب نہ ہو سکنے کا اعلان کر کے، جیسے خود کو بری الذمہ قرار دے لیا ہے مگر احساسِ مروت کو کچلنے والے آلات کا مقابلہ خلوصِ نیت، مستحکم ارادے، سچے ایمان اور مناجات کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔

فرصت کے لمحات کو محض ٹیلی ویڑن اور کمپیوٹر کی نذر نہ ہونے دیں۔ بچوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے ان کو متبادل مصروفیات اور مشاغل دیں۔ بچوں کو ان کی عمر اور ذوق کے لحاظ سے کوئی نیا کام سکھانے کی کوشش کیجیے۔ کاغذ کے کھلونے بنانا، کاغذ پہ تصویر بنانا، رنگ بھرنا، سلائی کرنا، کسی ڈیکوریشن پیس کو صاف کرنا، والد لڑکوں کو ساتھ ملا کر گھر کی مرمت طلب اشیاء کو ٹھیک کر سکتے ہیں کہ مل جل کر گھر کے بگڑے کام سنوارنا بھی ایک فن ہے۔ آپ کو یہ کامیابی اسی صورت میں ملے گی، جب آپ اپنی پوری توجہ، وقت اور معاونت بچے کو مہیا کریں گی۔

سکول کے ہوم ورک کی مرحلہ وار تقسیم کر کے اپنی نگرانی میں روزانہ تھوڑا تھوڑا کر کے کام کروائیے۔ ٹیوشن پڑھوانا مجبوری ہو تو بچے کے معاملات پر نظر رکھیں۔

گھر میں لان یا کیاری کی جگہ ہو تو بچے کو کوئی پودا اْگانے اور اس کی نگہداشت کرنا سکھائیے۔ بچوں کی ضروریات ہی پورا کرنا کافی نہیں ہے بلکہ انھیں وقت اور توجہ کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔ اپنی مصروفیات میں سے اس کے لیے بھی وقت رکھیں۔ یہ بچوں کا حق ہے جو انھیں ملنا چاہیے۔ والدین کی شفقت سے محرومی کے نتیجے میں بچے احساسِ محرومی کا شکار ہوتے ہیں۔ یہی جذبہ منفی رْخ اختیار کر لے توبچے غلط صحبت اختیار کر لیتے ہیں اور انتقامی جذبہ سر اٹھا لیتا ہے۔

بچوں کے دوستوں کو گھر بلوائیے اور ان کی عزت کیجیے،ان کو توجہ دیجیے تا کہ وہ آپ پہ اعتماد کریں۔ بچوں کے دوستوں کے گھر والوں سے بھی تعلقات بہتر رکھیے۔ اگر آپ کے خیال میں ان کے گھر کے ماحول سے آپ مطمئن نہیں تو بچے کو بر ملا نہ کہیں۔ حکمت و تدبر سے کام لیجیے تاکہ آپ کے اور بچے کے درمیان اعتمادکے رشتے کو ٹھیس نہ پہنچے۔

بچوں میں ذوق مطالعہ کو پروان چڑھانا، اس کی تسکین کا سامان کرنا ایک اہم فریضہ ہے۔ اچھی اچھی کتب و رسائل پڑھنے کو فراہم کریں۔ بچوں کو کہانی سننا اچھا لگتا ہے۔ دلچسپ انداز میں کہانی سنائیے، بچوں کے ساتھ بیٹھ کر کہانی پڑھیے اور پھر اس پر بات چیت ہو۔ ذوقِ مطالعہ بڑھانے میں یہ مدد گار ہو سکتا ہے۔ کسی اچھی لائبریری کا تعارف کروائیے اور معیاری کتب منتخب کر کے دیں۔ اس طرح اسلامی لٹریچراور علم کی ایک وسیع دنیا تک ان کی رسائی ہو جائے گی۔

گھر کی ذمہ داریوں کو بچوں میں تقسیم کر کے ان کی صلاحیتوں کا امتحان لیا جا سکتا ہے، مثلاً: نو عمربچوں کے ساتھ کبھی یہ تجربہ کر کے دیکھا جائے کہ ایک دن والدین گھر میں اپنی ذمہ داریاں اپنی جگہ اپنے بچوں کوسونپ کر خود بچے بن جائیں۔

نو عمربچوں کو جج بنا کر گھر میں چھوٹے موٹے خاکے، کھیل کے طور پر پیش کیے جائیں تا کہ ان کو انصاف کرنے، فیصلہ کرنے کی تربیت دی جا سکے۔ بچوں کی لڑائی میں صلح کرانا، ان کی شرارتوں، نادانیوں کی اصلاح کرانے کے لیے ان سے تعاون لیا جا سکتا ہے۔ جب نو عمربچوں سے ذمہ دار اور قابلِ اعتماد ہستی کے طور پر برتاؤ کیا جا تا ہے تو ان کی خوابیدہ صلاحیتیں بیدار ہوتی ہیں۔

نو عمر بچوں کو احساس دلانا کہ وہ گھر میں اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کے لیے ‘راعی’ ہیں، لہٰذا شفقت و محبت اور تحمل و برداشت سے ان کی بہتری کے لیے کوشاں رہیں۔ والدین کی نگرانی اور توجہ سے تربیت کا یہ عمل اگر آگے بڑھتا رہے تو ایک اہم پیش رفت ہو گی۔

کبھی کبھاربچوں کے ساتھ ان کی ذہنی سطح پہ آکر کھیل میں شریک ہونا، ان کی باتوں میں دلچسپی لینا،اپنے بچوں کے ساتھ کھیل میں مقابلہ کرنا، کبھی جیت کر، کبھی بچوں سے ہار کر، دونوں کیفیات میں صحیح طرزِ عمل کی تلقین سے کھیل ہی کھیل میں بچوں کی جذباتی تربیت کے ساتھ ساتھ کئی غلطیوں کی اصلاح ہو گی۔ اگر صبح یا شام کے وقت بچے باقاعدہ کھیل کے میدان میں جا کر کھیل سکیں تو یہ بہت مفید سرگرمی ہو گی۔

نو عمربچوں پہ اپنے خیالات کو حاوی کرنا، اپنی پسند اور رائے کو زبردستی ٹھونسنا مناسب نہیں۔دلیل سے بات کو منوائیے۔ یہ عمر اپنی صلاحیتوں کا اظہار چاہتی ہے۔ ان سے مشورہ لینااور تحمل سے ان کا نقطہ نظر سننا ان کے اعتماد کو بڑھاتا ہے۔ کبھی ان کے مشورے اوررائے کے سامنے اپنی رائے چھوڑ بھی دینی چاہیے۔ بعض اوقات بچوں کے مشورے اور رائے کہیں بہتر ہوتے ہیں۔ ان کی نگاہ وہاں جاتی ہے جہاں بڑوں کی نگاہ نہیں جاتی۔ بچوں کے ذہن اور عمر کو مد نظر رکھ کر بھی معاملات کو جانچا جائے۔

بچوں کیساتھ صبح یا شام کو اگر کہیں ممکن ہو تو کسی پارک میں، نہر کے کنارے یا ساحلِ سمندرپہ پیدل چلنے کی عادت ڈالی جائے۔ فجر کے بعد کھلی فضا میں چہل قدمی کا لطف اٹھائیے۔کائنات کے اس وقت کا حسن خالق کائنات کے قریب کرنے کا موجب ہوگا۔ بچوں کو کائنات پہ غور و فکر کی دعوت دیجیے۔

طویل چھٹیوں میں والدین بچوں کو مختلف ہنر سکھا سکتے ہیں، مثلاً: خوش خطی، مضمون نویسی، تجوید،آرٹ کے کچھ مزید کام اور خواتین سلائی کڑھائی، کپڑوں کی مرمت، مہندی کے ڈیزائن وغیرہ سکھا سکتی ہیں۔ اپنے تجربات و مشاہدات کو آپس میں زیر بحث لایا جا سکتا ہے۔

آج ہی عزم کیجیے ۔پروگرام مرتب کیجیے ۔ چھٹیوں کے ہر دن کو ایسا بنانا ہے کہ وہ ‘گزرے کل سے بہتر ہو،’ اِک نئے جذبے سے بچوں کے ساتھ دوستی، محبت کا رشتہ استوار کیجیے۔ اپنے لیے،امت مسلمہ کے لیے، اللہ کی رضا کے لیے، اپنی آخرت سنوارنے کے لیے۔ ضروری نہیں کہ وہ سب منصوبے جو آپ بنائیں وہ پورے ہوں۔ حالات و واقعات ان میں رد و بدل کروائیں گے لیکن آپ نے اس ردّ و بدل میں بھی اپنا اصلی ٹارگٹ نہیں بھولنا۔ بچے آپ کا قیمتی خزانہ ہیں۔ان سے غافل نہیں ہونا۔

ایک بات کا خاص طور پر خیال رہے کہ نبی کریمؐ کو وہ عمل زیادہ محبوب ہے جو ثابت قدمی سے مسلسل کیا جائے۔ لہٰذافرصت کے لمحات اور چھٹیوں کے لیے جو نظام الاوقات اور تربیتی امور طے کر لیں، انھیں باقاعدگی سے انجام دیں، اور چھٹیوں کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رکھیں، تب ہی مؤثر اورنتیجہ خیز تربیت ہو سکے گی۔

مزید :

ایڈیشن 1 -